مِل ملاقات کے علاوہ بھی
بھیگ برسات کے علاوہ بھی
لب پہ آتے نہیں سبھی الفاظ
سُن مِری بات کے علاوہ بھی
پیاس کیسے بجھے سرابوں سے
آ خیالات کے علاوہ بھی
کچھ ہے منظر پہ کچھ پسِ منظر
دیکھ حالات کے علاوہ بھی
مدعا یوں سمجھ نہ پائے گا
پڑھ عبارات کے علاوہ بھی
صاف ظاہر ہے تیرے چہرے سے
رنگ ہیں سات کے علاوہ بھی
دن بھی پوری طرح نہیں روشن
رات ہے رات کے علاوہ بھی
اک تبسم پہ اکتفا کب تک
بانٹ خیرات کے علاوہ بھی
ہم نے دیکھا ہے جنگ کا انجام
جیت اور مات کے علاوہ بھی
عشق ہے ما ورائے رنگ و نور
ڈال ہے پات کے علاوہ بھی
شادؔ آباد ایک دنیا ہے
کوچۂ ذات کے علاوہ بھی



آپ کے تبصرے