ابھی تو یوں نہ جتاؤ کہ مر چکا ہوں میں

عبدالکریم شاد شعروسخن

مرا بھی سوگ مناؤ کہ مر چکا ہوں میں

مجھے یقین دلاؤ کہ مر چکا ہوں میں


ہوا کا رخ ہے اِدھر یا اُدھر، مجھے اب کیا

سبھی چراغ بجھاؤ کہ مر چکا ہوں میں


مرا سفر ہے تمھاری نگاہ سے آگے

مجھے نہ راہ دکھاؤ کہ مر چکا ہوں میں


پھر اس کے بعد مرا بوجھ میرے سر ہوگا

ابھی یہ لاش اٹھاؤ کہ مر چکا ہوں میں


کم از کم آج تو اپنی انا سے باز آؤ

مجھے گلے سے لگاؤ کہ مر چکا ہوں میں


تکلفات کی حاجت کہاں رہی باقی

نقاب رخ سے ہٹاؤ کہ مر چکا ہوں میں


اب ایک پل بھی گوارا نہیں ہے دنیا میں

مجھے نہ اور ستاؤ کہ مر چکا ہوں میں


میں اپنی لاش لیے پھر رہا ہوں کاندھوں پر

میں جی رہا ہوں بتاؤ کہ مر چکا ہوں میں


نجوم و شمش و قمر اب بھی ہیں روانی میں

اُنھیں یہ بات بتاؤ کہ مر چکا ہوں میں


یہ التجا ہے مری سارے دوست دشمن سے

دعا کو ہاتھ اٹھاؤ کہ مر چکا ہوں میں


کرو گے یاد کہ یاروں میں شاد تھا کوئی

ابھی تو یوں نہ جتاؤ کہ مر چکا ہوں میں

آپ کے تبصرے

3000