درد اک روز صدا بن کے بکھر جائے گا

حمود حسن فضل حق مبارکپوری شعروسخن

شہر جب جوشِ جنوں سے مرے بھر جائے گا

قیس صحرا کی طرف بارِ دگر جائے گا


صبر اے دل یہ زمانہ بھی گزر جائے گا

درد اک روز صدا بن کے بکھر جائے گا


بامِ گردوں سے اداسی کا ستارہ کوئی

شام ہوتے ہی مِری چھت پہ اتر جائے گا


دل کو خاکم بہ دہن طرزِ جنوں کیا معلوم

رائیگاں دشتِ محبت کا سفر جائے گا


اپنی آنکھوں کو مِری جان سلامت رکھنا

ہم تو منظر ہیں وہ منظر جو گزر جائے گا


میں وہ نخچیر ہوں شاید کہ بھرے جنگل میں

رحم کھاتے ہوئے صیاد ٹھہر جائے گا


بجتی مٹی میری آخر کو ہوئی ریت حسن

صرف چھونے سے گھروندا یہ بکھر جائے گا

آپ کے تبصرے

3000