ہم اہلِ رحمتِ عالم جہاں میں نعت کہتے ہیں
خوشی ہو یا غمی ہر اک زماں میں نعت کہتے ہیں
زمیں پر آپ کا ہر نقشِ پا ہے نعت کا مظہر
سب اہلِ آسماں بھی آسماں میں نعت کہتے ہیں
نبی کے حسنِ سیرت پر فدا اپنے پرائے سب
تمام اہلِ زباں اپنی زباں میں نعت کہتے ہیں
ترستی ہیں بہاریں آپ کا دیدار کرنے کو
گل و بلبل مسلسل گلستاں میں نعت کہتے ہیں
ہمارے سر میں سودا ہے محمد کی اطاعت کا
سحر تا شام ہر کارِ جہاں میں نعت کہتے ہیں
فضائیں جھوم اٹھتی ہیں خوشی سے ہر طرف یک لخت
جہاں بھر کے مؤذن جب اذاں میں نعت کہتے ہیں
فلک میں اڑتے بادل اور زمیں پر تیرتے دریا
مسلسل اپنے اپنے کارواں میں نعت کہتے ہیں
مناجاتیں پہنچ جاتی ہیں دربارِ الہی تک
پریشاں حال جب آہ و فغاں میں نعت کہتے ہیں
چراغاں ہے ہماری بزم میں شمعِ رسالت سے
رہیں زنداں میں ہم یا آشیاں میں نعت کہتے ہیں
صدائیں دب نہیں سکتیں ہماری شورِ دنیا میں
کہ ہم ربِ دو عالم کی اماں میں نعت کہتے ہیں
زمانہ گوش بر آواز ہے فرطِ محبت سے
جنابِ شاد بزمِ دوستاں میں نعت کہتے ہیں



آپ کے تبصرے