اک تیر بھی اس اور صف انداز سے آئے

حمود حسن فضل حق مبارکپوری شعروسخن

ہر چند نہ وہ نقطۂ آغاز سے آئے

آئے تو اسی رنگ اسی ناز سے آئے


مرنے کا کوئی غم نہیں تھی دفن کی جلدی

لے کر وہ کفن ساتھ کفن ساز سے آئے


بھرتے ہیں دل و جان کے خاکوں میں انھی کو

جو رنگ سخن درد کے اعجاز سے آئے


سینے میں ہے بس معرکۂ زخم تمنا

اک تیر بھی اس اور صف انداز سے آئے


رکھیں گے بڑے شوق سے کشکول جنوں میں

بے تابئ دل عزت و اعزاز سے آئے


کچھ ساغر و بادہ کا فضا میں تو نہیں ہاتھ

رقصاں کیوں سبھی کوچۂ مے باز سے آئے

آپ کے تبصرے

3000