جو ان سے دور ہوا برگِ بے درخت ہوا
جو آ ملا وہ ثمرور، بلند بخت ہوا
وہی جو اور کہیں سے ملا، بنا رخنہ
درِ رسول سے حاصل ہوا تو رخت ہوا
اَٹا پڑا ہے مدینے کی دھول مٹی سے
تمھارا پاؤں زمانے میں رشکِ تخت ہوا
حضور اُن کے کسی سے ہوئی جو گستاخی
تو اس پہ ارض و سما کا مزاج سخت ہوا
اب اس کے لمس پہ قربان ہے جہانِ بدن
وہی لباس جو طائف میں لخت لخت ہوا
مثالِ طفل جو ان کے فراق میں روتا
میں کیوں نہ شہر مدینہ کا وہ درخت ہوا
گداز کر گئی یادِ جمالِ خُلقِ رسول
کبھی جو شاد کا لہجہ ذرا کرخت ہوا



آپ کے تبصرے