سنت سے تمسک اور بدعت سے اجتناب دین کی اساس ہے۔ جس طرح بدعت اور اہل بدعت سے قربت ناجائز اور خطرناک ہے، اسی طرح کوئی عمل اگر شرعی دلائل کی روشنی میں جائز ہو، اس پر بدعت کا حکم لگانا بھی سنگین اور خطرناک ہے۔ سنت سے محبت اور تمسک ہمیں اس بات کی اجازت نہیں دیتا کہ کسی جائز عمل پر عدم جواز یا بدعت کا حکم لگائیں۔
مشہور تابعی عبید بن فیروز رحمہ اللہ نے جب براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے سوال کیا کہ کس کس قسم کے معیوب جانوروں کی قربانی جائز نہیں۔ تو براء بن عازب رضی اللہ عنہا نے کہا کہ اللہ کے رسول نے صرف چار عیوب کا تذکرہ ہے: ایسا اندھا جانور جس کا اندھا پن واضح ہو، ایسا بیمار جس کی بیماری واضح ہو، ایسا لنگڑا جانور جس کا لنگڑا پن واضح ہو، اور ایسا دبلا پتلا جانور جس کے جسم میں گوشت نہ ہو۔ تو عبید بن فیروز نے کہا کہ اگر سینگ میں عیب ہو تو ایسا جانور بھی مجھے پسند نہیں۔ اس پر صحابی رسول براء بن عازب رضی اللہ عنہ نے انھیں نہایت ہی اہم سبق سکھاتے ہوئے فرمایا: «ما كرهت فدعه، ولا تحرمه على أحد»
آپ کو جو نا پسند ہو اسے ترک کر دیں، لیکن کسی پر اسے حرام نہ کریں۔ (سنن ابی داود، 2802 بسند صحیح)
براء بن عازب رضی اللہ عنہ کا یہ جملہ ہمیں بہت اہم سبق سکھاتا ہے کہ غیرت ایمانی ہمیں اس بات کی اجازت نہیں دیتا کہ اپنی طرف سے ایک حلال اور جائز چیز پر عدم جواز کا حکم لگائیں۔
لیلۃ القدر میں جاگ کر عبادت میں مشغول رہنا شرعا مقصود ومطلوب ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «تحروا ليلة القدر في العشر الأواخر من رمضان» (صحیح البخاری 2020)
لیکن کیسے یہ رات عبادت میں گزاری جائے سنت رسول کی روشنی میں اسے حل کرنا بھی ضروری ہے۔
ہر مسلمان کی خواہش ہے کہ سنت کے مطابق لیلۃ القدر میں عبادت کی جائے تاکہ اس رات میں عبادت کی عظیم فضیلت اسے حاصل ہو سکے۔ اسی مقصد کے تحت ہم نے کتب حدیث میں ان عبادتوں کو تلاشنا شروع کیا جو لیلۃ القدر میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہیں۔ اس جستجو میں ہمیں جو احادیث ملیں وہ درج ذیل ہیں:
1 – «من قام ليلة القدر إيمانا واحتسابا، غفر له ما تقدم من ذنبه» (صحيح البخاري ح 1901)
(جو ایمان اور نیکی کی امید سے لیلۃ القدر میں قیام کرے اس کے سابقہ گناہ بخش دیے جاتے ہیں)
قیام کا مطلب ہے عشاء وفجر کے مابین رات کو نماز پڑھنا۔
یہ حدیث بالکل صریح ہے کہ قیام اللیل لیلۃ القدر کی خصوصی عبادت ہے۔ اس لیے قیام اللیل کے لیلۃ القدر کی خصوصی عبادت ہونے میں ذرہ برابر بھی کوئی شک وشبہ نہیں۔
2 – ابو ذر غفاری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: قُمْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةَ ثَلَاثٍ وَعِشْرِينَ فِي شَهْرِ رَمَضَانَ، إِلَى ثُلُثِ اللَّيْلِ الْأَوَّلِ، ثُمَّ قَالَ: “لَا أَحْسَبُ مَا تَطْلُبُونَ إِلَّا وَرَاءَكُمْ” ثُمَّ قُمْنَا مَعَهُ لَيْلَةَ خَمْسٍ وَعِشْرِينَ إِلَى نِصْفِ اللَّيْلِ، ثُمَّ قَالَ: “لَا أُحْسَبُ مَا تَطْلُبُونَ إِلَّا وَرَاءَكُمْ” فَقُمْنَا مَعَهُ لَيْلَةَ سَبْعٍ وَعِشْرِينَ حَتَّى أَصْبَحَ وَسَكَتَ۔ (مسند أحمد 35/ 447، ح21566)
یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ قدر کی تین راتوں میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام کے ساتھ باجماعت قیام کیا۔
23 ویں رات صرف رات کے پہلے ایک تہائی حصے تک ہی یہ نماز جاری رہی۔ 25 ویں شب کو بھی باجماعت قیام کیا، اور صرف نصف شب تک یہ نماز جاری رہی۔ البتہ 27 ویں شب آپ نے تقریبا پوری رات قیام کیا۔ یہاں تک کہ دوسری روایتوں میں ملتا ہے کہ صحابہ کرام کو خوف لاحق ہوا کہیں آج سحری بھی فوت نہ ہو جائے۔
اس حدیث میں یا کسی دوسری حدیث میں ایسا کوئی اشارہ نہیں ملتا کہ جس 23 ویں شب آپ نے اور آپ کے صحابہ نے صرف ثلث اللیل تک ہی قیام کیا، یا 25 ویں شب صرف نصف شب تک قیام کیا ان دونوں راتوں کے باقی اوقات میں کون کون سی عبادات انجام دیں۔
اس بارے میں شرعی مصادر بالکل خاموش ہیں۔ والعلم عند اللہ تعالی۔
اس بات کا تو تذکرہ ملتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اہل وعیال پوری رات جاگ کر گزارتے تھے، صحيح البخاري (3/ 47) میں ہے: «كان النبي صلى الله عليه وسلم إذا دخل العشر شد مئزره، وأحيا ليله، وأيقظ أهله»
لیکن تئیسویں وپچیسویں شب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رات کا اکثر حصہ کن کن عبادتوں میں گزارا اس کا کوئی تذکرہ نہیں ملتا۔
اب ایک متبع سنت اگر آدھی رات سے پہلے ہی قیام ختم کر دیتا ہے جیسے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے 23 ویں شب خود ایسا کیا تھا، تو اب باقی رات وہ کیسے گزارے؟
کیا ایسے ہی بیٹھے بیٹھے رات بھر بس جاگتا رہے؟
ظاہر ہے اس کا کوئی قائل نہیں، اور نہ کسی عالم دین سے ایسے مشورے کی توقع ہی کی جا سکتی ہے۔
شریعت نے رات بھر جاگنے اور عبادت کرنے کی تو بات کی، لیکن کس عبادت میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ نے باقی رات گزاری اسے بیان نہیں کیا۔ کسی بھول چوک کی بنا پر نہیں، بلکہ ہم امتیوں پر رحم کرتے ہوئے اس کی تحدید نہیں کی۔ اسی کو شرعی وسعت کہتے ہیں۔ شریعت کی طرف سے اس میں وسعت رکھی گئی کہ کسی بھی مناسب عبادت میں اب باقی رات گزاری جا سکتی ہے۔ لیکن جس عبادت میں بھی باقی رات گزارے گا وہ لیلۃ القدر کی خاص عبادت نہیں ہوگی۔ اگر کبھی اس عبادت کو چھوڑ دے تو یہ نہیں کہا جائے گا کہ آج لیلۃ القدر کی فلاں عبادت چھوڑ دی گئی۔
ظاہر ہے کہ 23 ویں شب جاگ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام نے جو بھی عبادتیں انجام دی ہوں گی 27 ویں شب وہ عبادتیں انجام نہیں دیں، کیونکہ اس رات تقریبا پوری رات قیام میں ہی گزار دیا یہاں تک کہ صحابہ کرام کو خوف لاحق ہو گیا کہ کہیں آج سحری ہی فوت نہ ہو جائے۔
یعنی قیام کے علاوہ جو بھی عبادتیں ہیں وہ انجام بھی دی جا سکتی ہیں، اور چھوڑی بھی جا سکتی ہیں، کیونکہ وہ لیلۃ القدر کی عام عبادتیں ہیں، خاص عبادت نہیں۔
اور ان عمومی عبادتوں میں جہاں تلاوت قرآن، دعا، تسبیح وتہلیل، توبہ واستغفار وغیرہ شامل ہیں، وہیں درس وتقریر بھی شامل ہے۔ اسے خارج کرنے کی کوئی دلیل نہیں۔
شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ سے سوال کیا گیا کہ آخرے عشرے میں آپ کے دروس میں شرکت کرنا زیادہ سنت کے موافق ہوگا یا عبادت اور ذکر کے لیے الگ تھلگ رہنا؟
تو آپ نے جواب میں فرمایا:
الذي أرى أن يفعل الإنسان ما هو أصلح لقلبه، والناس يختلفون، فقد يكون حضوره درس العلم يؤدي إلى غفلته وشرود قلبه وذهنه عن العبادة، فيكون حصره نفسه في العبادة أفضل وأولى … .
وقد يكون بالعكس، قد يكون حضوره يزيده إيمانا ومعرفة بحكم الله ورسوله، وقد يكون فرصة التعلم لا تواتيه في كل وقت فيحرص على طلب العلم، وتكون العبادة نفعها خاص، وطلب العلم نفعه عام، فيكون طلب العلم أفضل، ولا شك أنه إذا تساوى الأمران لا شك أن طلب العلم أفضل، لأن طلب العلم نوع من الجهاد في سبيل الله، والعبادة مثل الذكر وقراءة القرآن والصلاة هي عبادة خاصة، والعبادة العامة أفضل، حتى قال الإمام أحمد رحمه الله : ” العلم لا يعدله شيء لمن صحت نيته “.
وأقول: إن شاء الله إذا تمكن من الحضور في هذه الساعة الوجيزة وعنده بقية الليل والنهار فيكون هذا في نظري أفضل لا سيما إذا كان يستفيد علميا من الحضور في مجالس العلم.
(العلامة محمد بن صالح العثيمين رحمه الله، فتاوى الحرم المكي)
خود شیخ ابن عثیمین رحمہ اللہ اپنی وفات تک آخری عشرے میں بعد تراویح ہر رات درس دیا کرتے تھے۔ بلکہ آخری عشرے میں بعد تراویح اس درس کے آپ حد درجہ حریص تھے۔
یہی عمل ہم نے استاد محترم شیخ سلیمان الرحیلی حفظہ اللہ کا بھی پایا۔ مدینہ طیبہ میں میرا جو آخری رمضان 1444 ھ کا گزرا اس سال بھی طاق راتوں میں بعد تراویح آپ کے دروس ہوا کرتے تھے۔
اور ہم سب اچھی طرح جانتے ہیں کہ شیخ اصولی ہونے کے ساتھ ساتھ منہج سلف پر چلنے کے کتنے حریص ہیں۔ شیخ سے یہی حسن ظن ہے کہ اگر اس عمل میں بدعت کا شائبہ بھی ہوتا تو آپ اس کے لیے راضی نہ ہوتے۔
3 – عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَرَأَيْتَ إِنْ وَافَقْتُ لَيْلَةَ الْقَدْرِ، مَا أَدْعُو؟ قَالَ: “تَقُولِينَ: اللَّهُمَّ إِنَّكَ عَفُوٌّ تُحِبُّ الْعَفْوَ فَاعْفُ عَنِّي”۔ (سنن ابن ماجہ 3850)
اس حدیث کے ثبوت کے بارے میں علما کے مابین اختلاف ہے۔ بعض اسے ثابت مانتے ہیں، اور بعض عبد اللہ بن بریدہ اور اماں عائشہ کے مابین انقطاع کی بنا پر ضعیف۔
اگر اس حدیث کو ثابت مانا جائے تو یہ حدیث لیلۃ القدر کی ایک خصوصی عبادت پر دلالت کرتی ہے، اور وہ یہ ہے کہ لیلۃ القدر میں یہ دعا پڑھی جائے۔
لیکں واضح رہے کہ اس حدیث سے صرف اس دعا کا ثبوت فراہم ہوتا ہے، عمومی دعاؤوں کا نہیں۔ اس حدیث میں کہیں بھی یہ اشارہ نہیں ہے کہ کوئی بھی دعا لیلۃ القدر میں پڑھی جائے۔
مثلا: کھانا کھانے کے بعد یا کھانا کھانے سے پہلے، مسجد میں داخل ہوتے یا نکلتے وقت، جماع سے قبل، وضو کے بعد، اور بے شمار اوقات میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے خاص دعائیں ثابت ہیں، ان احادیث سے کوئی یہ اخذ نہیں کرتا کہ دوسری عام دعائیں بھی اس خاص دعا کے ضمن میں داخل ہیں۔
لہذا اللھم انک عفو والی حدیث بھی اس بات پر دلالت نہیں کرتی کہ اس دعا کے ضمن میں دوسری تمام عام دعائیں بھی داخل ہیں۔ یہ حدیث لیلۃ القدر میں صرف اس دعا کی خصوصیت پر دلالت کرتی ہے، دوسری عام دعاؤوں کے جواز پر نہیں۔
اس کا مطلب یہ نہیں کہ دوسری عام دعاؤوں کو ہم نا جائز یا بدعت کہہ رہے ہیں۔ بس یہ کہنا ہے کہ لیلۃ القدر میں دوسری عام دعاؤوں کے لیے صراحت کے ساتھ ہمیں کوئی حدیث نہیں مل سکی جس طرح قیام اللیل اور اللھم انک عفو کے لیے صراحت کے ساتھ حدیث موجود ہے۔
4 – ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يجاور في رمضان العشر التي في وسط الشهر، فإذا كان حين يمسي من عشرين ليلة تمضي، ويستقبل إحدى وعشرين رجع إلى مسكنه، ورجع من كان يجاور معه، وأنه أقام في شهرٍ جاوَرَ فيه الليلةَ التي كان يرجع فيها، فخطب الناس، فأمرهم ما شاء الله، ثم قال: «كنت أجاور هذه العشر، ثم قد بدا لي أن أجاور هذه العشر الأواخر، فمن كان اعتكف معي فليثبت في معتكفه، وقد أريت هذه الليلة، ثم أنسيتها، فابتغوها في العشر الأواخر، وابتغوها في كل وتر، وقد رأيتني أسجد في ماء وطين»، فاستهلت السماء في تلك الليلة فأمطرت، فوكف المسجد في مصلى النبي صلى الله عليه وسلم ليلة إحدى وعشرين، فبصرت عيني رسول الله صلى الله عليه وسلم، ونظرت إليه [ص:47] انصرف من الصبح ووجهه ممتلئ طينا وماء۔
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رمضان کے اس عشرہ میں اعتکاف کیا کرتے جو مہینے کے بیج میں پڑتا ہے۔ بیس راتوں کے گزر جانے کے بعد جب اکیسویں تاریخ کی رات آتی تو شام کو آپ گھر واپس آ جاتے۔ جو لوگ آپ کے ساتھ اعتکاف میں ہوتے وہ بھی اپنے گھروں میں واپس آ جاتے۔ ایک رمضان میں آپ جب اعتکاف کیے ہوئے تھے تو اس رات میں بھی (مسجد ہی میں) مقیم رہے جس میں آپ کی عادت گھر آ جانے کی تھی، پھر آپ نے لوگوں کو خطبہ دیا اور جو کچھ اللہ پاک نے چاہا، آپ نے لوگوں کو اس کا حکم دیا، پھر فرمایا کہ میں اس (دوسرے) عشرہ میں اعتکاف کیا کرتا تھا، لیکن اب مجھ پر یہ ظاہر ہوا کہ اب اس آخری عشرہ میں مجھے اعتکاف کرنا چاہیے۔ اس لیے جس نے میرے ساتھ اعتکاف کیا ہے وہ اپنے معتکف ہی میں ٹھہرا رہے اور مجھے یہ رات (شب قدر) دکھائی گئی لیکن پھر بھلوا دی گئی۔ اس لیے تم لوگ اسے آخری عشرہ (کی طاق راتوں) میں تلاش کرو۔ میں نے (خواب میں) اپنے کو دیکھا کہ اس رات کیچڑ میں سجدہ کر رہا ہوں۔ پھر اس رات آسمان پر ابر ہوا اور بارش برسی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے نماز پڑھنے کی جگہ (چھت سے) پانی ٹپکنے لگا۔ یہ اکیسویں کی رات کا ذکر ہے۔ میں نے خود اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم صبح کی نماز کے بعد واپس ہو رہے تھے۔ اور آپ کے چہرہ مبارک پر کیچڑ لگی ہوئی تھی۔ (یہ ترجمہ مولانا داود راز کے ترجمہ بخاری سے لیا گیا ہے)
یہ حدیث متفق علیہ ہے۔ (دیکھیں: صحیح بخاری 2018، وصحیح مسلم (2/ 824) 213 – (1167)
اس متفق علیہ حدیث میں صاف الفاظ میں موجود ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اکیسویں رات کو صحابہ کرام کے سامنے خطبہ دیا، ”فخطب الناس، فأمرهم ما شاء الله، ثم قال: «كنت أجاور هذه العشر، الخ “ کا لفظ اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ اکیسویں تاریخ کی رات کو آپ نے خطبہ دیا، اور اس میں صرف اعتکاف کے لیے رکنے کی بات نہیں کی، بلکہ دوسرے امور کے بارے بھی بیان کیا۔
محمد الامین الہرری الشافعی صحیح مسلم کی شرح ” الکوکب الوھاج“ میں اس جملہ کی شرح میں فرماتے ہیں:
(تلك الليلة التي كان يرجع فيها) إلى مسكنه وهي الليلة الحادية والعشرون (فخطب الناس) في بداية تلك الليلة أي ذكرهم بالترغيب والترهيب (فأمرهم) في تلك الخطبة (بما شاء الله) سبحانه الأمر به من المعروف والاجتهاد بالعبادة في العشر الأخير ۔ (الكوكب الوهاج شرح صحيح مسلم لمحمد الأمين بن عبد الله الهَرَري الشافعي (13/ 203)
لہذا یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ لیلۃ القدر میں درس و تقریر کی جا سکتی ہے۔ اکیسویں تاریخ کی رات کو خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ عمل ثابت ہے۔ لہذا اس پر اعتراض کرنا درست نہیں۔ واللہ اعلم وعلمہ اتم واحکم۔
واضح رہے کہ صحیح بخاری (2016) کی ایک روایت میں ”فخرج صبيحة عشرين فخطبنا“ کے الفاظ ہیں، اس سے کوئی یہ نہ سمجھے کہ یہ خطبہ رات کو نہیں صبح کو دیا تھا۔ اس روایت کی توجیہ علما نے یہ کی ہے کہ صبح کے وقت ہی نبی صلی اللہ علیہ وسلم اعتکاف سے نہیں نکل گئے تھے، کیونکہ یہ اعتکاف سے نکلنے کا وقت نہیں ہے، اعتکاف سے نکلنے کا وقت سورج غروب ہونے کے بعد اکیسویں کی رات کو ہے۔ یہاں خروج سے مراد یا تو قبہ کو نکالنا ہے، یا ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہونا ہے۔ (دیکھیں: التوضیح لابن الملقن 13/603)
اس کی تائید صحیح بخاری (ح2040) کی ہی ایک دوسری روایت سے ہوتی ہے جس کے الفاظ ہیں: ”فلما كان صبيحة عشرين نقلنا متاعنا“۔
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ فتح الباري لابن حجر (4/ 283) میں اس روایت کی شرح میں امام مہلب بن ابی صفرہ رحمہ اللہ کا موقف نقل کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ”حَمَلَهُ الْمُهَلَّبُ عَلَى نَقْلِ أَثْقَالِهِمْ وَمَا يَحْتَاجُونَ إِلَيْهِ مِنْ آلَةِ الْأَكْلِ وَالشُّرْبِ وَالنَّوْمِ إِذْ لَا حَاجَةَ لَهُمْ بِهَا فِي ذَلِكَ الْيَوْمِ فَإِذَا كَانَ الْمَسَاءُ خَرَجُوا خِفَافًا وَلِذَلِكَ قَالَ نَقَلْنَا مَتَاعَنَا وَلَمْ يَقُلْ خَرَجْنَا“۔
یعنی کوئی اس روایت سے یہ نہ سمجھے کہ صحابہ کرام صبح کو ہی نکل گئے تھے، اور صبح کو ہی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ خطاب کیا تھا۔
جب کہ بعض علما نے اسے تعدد واقعہ پر محمول کیا ہے۔ (دیکھیں: المنهل العذب المورود شرح سنن أبي داود (7/ 329)
بہرحال صحیحین کی روایت بالکل صریح ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اکیسویں تاریخ کی رات کو صحابہ کرام کو خطاب کیا تھا، اور اس خطاب میں اعتکاف اور لیلۃ القدر کا مسئلہ بیان کرنے کے علاوہ اور بھی امور دین کے احکام ومسائل کے بارے ان کی رہنمائی کی تھی۔
خلاصۂ کلام یہ کہ مذکورہ احادیث کی روشنی میں یہ بات کہی جا سکتی ہے کہ قیام کے بعد باقی بچے ہوئے اوقات میں کوئی بھی مناسب عبادت انجام دی جا سکتی ہے، چاہے وہ تسبیح وتہلیل ہو، تلاوت قرآن ہو، کسی دینی کتاب کا مطالعہ ہو، کسی علمی مسئلہ کی تحقیق ہو، ماجستیر ودکتوراہ کا رسالہ لکھنا ہو یا درس وتقریر وغیرہ۔ ان میں سے یا ان کے علاوہ کسی بھی عمل کے لیے الگ سے کسی خاص دلیل کی ضرورت نہیں ہے۔ اگر چوتھی حدیث (یعنی ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کی متفق علیہ والی حدیث) نہ بھی ہوتی تب بھی درس وتقریر جائز امر تھا، کیونکہ اگر مذکورہ اعمال وغیرہا کے لیے خاص دلیل کا مطالبہ کیا گیا تو باقی اوقات کو بلا عمل یونہی جاگ کر ضائع کرنے کے علاوہ کوئی راستہ نہ بچے گا، کیونکہ کسی بھی دوسرے عمل کے لیے خاص دلیل موجود نہیں ہے۔
دلچسپ پہلو یہ ہے کہ جو لوگ درس وتقریر کو باقی رات میں ناجائز یا بدعت کہتے ہیں وہ قیام کے علاوہ دوسری عبادتوں پر یہی حکم نہیں لگاتے، حالانکہ دوسری عبادتوں کے لیے الگ سے کوئی خاص دلیل موجود نہیں ہے۔ اسے تضاد اور تناقض نہ کہا جائے تو کیا کہا جائے؟
شریعت میں بہت سارے مسائل ایسے ہیں جہاں عبادت کی ترغیب تو ہے لیکن شارع کی طرف سے تفصیل اور تحدید نہیں کہ صرف فلاں فلاں عبادت ہی انجام دی جا سکتی ہے۔ ایسی جگہوں پر وسعت کو تنگ کرنا شارع کے مقصد کے خلاف ہے۔
مثلا: ایام تشریق کھانے پینے اور ذکر الہی کے ایام ہیں۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”أَيَّام التَّشْرِيق أَيَّام أكل وَشرب وَذكر لله“ رَوَاهُ مُسلم 144 – (1141)
یہاں ذکر کے عموم میں دوسری عبادتوں کے ساتھ درس وتقریر بھی شامل ہے۔ ہم سب جانتے ہیں کہ ایام تشریق میں مسجد خیف میں ہر نماز کے بعد کبار علما کے دروس چلتے رہتے ہیں۔ میں خود اس طرح کے بے شمار دروس میں شرکت کر چکا ہوں، وللہ الحمد۔ کیا ان دروس پر بھی بدعت کا حکم لگے گا؟ کیونکہ ان ایام میں درس وتقریر نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام سے ثابت نہیں۔
مجھے ایک بھی ایسے عالم دین کے بارے میں نہیں پتہ جنھوں نے ایام تشریق میں مسجد خیف کے ان دروس کو نا جائز یا بدعت کہا ہو۔ جب کہ اس کے بر عکس ان دروس میں شرکت کرنے والے کبار علما ہوتے ہیں جو سلفیت کے اعلام ورموز کے طور پر جانے اور پہچانے جاتے ہیں۔ اگر اس طرح کا عمل بدعت کے دائرے میں آتا تو یہ علما قطعا اسے اختیار نہ کرتے۔
جس طرح لیلۃ القدر میں ”أحیا لیلہ“ کا لفظ آیا ہے، اور احیائے لیل کی تفصیل نہیں آئی ہے، اسی طرح ایام تشریق میں بھی ”أَيَّام التَّشْرِيق أَيَّام أكل وَشرب وَذكر لله“ رَوَاهُ مُسلم 144 – (1141) کا لفظ ملتا ہے لیکن ذکر کی تفصیل نہیں ملتی۔ لہذا جس طرح ذکر میں درس وتقریر شامل ہے، اسی طرح احیائے لیل کی عبادتوں میں بھی درس وتقریر شامل ہے۔ اسے خارج کرنے کی کوئی دلیل نہیں۔
اسی طرح عشرہ ذی الحجہ میں بھی دروس کا مسئلہ ہے۔ جس طرح رمضان کے آخری عشرے کی فضیلت ہے اسی طرح عشرہ ذی الحجہ کی فضیلت میں حدیث کے الفاظ بالکل واضح ہیں۔
مَا مِنْ أَيَّامٍ العَمَلُ الصَّالِحُ فِيهِنَّ أَحَبُّ إِلَى اللهِ مِنْ هَذِهِ الأَيَّامِ العَشْرِ، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ، وَلاَ الجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللهِ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وَلاَ الجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللهِ، إِلاَّ رَجُلٌ خَرَجَ بِنَفْسِهِ وَمَالِهِ فَلَمْ يَرْجِعْ مِنْ ذَلِكَ بِشَيْءٍ. (سنن الترمذي 2/ 122)
کیا عشرہ ذی الحجہ میں بھی درس وتقریر کو صرف اس لیے نا جائز یا بدعت کہا جائے گا کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام سے خصوصیت کے ساتھ ان ایام میں درس وتقریر ثابت نہیں؟
ہم نے آج تک کسی سلفی عالم سے ایسا فتوی نہیں سنا۔ بلکہ اس کے بر عکس آج کے دور کے جو علما سلفیت کے رموز کے طور پر جانے جاتے ہیں حرمین شریفین میں عشرہ ذی الحجہ میں ان کے دروس خوب زور وشور سے چلتے رہتے ہیں۔
لہذا شریعت کی جانب سے ہی جہاں وسعت موجود ہے وہاں تنگی پیدا کرنا مناسب نہیں۔
تمسک بالسنہ یقینا قابل قدر پہلو ہے، لیکن اس طرف بھی ہماری توجہ ہونی چاہیے کہ کہیں کسی جائز چیز پر ہم عدم جواز کا حکم نہ لگا بیٹھیں۔
بعض اشکالات اور ان کا ازالہ
طاق راتوں میں درس وتقریر پر ہمارے بعض فاضل مشایخ بعض مشہور بدعات کو بطور مثال پیش کر رہے ہیں اور انھیں طاق راتوں میں درس وتقریر کے مشابہ اور مماثل قرار دے رہے ہیں جو در حقیقت طاق راتوں میں درس وتقریر والے عمل کے بالکل بھی مشابہ نہیں ہیں۔ دونوں میں بنیادی فرق یہ ہے کہ طاق راتوں میں عبادت کرنے کا حکم شریعت نے ہی دیا ہے، لیکن قیام اللیل کے بعد باقی بچے اوقات میں کون کون سی عبادت کی جائے اس کی تخصیص نہیں کی ہے۔ بلکہ اس میں وسعت رکھی ہے جس کی تفصیل اوپر مضمون میں بیان کی گئی۔
اور جن بدعات کا حوالہ دیا جا رہا ہے یا تو ان اوقات میں سرے سے شریعت نے عبادت کا حکم ہی نہیں دیا ہے، یا کسی خاص عبادت کی کمیت یا کیفیت اور ماہیت میں تبدیلی کی بعض لوگوں کی طرف سے کوشش کی جاتی ہے اس لیے علما نے انھیں بدعت کہا ہے۔ اور طاق راتوں میں یہ بنیادی چیز مفقود ہے۔
اگر ہمارے مشایخ اس بنیادی نکتے پر ٹھنڈے دماغ سے غور کرلیں توان شاء اللہ تمام اشکالات رفع ہو جائیں گے۔
مثلا کہا جاتا ہے کہ جب عمومی دلائل سے طاق راتوں میں تقریر کرنا جائز ہو سکتا ہے تو انہی عمومی دلائل کی بنیاد پر بارہ ربیع الاول میں سیرت النبی پر کانفرس منعقد کرنا یا تقریر کرنا درست کیوں نہیں ہوسکتا؟
جس کے جواب میں کہا جائے گا کہ دونوں عمل میں بنیادی فرق وہی ہے جس کا ابھی اوپر تذکرہ کیا گیا۔ بارہ ربیع الاول کو الگ سے شریعت نے عبادتوں میں گزارنے کا ہمیں حکم نہیں دیا کہ اس دن کون کون سی عبادت انجام دی جائے یہ ہم تلاشنے جائیں۔ جب کہ لیلۃ القدر میں پوری رات جاگنے اور عبادت کرنے کا حکم دیا ہے، لیکن 23 ویں شب کو صرف ایک تہائی رات تک ہی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے عمل سے عبادت کی تفصیل بیان کی، باقی رات عبادت کون سی عبادت انجام دی جائے یہ تفصیل اپنے قول یا عمل سے بیان نہیں کی۔ جس سے پتہ چلا کہ اس میں وسعت ہے، اور یہ لوگوں کی صوابدید پر ہے، وہ جس عبادت کو لیلۃ القدر کی مخصوص عبادت نہ سمجھ کر انجام دینا چاہیں دے سکتے ہیں۔
اس لیے دونوں کو ایک کہنا درست نہیں ہے۔
ایک اور اشکال یہ پیش کیا جاتا ہے کہ ایک شخص ہر چار رکعت تراویح کے بعد یومیہ عوام کی دینی مصلحت کی خاطر درس کا اہتمام کرتا ہے اس کا کیا حکم ہے؟
ایک دوسرا شخص عشاء کی نماز کے بعد اور تراویح سے قبل درس کا یومیہ اہتمام کرتا ہے اس کا کیا حکم ہے؟
جس کے جواب میں کہا جائے گا کہ:
اس کا وہی حکم ہے جو عشاء کی نماز اور سنت راتبہ کے مابین درس کا حکم ہے۔
یا عشاء کی اذان اور جماعت کے مابین درس کا حکم ہے۔
ہر ہفتے اتوار کے دن مغرب وعشاء کے درمیان اہتمام کے ساتھ درس کا حکم ہے۔
یا ہر ہفتے اہتمام کے ساتھ جمعرات کے دن ٹھیک 9 بجے انجمن شروع کرنے کا حکم ہے۔
یا مدارس میں اہتمام کے ساتھ سال بھر گھنٹے اور منٹ کی تعیین کے ساتھ قرآن وحدیث کی گھنٹیاں اٹینڈ کرنے کا حکم ہے۔
یا اہتمام کے ساتھ ہر انگریزی سال کے پہلے اتوار کو کانفرنس منعقد کرنے کا حکم ہے۔
شیخ جیزانی نے قواعد معرفۃ البدع / معیار البدعہ میں اس اصول کو بیان کیا ہے۔
اگر وہ اس وقت یا دن وتاریخ کو درس یا انجمن یا کانفرنس کے لیے سنت/ مشروع سمجھتا ہو، یا لوگوں میں یہی شبہہ عام ہو جائے کہ یہ عبادت اسی طرح انجام دی جاتی ہے تو جائز نہیں، لیکن اپنی یا لوگوں کی سہولت کے لیے اس نے اس وقت یا دن کا اختیار کیا ہے تو کوئی حرج نہیں۔
اس سلسلے میں شیخ البانی اور شیخ ابن عثیمین رحمہما اللہ کے فتؤوں کو اسی ضمن میں دیکھا جائے گا، جنھوں نے دوران ترایح درس کو خلاف سنت کہا ہے۔ یعنی اگر کوئی اسے مشروع سمجھتا ہے یا لوگوں میں یہی شبہہ عام ہو جائے کہ یہ عبادت اسی طرح انجام دی جاتی ہے تو جائز نہیں ہوگا، لیکن اگر مشروع نہیں سمجھتا اور اپنی یا لوگوں کی سہولت کے لیے اس نے اس وقت کو اختیار کیا ہے تو کوئی حرج نہیں۔
اس طرح کے اعمال (یعنی وقت/ دن/ تاریخ کی تعیین کے ساتھ کوئی عمل کرنے) میں نیت کا بہت بڑا دخل ہوتا ہے، اور اسی حساب سے حکم لگتا ہے۔
مثلا: اگر کوئی شب برات منانے کے لیے پندرہویں شعبان کا روزہ رکھے تو بدعت ہے، لیکن کوئی ایام بیض کے روزے کے طور پر اس دن روزے سے ہو تو کوئی حرج نہیں۔ گرچہ عمل ایک ہی ہے لیکن دونوں کی نیت چونکہ الگ ہے اس لیے حکم بھی الگ ہے۔
اگر کہیں وقت یا دن کی تعیین کی وجہ سے بدعت یا بدعتیوں سے مشابہت کا شبہہ پیدا ہو تو علما ایسے حالات میں بسا اوقات سد باب کے طور پر بھی ایسے عمل سے روکتے ہیں۔ یعنی فی نفسہ وہ عمل جائز ہوتا ہے لیکن حالات کے مد نظر سد باب کے طور پر منع کرتے ہیں۔ شیخین کے فتؤوں کو اس نظریے سے بھی دیکھا جا سکتا ہے۔
وقس بقیۃ الاشکالات علی ہذا۔
ایک اہم تنبیہ:
چونکہ لیلۃ القدر کی اصل عبادت قیام اللیل ہے جیسا کہ مضمون کے شروع میں گزرا۔ اور سلف صالحین نے قیام اللیل کی احادیث سے یہی سمجھا ہے کہ گیارہ رکعت سے بھی زیادہ کوئی عام نفلی نمازیں پڑھنا چاہے تو اس کی گنجائش ہے۔
ہم یہ مانتے ہیں کہ فہم سلف حجت ہے۔ کتاب وسنت کے نصوص کا وہی فہم معتبر ہے جو ہمارے اسلاف نے سمجھا ہے، بعد والوں نے نہیں۔ اور ماہ رمضان میں قیام اللیل کے متعلق ہمیں سلف صالحین کا ایک بھی ایسا قول نہیں ملا کہ گیارہ رکعت سے زیادہ قیام اللیل بدعت یا نا جائز ہے۔ لہذا اسے علی الاطلاق بدعت کہنا ہم فہم سلف کے خلاف سمجھتے ہیں۔ ہاں اگر کوئی بیس رکعت یا اور کسی تعداد کو خاص کر لے تو یہ بدعت ہے کیونکہ اس تخصیص کی کوئی دلیل نہیں۔
اگر کوئی گیارہ رکعت کے بعد عام نفلی نمازیں پڑھنا بھی بدعت کہے تو انھیں اس بارے میں فہم سلف کی طرف ضرور رجوع کرنا چاہیے۔
اس پر ایک اشکال یہ پیش کیا جاتا ہے کہ تین طلاق کے مسئلہ میں بھی سلف کا فہم یہ ہے کہ ایک مجلس کی تین طلاق تین واقع ہو جاتی ہے پھر آپ تین طلاق کے مسئلہ میں فہم سلف کو حجت کیوں نہیں مانتے؟
جس پر ہمارا کہنا ہے کہ واللہ اگر طلاق ثلاثہ والے مسئلہ میں بھی سلف صالحین کا متفقہ فہم ہوتا کہ وہ ایک مجلس کی تین طلاق کو تین سمجھتے ہیں تو اس سے روگردانی کرنا ہم جائز نہیں سمجھتے، لیکن طلاق ثلاثہ والے مسئلہ کی نوعیت بالکل الگ ہے۔ قطعا دونوں مسئلوں کی نوعیت وماہیت ایک نہیں ہے۔
طلاق ثلاثہ والے مسئلہ میں سلف کی ایک جماعت کا موقف یہ ہے کہ ایک مجلس کی تین طلاق ایک ہی ہوتی ہے، تین نہیں۔ تفصیل کے لیے دیکھیں جامعہ اسلامیہ مدینہ طیبہ کے استاد دکتور سلیمان بن عبد اللہ بن عمیر کی کتاب ”تسمية المفتين بأن الطلاق الثلاث بلفظ واحد طلقة واحدة“۔ اس کتاب میں شیخ نے خیر القرون کی ایک جماعت سے با حوالہ نقل کیا ہے کہ وہ ایک مجلس کی تین طلاق کو ایک سمجھتے تھے، تین نہیں۔ اس لیے دونوں مسئلوں کو ایک سمجھنا درست نہیں ہے۔
لہذا ہماری کوشش یہی ہونی چاہیے کہ لیلۃ القدر میں زیادہ سے زیادہ وقت نماز میں ہی گزاری جائے۔ اگر کوئی درس وتقریر کرنا چاہے تو کوشش ہو کہ عام نمازیوں کو ڈسٹرب نہ ہو، خصوصا معتکفین کو ڈسٹرب کرنے سے پرہیز کیا جائے۔ اس لیے درس وتقریر کا دورانیہ مختصر رکھا جائے تاکہ لوگوں کو زیادہ سے زیادہ وقت نماز میں گزارنے کا موقع ملے۔
جس طرح عام عبادتوں میں درس وتقریر شامل ہے اسی طرح قرآن کی تلاوت، اس کا حفظ کرنا، استاد کو قرآن سنانا، شاگرد سے قرآن سننا، علمی مسائل کی تحقیق کرنا، تسبیح وتہلیل اور توبہ واستغفار کرنا بھی شامل ہے، بہت سارے حضرات دوسری عبادتوں کو بھی انجام دینا چاہیں گے اس لیے انھیں ان عبادتوں کو انجام دینے کے لیے وقت ملے اس لیے بھی درس وتقریر کا دورانیہ مختصر رکھنا چاہیے۔
کئی کئی مقررین کو بلا کر رات بھر اجلاس منعقد کرنا، اور اسے ایسا رنگ دیا جانا جس سے لوگوں کو یہ لگنے لگے کہ لیلۃ القدر کا مطلب درس وتقریر کی مجلسیں منعقد کرنا، اور جشن کی طرح کھانے پینے کی محفلیں سجانا ہے کسی طور پر درست نہیں۔ انھی سب امور کو دیکھتے ہوئے بعض اہل علم سد باب کے طور درس وتقریر سے منع کرتے ہیں۔ اس لیے اسے ان چیزوں سے پاک رکھنے کی ضرورت ہے۔
نیز عوام کو بتایا جائے کہ درس وتقریر کرنا یہ لیلۃ القدر کی کوئی مخصوص عبادت نہیں ہے۔ اسے قائم کرنا جس طرح جائز ہے، اسی طرح چھوڑنے میں بھی کوئی حرج نہیں، اگر کسی رات یا کسی سال اسے ترک کر دیا جائے تو یہ نہ سمجھا جائے کہ لیلۃ القدر کی خصوصی عبادت ترک کر دی گئی۔ واللہ اعلم، وعلمہ اتم واحکم۔


آپ کے تبصرے