وہ نشانہ تلاش کرتے ہیں
ہم ٹھکانہ تلاش کرتے ہیں
راستے کی تلاش میں ہیں ہم
وہ بہانہ تلاش کرتے ہیں
مشغلہ کیا ہو ہم پرندوں کا
آب و دانہ تلاش کرتے ہیں
دیکھتے تھے جنھیں کتابوں میں
فی زمانہ تلاش کرتے ہیں
روز ہم رات کے ستائے ہوئے
دن سہانہ تلاش کرتے ہیں
آستیں کے مکین پہلے پہل
کوئی شانہ تلاش کرتے ہیں
بسترِ ہجر پر شکن کوئی
ہم شبانہ تلاش کرتے ہیں
تیری آنکھوں میں جو نوشتہ تھا
وہ فسانہ تلاش کرتے ہیں
لوگ کیوں آسماں کے ہوتے ہوئے
شامیانہ تلاش کرتے ہیں
فصل یوں ہی خراب ہوتی ہے
سب خزانہ تلاش کرتے ہیں
شاد! کچھ بات چیت کرنی ہے
اک دوانہ تلاش کرتے ہیں



آپ کے تبصرے