یہ کون میرے خیالوں میں شام کرتا ہے

حمود حسن فضل حق مبارکپوری شعروسخن

جہاں، جہاں میں جو ناکردہ کام کرتا ہے

وہ کام مجھ سا ہی مست مدام کرتا ہے


وجود یار کا خاکہ اتارتی ہے آنکھ

دل اس میں وصل کا سایہ تمام کرتا ہے


محیط شب پہ بناتا ہے ہجر غم کی شبیہ

سحر کو موج تحیر کے نام کرتا ہے


ہے دست موج و تلاطم لہو میں آلودہ

کہ بحر قطرۂ دل میں خرام کرتا ہے


مرے عدم سے گزرتے ہوئے کوئی شاید

ٹھہر کے عکس اجل سے کلام کرتا ہے


سبیل دل پہ اداسی کے ٹھیک پہلو میں

کبھی کبھی کوئی صحرا قیام کرتا


یہ کس کی یاد کا در مجھ میں کھلنے لگتا ہے

یہ کون میرے خیالوں میں شام کرتا ہے


خلائے دل میں ابھرتے ہیں جب نقوش یقین

کف گماں انھیں نذر سہام کرتا ہے

آپ کے تبصرے

3000