تھا جو دل میں کہہ نہ پایا دیر تک

شہاب الدین کمال شعروسخن

اس نے مجھ کو جب ستایا دیر تک

چین وہ خود بھی نہ پایا دیر تک


کام اپنا آندھیاں کرتی رہیں

ہم نے بھی دل کو جلایا دیر تک


گفتگو ہوتی رہی ان سے مگر

تھا جو دل میں کہہ نہ پایا دیر تک


رات کو غم جاگتے ہی رہ گئے

اور میں بھی سو نہ پایا دیر تک


درجنوں واعظ تھے مدعو درس میں

رات سامع کو جگایا دیر تک


ذوق بگڑا اس قدر اب کیا کہوں

نثر بھی وہ گنگنایا دیر تک

آپ کے تبصرے

3000