مرکز علم و ادب جامعہ ابو ہریرہ

نذیر اظہر کٹیہاری شعروسخن

علم کا ہے گاہوارہ اور ثقافت کا گگن

فکر و فن کا ہے یہاں پر اک سمندر موجزن


شہر الہ آباد کا معروف ہے دانش کدہ

حسنِ نظم و ضبط میں ہے منفرد سب سے جدا


ختم ہو جاتی ہے پل میں نفرتوں کی تِیرگی

پھوٹتی ہے ہر طرف شمعِ وفا کی روشنی


ہے کلام اللہ فیصل، ہر جگہ اس کا شِعار

اور نبی کے قول پر بھی ہے سدا یہ جاں نثار


ہیں یہاں علم و ادب کی خوبصورت کہکشاں

روشنی سے جن کی تابندہ ہے ہر خُرد و کَلاں


ہے ہدف سب کا یہی بس دین کی خدمات ہوں

رب کی رحمت اور برکت کی سدا برسات ہوں


گونجتی ہے دین و ایماں کی صدا ہر صح و شام

ہر کوئی پیتا یہاں ہے الفت و وحدت کا جام


طاق روشن ہے حرم کا، شمع جلتی ہے یہاں

دین کے سانچے میں ہستی خوب ڈھلتی ہے یہاں


مُلک اور بیرون میں بھی خوب اس کا نام ہے

بھائے جو قلب و جگر کو ایسا اس کا کام ہے


دعوتِ حق بر ملا دینا ہے اس کا امتیاز

اور باطل سے بغاوت، بدعتوں سے احتراز


دین کی، دنیا کی بھی تعلیم کا سنگم ہے یہ

یعنی انساں کی بھلائی، فیض کا پرچم ہے یہ


دِکھ رہا ہے آج جو علم و ادب کا یہ شجر

یہ ”فریوائی“ کی محنت اور لگن کا ہے ثمر


پھل رہا ہے یہ شجر اب اک الگ ہی شان سے

اَصل ہے مٹی میں اس کی، فرع ہے اسمان سے


دے مرے مولیٰ تو ان کو فیض سے بہتر صلہ

علمِ دِیں کی راہ میں جو کچھ بھی انھوں نے کیا


اِس گلستاں میں نہ آئے رَبَّنا فصلِ خِزاں

گل کِھلے اظہرؔ یہاں اور بلبلیں ہوں شادماں

آپ کے تبصرے

3000