کون سا شخص ہے کیسا مجھے معلوم نہ تھا

عبدالکریم شاد شعروسخن

لوٹنا تھا مجھے پیاسا مجھے معلوم نہ تھا

سوکھ جائے گا وہ دریا مجھے معلوم نہ تھا


جوڑتا رہ گیا تا عمر میں ٹکڑے اپنے

میرا آئینہ تھا ٹوٹا مجھے معلوم نہ تھا


اول اول تو محبت میں مزہ خوب آیا

گم سمندر میں تھا صحرا مجھے معلوم نہ تھا


دوست تو ویسے وفادار ملے تھے مجھ کو

وقت بھی دیتا ہے دھوکا مجھے معلوم نہ تھا


شوقِ دیدار نے شل کر دیے اعصاب مرے

ڈس رہا تھا وہ سراپا مجھے معلوم نہ تھا


وقت کے ساتھ مرے سارے بھرم ٹوٹ گئے

کون سا شخص ہے کیسا مجھے معلوم نہ تھا


میں تو آئینہ بہ کف تھا کہ سنواروں سب کو

ہر کوئی سنگ بہ کف تھا مجھے معلوم نہ تھا


میں نے ہر بار اسے آنکھ چراتے دیکھا

اس نے ہر بار یہ سمجھا مجھے معلوم نہ تھا


کون کم بخت مجھے آنکھ دکھاتا ہے شاد!

میرا ہی عکس ہے، اچھا! مجھے معلوم نہ تھا

آپ کے تبصرے

3000