جس کی تحریریں ہی نہیں بین السطور کی خاموشیاں بھی بولتی ہیں !

فری لانسر یعنی مباحثے کا ایک انصاف پسند اسٹیج

  • ہندوستان میں جتنی جماعتیں ہیں سب اپنے اپنے پروپیگنڈوں میں جٹی ہوئی ہیں۔ اور لطیفہ یہ ہے کہ ان میں سے بیشتر دنیا بھر کا تجربہ اپنے ہی لوگوں پر کررہی ہیں۔ یعنی باتیں دوسروں کی گمراہیوں سے متعلق ہوتی ہیں مگر سنائی جاتی ہیں اپنے لوگوں کو۔ لکھا جاتا ہے مخالفین کی رد میں، پڑھ کر مزہ لیتے ہیں اپنے لوگ۔ بریلیوں کی مجلس میں ”وہابیوں“ کو گالی دی جارہی ہے تو دیوبندیوں کے اجتماعات میں بریلیوں کی گمراہیاں گنوائی جاتی ہیں۔ اور ان دونوں کی اکابر پرستی پر زور دار تقریریں ہوتی ہیں اہل حدیثوں کے جلسوں میں…سمجھ میں نہیں آتا کہ دوسروں کے لیے نسخہ تجویز کرکے یہ لوگ اپنے ہی افراد پر کیوں آزماتے ہیں؟…

اچھوت موضوعات اور ہماری گستاخیاں

  • ”فری لانسر“ کے صفحات پر کہیں کہیں آپ کو لگتا ہوگا کہ یہ کیا ڈراما ہے، کہیں کوئی مولویوں کے پیچھے پڑا ہے اور کہیں مسلک کے نام پر لے دے ہورہی ہے، کوئی قلم کاروں کا شدید محاسبہ کررہا ہے اور کسی کا قلم صرف التباسات اگل رہا ہے۔ ہم دیکھ رہے ہیں کہ لوگ ان موضوعات پر بات کرنے سے ڈرتے ہیں جو Untouchableیعنی اچھوت قرار دے دیے گئے ہیں۔ جہاں تک ہماری جانکاری ہے، اچھوت قرار دے دینے کی وجہ سے تو اب تک کوئی بھلا ہوتا نظر نہیں آرہا ہے، اس لیے ہمیں لگتا ہے کہ اب انھیں چھوکر دیکھا جانا چاہیے۔ کسے پتا کہ وہ پھنسی ہے یا پھوڑا بن چکا ہے۔

فری لانسر کی پالیسی

اچھا یہ بتائیے، کسی مسلمان کی زندگی کی کیا پالیسی ہوسکتی ہے؟… بھائی!دنیا اتنی پالیسی باز یا پالیسی ساز ہوگئی ہے کہ بلاوجہ بھی پالیسیاں وضع کرتی رہتی ہے۔ آدمی کا کوئی بچہ کسی سماجی سرگرمی کا ذمے دار بنتا ہے تو سب سے پہلے وہ پالیسیوں کی بات کرتا ہے، خواہ وہ پالیسیاں کاغذ سے آگے نہ جاپائیں۔ بلکہ بسا اوقات تو ایسا دیکھا گیا ہے کہ سال بھر پالیسی اور پالیسی ساز دونوں گدھے کی سینگ کی طرح غائب رہتے ہیں۔ اور رمضان کا استقبال اپنی مقفیٰ پالیسیوں سے اس لیے کرتے ہیں تاکہ مالوں کے میل کا مستحق بن سکیں، یا نذرانوں کی کھالیں اپنے گھروں میں اتار کر روپیوں کی چربی نکال سکیں۔ زکوٰ ةمیل نہیں تو کیا ہے؟ اور قربانی کا چمڑا؟ ؟؟ اگر لوگ ”فری لانسر“ کی پالیسیاں پوچھتے ہیں تو ہمیں نہیں لگتا کہ ان کا سوال نامعقول ہے۔ ان کا اندازہ صحیح ہوگا کہ بے شمار رسالوں کی بھیڑ میں اس”ایک اور“ کا اضافہ اگر صرف اضافہ ہوگا، تو