’’کچھ الٰہ آبادؔ میں ساماں نہیں بہبود کے
یاں دھرا کیا ہے بجز اکبرؔ کے اور امرود کے‘‘
*****
گو کہ اکبرؔ ہیں زمانے کے شہِ طنز و مزاح
اور الٰہ آبادؔ میں باغات ہیں امرودؔ کے
شاعری اکبرؔ کی اور افزودگی امرودؔ کی
کیا یہی حاصل ہیں بس اس خطّۂ باسود کے
فاخرِ زائر الٰہ آبادؔ کے اہلِ حدیث
منہجِ اسلاف پر وہ عبد تھے معبود کے
تھے ولی اللہؔ کے ہمسر عقیدہ کے امام
داعیِ بے باک اپنے مسلکِ معہود کے
قافلہ شہدائے ’’بالاکوٹؔ‘‘ کا اترا یہاں
بن گئے شیدائی اس کی دعوتِ مسعود کے
بیعتِ اہلِ پریواؔ کا جہان آباد میں
آج تک آثار باقی منزلِ مقصود کے
وہ لیاقتؔ مردِ مومن کالاؔپانی کے دفین
نام ور غازی دیارِ اکبرؔ و امرودؔ کے
ان کی جرأت کے مقابل، ان کی ہمت کو سلام
بجھ گئے تھے سارے شعلے وقت کے نمرودؔ کے
تھا ’’مئو‘‘ سے غلغلہ ’’جھاؤ‘‘ کا اُس بنگال تک
ردّ میں تقلید و شرک و بدعتِ موجود کے
گو وہ کافی سخت تھے تقلید کی تردید میں
پر رہے آداب ان میں والد و مولود کے
’’دائرِ اجملؔ‘‘ میں شیخِ کل کا تھا کچھ دن قیام
وہ امامِ وقت تھے، علمی سخا و جود کے
ان کے شاگردوں کا شہرہ ہندؔ اور بیرونِ ہندؔ
خود یہاں بھی خوشہ چیں تھے معہد معہود کے
احمداللہؔ زینتِ ’’رحمانیہؔ‘‘ دارالحدیث
شیخ دہلیؔ تھے وہی تعدادِ لامحدود کے
مرکزِ توحید و سنت بن گیا گوپال گنجؔ
اب نہ چل پائیں گے ہتھکنڈے کسی مردود کے
اتباع سے چھٹ گئے ہیں دل کے تقلیدی غبار
ضد میں جو ہم سر تھے مثلِ قوم عادؔ و ہودؔ کے
کیا یہ کم ہے جو پھرا کرتے تھے ایسے در بدر
ہو گئے ہیں بندے اپنے خالقِ مسجود کے
جامعہؔ سے بڑھ گیا ہے اس علاقے کا وقار
حدِّ فاصل درمیاں حاسد کے اور محسود کے
’’دارِ دعوت‘‘ کے ادارے رو میں ہیں دہلیؔ تلک
حوصلے تابع نہیں ہیں خطۂ محدود کے
فضلِ ربانیؔ، فریوائیؔ کو جو ہمت ملی
یہ مظاہر ہیں انھی کی کوششِ محمود کے
ان جیالوں نے کیا ہے اس الٰہ آبادؔ میں
کام یہ سب ملک و ملت کے لیے بہبود کے
یہ تسلسل خیر کا خطےّ میں مصلحؔ برقرار
کیا نہیں کچھ ہے بجز اکبرؔ کے اور امرودؔ کے
ذاکر نگر – نئی دہلی
(2/12/1447ھ=19/5/2026ء)



آپ کے تبصرے