خدا کسی کو کبھی گل سی کج ادائی نہ دے
صبا کی ضد پہ بھی خوش بو کو جو رہائی نہ دے
جہاں میں کوئی تجھے داد خوش نمائی نہ دے
مرے علاوہ کسی کو بھی تو دکھائی نہ دے
ترا خیال ہے کافی مجھے جلانے کو
مرے بدن پہ کہیں لمس آشنائی نہ دے
تو کیا اسے کوئی تکلیف زندگی میں نہیں
کوئی بہ وجہ تکلف اگر دہائی نہ دے
میں بچ کے آیا ہوں لڑ کر یہاں نہیں آیا
مرے ضمیر مجھے طعنہ دے بدھائی نہ دے
جو بات کہنی ہے چپ کے سے کان میں کہہ دے
مت اتنی زور سے چلا کہ پھر سنائی نہ دے
میں کوششوں کی ہر اک انتہا کو چھو آیا
جو دے رہا ہے خدا! حسب نارسائی نہ دے
امیر وقت نہ توہین علم و حکمت کر
فقیہ شہر کو تو کاسۂ گدائی نہ دے
پتا ہے خوب محبت کی انتہا اے حسن
تو روز روز مجھے درس بے وفائی نہ دے



آپ کے تبصرے