کیا کریں گے جو سکوں پایا نہ غمخوار کے بعد

حمود حسن فضل حق مبارکپوری شعروسخن

دیکھتا تھا نہ میں اس حسن کو اغیار کے بعد

دل نہ آنا تھا پر آیا بڑے اصرار کے بعد


خوشبوئے خوں سے کھنچے آتے تھے بلبل بھی وہیں

ہاتھ رکھتا تھا جہاں بھی گل پر خار کے بعد


روشنی رخ کے تئیں دیتی تھی پیغام‌ سحر

شمع شب بھر نہ جلی حسرت دیدار کے بعد


ایک نا‌دیدہ سا منظر تھا میں دنیا میں کہیں

پھر نمودار ہوا ہجر کے آثار کے بعد


آب ہو، ابر ہو، صرصر ہو یا انسان کوئی

نیند غالب ہے سبھی پر غم بیدار کے بعد


ناصحا! ٹھیک ہے غم خوار ضروری ہے مگر

کیا کریں گے جو سکوں پایا نہ غمخوار کے بعد


دستک مرگ سے کھل جاتا ہے دروازۂ شوق

سخت ہے منتظری فیصلۂ دار کے بعد


چہرۂ سنگ پہ بوسے کی چمک زندہ ہے

اس کو چوما تھا‌ حسن حاصل آزار کے بعد

آپ کے تبصرے

3000