وفات النبی صلی اللہ علیہ وسلم

عبدالکریم شاد شعروسخن

وہ ہجرت کا گیارہواں برس تھا جب خزاں آئی

مدینے کی فضاؤں میں ہوا ماتم کناں آئی


ربيع الاول آیا ماہ تو دنیا پریشاں تھی

بڑا بھاری تھا وہ دن پیر کا تاریخ بارہ کی


صحابہ جمع ہوتے جا رہے تھے ایک اک کر کے

دلوں میں درد لے کر اور آنکھوں میں نمی بھر کے


ادھر تھا مسجد نبوی میں خوف و حزن کا عالم

در و دیوار مل کر کر رہے تھے گریہ و ماتم


اُدھر ماں عائشہ کا حجرۂ اقدس بھی روتا تھا

معطر جو رسول پاک کی خوشبو سے ہوتا تھا


یہودی زہر کا اب کچھ اثر محسوس ہوتا تھا

دہن کو آ گئے قلب و جگر محسوس ہوتا تھا


پسینہ یوں بھگوتا جا رہا تھا جسمِ اطہر کو

فرشتہ جیسے دھوتا جا رہا تھا جسمِ اطہر کو


نظر کرتی تھیں امی عائشہ غم ناک چہرے پر

مسلسل پھیرتی رہتی تھیں دستِ پاک چہرے پر


اگرچہ سینۂ اقدس پہ سنگِ مرگ بھاری تھا

زبانِ مصطفٰی پر کلمہ توحید جاری تھا


سنائی دے رہا تھا شور مسجد کے احاطے سے

پریشاں تھے صحابہ آپ کے بیمار ہونے سے


تسلی کے لیے چاہا تھا اٹھنا اٹھ نہیں پائے

تو پانی آپ پر ڈالا سبھی نے سات مشکیزے


سہارا لے کے‌‌ عباس و علی کا خلق کے رہ بر

افاقہ ہوتے ہی تشریف لے آئے مصلے پر


رسول اللہ کا یہ آخری خطبہ تھا دنیا میں

وہ کیسی گل فشانی تھی وہ کیا جلوہ تھا دنیا میں


یہ فرمایا کہ لوگو! اب تمھیں کس بات کا ڈر ہے

مجھے موت آ نہ جائے کیا تمھیں اس بات کا ڈر ہے


کہا لوگوں نے ہاں اللہ کے پیغام بر آخر!

بنے گا کیا ہمارا آپ کے بن دین کے ماہر!


یہ سن کر آپ نے اصحاب سے ارشاد فرمایا

لگا جیسے بیابانوں کو پھر آباد فرمایا


سنو اے دوستو! میں دیکھتا ہوں اک حسیں منظر

کہ میرے پاس تم یک جا ہوئے ہو حوض کوثر پر


وہاں سیراب ہو جاؤ گے رب کی مہربانی سے

بجھاؤں گا تمھاری پیاس میں جنت کے پانی سے


مجھے تم پر نہیں ہے خوف کوئی تنگ دستی سے

اگر کچھ خوف ہے تم پر تو ہے دنیا پرستی سے


مبادا ایک دوجے کے لیے صیاد ہو جاؤ

مبادا پچھلی قوموں کی طرح برباد ہو جاؤ


وصیت کی، نمازوں کی حفاظت کرتے رہنا تم

سدا اللہ کے غیظ و غضب سے ڈرتے رہنا تم


تم اپنی عورتوں کے ساتھ ہم دردی سے پیش آنا

ہمیشہ مسکرا کر دیکھنا نرمی سے پیش آنا


کہا لوگو! خدا نے ایک بندے سے یہ فرمایا

کہ وہ دنیا کو چن لے یا بہشتِ رب کا سرمایہ


کہا بندے نے یا اللہ! جنت چاہیے مجھ کو

جو تیرے پاس رکھی ہے وہ دولت چاہیے مجھ کو


یہ سننا تھا کہ یارِ غار کا دل غم سے بھر آیا

پہیلی بوجھ لی اور آنکھ میں دریا اتر آیا


لگے کہنے، ہمارے باپ دادا آپ پر قربان

ہماری مائیں، بچے، مالِ دنیا آپ پر قربان


صحابہ دیکھنے لگتے ہیں ان کو ناگواری سے

نبی کی بات کیسے قطع کر دی آج حضرت نے


دفاعِ یار میں پھر خود نبی گویا ہوئے سب سے

مرے صدیق کو دیکھو نہ یوں لوگو! غلط ڈھب سے


کہ میں نے تم سبھی کو دے دیا احسان کا بدلا

مگر باقی ہے مجھ پر اب بھی اس انسان کا بدلا


سو میں نے چھوڑ رکھا ہے خدا پر فیصلہ اس کا

وہی دے گا بہشتوں کے خزانوں سے جزا اس کا


بالآخر اپنی امت کے لیے پیاری دعائیں کیں

نبی نے بارگاہِ کبریا میں التجائیں کیں


مرے گلشن کے پھولو! ہر گھڑی شاداب رہنا تم

سمندر پار کرنا فاتحِ گرداب رہنا تم


تمھیں ملتی رہے ہر حال میں اللہ کی نصرت

تمھارا قافلہ ہر دم رواں ہو جانبِ جنت


کہا لوگو! محبت سے پیامِ مصطفٰی کہنا

مرے ہر امتی کو تم سلامِ مصطفٰی کہنا


دوسرا حصہ


پھر اس کے بعد حجرے میں نبی تشریف لے آئے

بڑھے آتے تھے شہر مصطفٰی پر حزن کے سائے


اسی اثنا میں ابنِ یارِ ہجرت آ گئے گھر میں

نبی کو ان کے ہاتھوں میں دکھی مسواک پل بھر میں


محبت سے نبی نے دیکھا اس مسواک کی جانب

تھی اماں عائشہ کی چشم، چشمِ پاک کی جانب


وہ فوراً اپنے شوہر کا ارادہ جان جاتی تھیں

جو ہر لحظہ نبی کے شوق پر قربان جاتی تھیں


جناب عائشہ مسواک لے کر اپنے بھائی سے

دہن میں رکھتی ہیں شوہر کے دستِ دل ربائی سے


وہ شدت تھی مرض کی ہو گیا کم زور جسم پاک

رسول اللہ دانتوں سے کچل سکتے نہ تھے مسواک


تو پھر مسواک دی ماں عائشہ نے نرم و تر کر کے

محبت تھی انھیں بے انتہا محبوبِ داور سے


جن و انس و ملائک سب عیادت کرتے رہتے تھے

نبی کی دید سے رب کی عبادت کرتے رہتے تھے


اسی عالم میں اک دن آپ نے بیٹی کو بلوایا

نگاہ و دل کی خاطر کچھ سکون و لطف چاہا تھا


وہ کیا منظر تھا بیٹی فاطمہ آئی تھیں حجرے میں

بہاریں اپنے بابا کے لیے لائی تھیں حجرے میں


جو دیکھا حال بابا کا تڑپ کر رہ گئیں زہرا

کہیں غم کے سمندر میں سراپا بہ گئیں زہرا


نبی جب فاطمہ کا خیر مقدم کر نہیں پائے

تو بیٹی کے حسیں رخ پر اداسی کے بڑھے سائے


کہ یہ معمول تھا جب فاطمہ تشریف لاتی تھیں

نبی کا چہرۂ انور تبسم سے سجاتی تھیں


نبی فوراً مسرت کی فضا میں جھوم لیتے تھے

اور اٹھ کر دختر اطہر کا ماتھا چوم لیتے تھے


پکارا فاطمہ کو آپ نے بیٹی! قریب آؤ

کلی ہو تم مرے دل کی کسی صورت نہ مرجھاؤ


نبی نے فاطمہ کے کان میں کی ایسی سرگوشی

کہ ان کی چشمِ پر نم سے مزید آنسو ہوئے جاری


نبی نے پھر بلایا اور کوئی بات فرمائی

جسے سن کر رخِ زہرا پہ خوشیوں کی گھٹا چھائی


وفات مصطفٰی کے بعد ظاہر ہو گیا عقدہ

کہ رونے اور ہنسنے کا یہ آخر ماجرا کیا تھا


نبی نے پہلے فرمایا، مجھے جانا ہے دنیا سے

تو بیٹی فاطمہ کا رخ ہوا آلود گریہ سے


نبی نے دوسری بار ان کو اک مژدہ سنایا تھا

جسے سن کر سراپا فاطمہ کا مسکرایا تھا


وہ مژدہ تھا کہ جنت کی فضائے دلبرانہ میں

نبی کو فاطمہ پہلے ملیں گی اہل خانہ میں


نبی کی دید سے چہرے منور ہو گئے سارے

نبی کے حکم پر حجرے سے باہر ہو گئے سارے


نبی نے پھر کہا اے عائشہ میرے قریب آؤ

مری ہم راہ میری ہم نوا میرے قریب آؤ


نبی نے نزع کے حالات پر جب غور فرمایا

فلک کی سمت ہاتھوں کو اٹھایا اور فرمایا


مجھے نسبت نہیں رنگینیِ دنیا کی چاہت سے

محبت ہے مجھے اللہ کی اعلیٰ رفاقت سے


سمجھ جاتی ہیں صدیقہ کہ آخر مدعا کیا ہے

نبی نے آخرت کو چن لیا رب کا بلاوا ہے


بالآخر وہ گھڑی آتی ہے آنکھوں میں نمی لے کر

فرشتہ موت کا آیا پیام آخری لے کر


نبی کو راضی و خوشنود جب پایا فرشتے نے

مبارک سر کی جانب آ کے فرمایا فرشتے نے


حبیب اللہ کو اللہ کی الفت بلاتی ہے

رسولِ پاک چلیے آپ کو جنت بلاتی ہے


رسول اللہ کے دست مبارک پڑ گئے ڈھیلے

سر اقدس بھی بھاری ہو گیا باہوں میں زوجہ کے


سمجھ میں آ گیا ماں عائشہ کو ماجرا کیا ہے

نبی کی روح پاک اللہ کی جانب روانہ ہے


بہ حالِ اضطراب اٹھیں صدا دینے لگیں سب کو

رسول اللہ نے دنیا کو چھوڑا چن لیا رب کو


یہ سننا تھا کہ مسجد گونج اٹھی آہ و زاری سے

تڑپ اٹھے سبھی انسان اور جن دل فگاری سے


وہ کیسا وقت تھا دنیا پہ کیسا حال طاری تھا

نگاہِ بحر و بر سے اشک کا سیلاب جاری تھا


اجالے غم زدہ بے حال و بے اعصاب بیٹھے تھے

اندھیرے سر اٹھانے کے لیے بے تاب بیٹھے تھے


گلوں نے مسکرانا بھول کر گریہ کیا اس دن

ہر اک لمحہ مسلسل خار سا چبھتا رہا اس دن


پہاڑوں کے دلوں کو کیا ہوا یکسر دہل اٹھے

بیابانوں میں کیا مشکل ہوئی ذرے مچل اٹھے


مہ و خورشید سے کرنیں اداسی کی برستی تھیں

وہ ابرِ غم کی بوندیں تھیں کہ جسم و جاں کو ڈستی تھیں


زمین و آسماں کا رنگ پھیکا پڑ گیا جیسے

ہواؤں کی نظر پر آج پردہ پڑ گیا جیسے


ستارے ٹمٹمانا چھوڑ کر حیران تکتے تھے

چمن بے رنگ و بو تھے جو ابھی کل تک مہکتے تھے


درختوں کو عجب غم تھا کہ بے سایہ ہوئے سارے

پرندے ہوش کھو بیٹھے فضا میں رنج کے مارے


سمندر سے مسلسل اٹھ رہی تھیں کرب کی لہریں

سفینے سمت کھو بیٹھے کدھر جائیں کہاں ٹھہریں


چراغ اپنی طبیعت بھول کر خاموش بیٹھے تھے

نبی کے غم میں پروانے کفن بردوش بیٹھے تھے


نبی جن سے سنورتے تھے وہ آئینے بھی حیراں تھے

جو پھینکے اہل طائف نے وہ پتھر بھی پریشاں تھے


مدینے کی گلی کوچوں پہ سکتہ ہو گیا طاری

وہ بارِ غم تھا چٹانوں پہ لرزہ ہو گیا طاری


نہ ساقی کی ضرورت تھی نہ ساغر کی ہی حاجت تھی

نہ محفل راس آتی تھی نہ تنہائی میں لذت تھی


زبانیں گنگ تھیں آنکھیں تھیں پتھر کان بہرے تھے

سبھی کے دست و پا بے حرکت و بے چال ٹھہرے تھے


غرض دنیا پہ ایسا وقت آیا تھا نہ آئے گا

غم و اندوہ کا یہ ابر چھایا تھا نہ چھائے گا


صحابہ دم بخود تھے ان کے دل پہ کیسی بیتی تھی

کہ سانسوں کا تسلسل مرثیہ خوانی نبی کی تھی


علیِ مرتضی تھے غم کے مارے بے حس و حرکت

نہ کچھ کہنے کی ہمت تھی نہ اٹھنے کی رہی طاقت


ادھر عثمان بچوں کی طرح سے ہاتھ ملتے تھے

نگاہ و دل پریشاں تھے سنبھالے کب سنبھلتے تھے


عمر نے کھینچ لی تلوار یہ کہنے لگے سب سے

مرے آقا گئے ہیں آج ملنے کے لیے رب سے


مجھے امید ہے وہ جلد ہی لوٹ آئیں گے لوگو!

کہاں تک اپنے دیوانوں کو وہ تڑپائیں گے لوگو!


وفاتِ مصطفٰی کی جو اڑائے گا خبر سن لے

اڑا دوں گا میں اس گستاخ کی گردن اسی لمحے


حواس و ہوش کھو بیٹھے صحابہ غم زدہ ہو کر

یہ لگتا تھا کہ اٹھیں گے یہاں سے اب فنا ہو کر


مگر صدیق تھے جو ضبط کی تصویر بن آئے

محمد کے مریضوں کے لیے اکسیر بن آئے


نبی کے حجرۂ اقدس میں یارِ غار آتے ہیں

دماغ و دل کو جانے کس طرح قابو میں لاتے ہیں


یہی وہ یار ہیں جو ہر گھڑی ہشیار رہتے تھے

نبی پر جاں لٹانے کے لیے تیار رہتے تھے


انھوں نے مصطفٰی کو جنگ میں تنہا کھڑا دیکھا

نہ جانے کس نظر سے جسم اطہر کو پڑا دیکھا


مرے محبوب، میرے دوست، میرے مخلص و رہ بر

پکارے جا رہے تھے یارِ غار اے میرے پیغمبر!


کمالِ ضبط سے خود کو سنبھالا یارِ امت نے

جبینِ مصطفٰی کو چوم کر فرمایا حضرت نے


مرے پیارے نبی! ہے آپ کی سیرت بھی پاکیزہ

جہاں سے آج لے لی آپ نے رخصت بھی پاکیزہ


غشی طاری رہی انصار پر بے سدھ مہاجر تھے

غم و آلام کے آثار ہر چہرے سے ظاہر تھے


اسی اثنا میں حجرے سے نکل کر یار غار آئے

مخاطب کر کے لوگوں کو یہ ارشادات فرمائے


جو کرتا ہے عبادت مصطفٰی کی غور سے سن لے

نبی کی موت واقع ہو چکی ہے راستہ چن لے


جو کرتا ہے فقط اللہ کو سجدہ سنے میری

کہ بس اللہ زندہ ہے اسے موت آ نہیں سکتی


گری پھر ہاتھ سے تلوار سدھ کھونے لگے فاروق

کسی گوشے میں جا کر پھوٹ کر رونے لگے فاروق


فلک بے چین ہوتا ہے ہے زمیں غمگین ہوتی ہے

بالآخر پھر رسول اللہ کی تدفین ہوتی ہے


جنابِ فاطمہ روتے ہوئے کہنے لگیں سب سے

کہ میرے پیارے بابا چل دیے ملنے مرے رب سے


نبی کے چہرۂ انور پہ مٹی ڈال آئے ہو

تمھیں کیسے گوارا ہو گیا کس چال آئے ہو


ٹھکانہ جنت الفردوس ہوگا میرے بابا کا

وہاں خود میزباں ہے ربٌِ کعبہ میرے بابا کا


زمیں پر ایسی ہستی پہلے آئی تھی نہ آئے گی

گھٹا رحمت کی ایسی پہلے چھائی تھی نہ چھائے گی


صلی اللہ علیہ وسلم

آپ کے تبصرے

3000