تِری نظر بھی ہوئی میری ممتحن ساقی

عبدالکریم شاد شعروسخن

پلائے جا مجھے جام و سبو نہ گِن ساقی

کسی طرح سے گزر جائے آج دن ساقی


تِری نگاہ کا جادو چلا نہیں اب تک

ابھی ہوئے نہیں اعصاب مطمئن ساقی


پلا دے یوں کہ غمِ زندگی ہو جائے قے

سبو کے ساتھ اٹھا لانا ڈسٹ بن ساقی


شراب خانے سے باہر قدم نکالتے ہی

سوار ہوتا ہے کارِ جہاں کا جن ساقی


بدن پہ آگ برستی ہے ابرِ باراں سے

گزر نہ جائے یہ موسم بھی تیرے بن ساقی


نگل رہے ہیں جو دن رات دوسروں کے حق

مِرے دہن سے انھیں آ رہی ہے گھن ساقی


سفر میں یوں بھی پریشان تھا سرابوں سے

تِری نظر بھی ہوئی میری ممتحن ساقی


وہی میں شاد جو تشنہ دہن ہے بچپن سے

سنا تو ہوگا مِرا نام، میرا سِن ساقی

آپ کے تبصرے

3000