حرمت والے مہینے

عمیر مقتدیٰ متفرقات

اللہ تعالیٰ نے انسانوں کی ہدایت، بھلائی اور زندگی کے نظم و ضبط کے لیے بعض اوقات کو خصوصی فضیلت اور عظمت عطا فرمائی ہے۔ انہی میں سال کے وہ چار مہینے بھی شامل ہیں جنھیں اسلام میں “اشہرِ حرم” یعنی حرمت والے مہینے کہا جاتا ہے۔ یہ مہینے ذوالقعدہ، ذوالحجہ، محرم الحرام اور رجب ہیں۔ ان مہینوں کی عظمت اور حرمت کا ذکر خود اللہ تعالیٰ نے قرآنِ کریم میں فرمایا ہے:

﴿إِنَّ عِدَّةَ الشُّهُورِ عِنْدَ اللّٰهِ اثْنَا عَشَرَ شَهْرًا فِي كِتَابِ اللّٰهِ يَوْمَ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ مِنْهَا أَرْبَعَةٌ حُرُمٌ ذٰلِكَ الدِّينُ الْقَيِّمُ فَلَا تَظْلِمُوا فِيهِنَّ أَنْفُسَكُمْ﴾

اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ مہینوں کی یہ تقسیم کوئی انسانی فیصلہ نہیں بلکہ اللہ رب العالمین کا مقرر کردہ نظام ہے جو آسمان و زمین کی تخلیق کے دن سے قائم ہے۔ انسان کو اس میں رد و بدل کا اختیار نہیں دیا گیا، کیونکہ اگر یہ اختیار لوگوں کے سپرد کر دیا جاتا تو ہر قوم اور ہر زمانہ اپنی خواہشات کے مطابق مہینوں کو آگے پیچھے کرتی، سالوں کا حساب بگڑ جاتا، عبادات کے اوقات درہم برہم ہو جاتے اور لوگوں کے درمیان شدید اختلاف پیدا ہو جاتا۔ اللہ تعالیٰ کی یہ عظیم رحمت ہے کہ اس نے وقت کے نظام کو مضبوط بنیادوں پر قائم فرمایا اور اس کے لیے ایسی نشانیاں مقرر کر دیں جن میں کسی انسان کو تبدیلی کا اختیار نہیں۔

اللہ تعالیٰ نے سورج اور چاند کو اسی مقصد کے لیے پیدا فرمایا۔ قرآنِ کریم میں ارشاد ہے کہ اللہ نے رات کو سکون کا ذریعہ بنایا اور سورج چاند کو حساب قرار دیا۔ قرآن کریم میں ایک اور جگہ پر فرمایا:

﴿هُوَ الَّذِي جَعَلَ الشَّمْسَ ضِيَاءً وَالْقَمَرَ نُورًا وَقَدَّرَهُ مَنَازِلَ لِتَعْلَمُوا عَدَدَ السِّنِينَ وَالْحِسَابَ﴾

سورج سے دنوں اور ہفتوں کا نظام معلوم ہوتا ہے جبکہ چاند کے ذریعے مہینوں اور سالوں کا حساب قائم رہتا ہے۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے سورج اور چاند دونوں کو ایک منظم حساب کے تابع بنایا۔ سورۂ رحمٰن میں فرمایا:

﴿الشَّمْسُ وَالْقَمَرُ بِحُسْبَانٍ﴾

اللہ تعالیٰ نے قمری مہینوں کو صرف ریاضی حساب سے وابستہ نہیں کیا بلکہ چاند کی ظاہری گردش سے مربوط کیا تاکہ ہر شخص، خواہ وہ تعلیم یافتہ ہو یا ان پڑھ، آسانی کے ساتھ مہینوں کا آغاز اور اختتام معلوم کر سکے۔ اگر عبادات کو صرف پیچیدہ حسابات پر موقوف کر دیا جاتا تو عام لوگوں کے لیے دشواری پیدا ہو جاتی۔ اسی لیے نمازوں کے اوقات سورج کے ذریعے معلوم ہوتے ہیں جبکہ روزہ، حج، زکوٰۃ اور دیگر سالانہ عبادات کا تعلق قمری مہینوں سے رکھا گیا ہے۔

اس میں بھی اللہ تعالیٰ کی عظیم حکمت پوشیدہ ہے کہ رمضان، شوال، ذوالحجہ اور دیگر اسلامی مہینے سال کے مختلف موسموں میں گردش کرتے رہتے ہیں۔ چنانچہ جو شخص اپنی زندگی میں کئی رمضان تقریباً تیس پاتا ہے وہ کبھی سخت گرمی میں روزے رکھتا ہے، کبھی سردیوں کے مختصر دنوں میں، کبھی بہار اور کبھی خزاں کے موسم میں۔ اسی طرح حج بھی مختلف مہینوں میں آتے رہیں گے۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو مختلف حالات میں عبادت کا حکم دیتا ہے اور آسانی و مشقت دونوں میں بندگی کا حق ادا کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔

اشہرِ حرم کی ایک اہم خصوصیت یہ بھی ہے کہ ان مہینوں میں گناہوں اور ظلم سے بچنے کی تاکید مزید بڑھ جاتی ہے۔ اگرچہ ظلم، نافرمانی اور گناہ سال کے ہر دن حرام ہیں، لیکن ان مبارک مہینوں میں ان کی قباحت اور سنگینی اور زیادہ بڑھ جاتی ہے۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

﴿فَلَا تَظْلِمُوا فِيهِنَّ أَنْفُسَكُمْ﴾

سب سے بڑا ظلم شرک ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو توحید کے لیے پیدا کیا ہے۔ جو شخص توحید پر قائم رہا وہ کامیاب ہوا اور جس نے شرک کا راستہ اختیار کیا وہ سب سے بڑے خسارے میں مبتلا ہوا۔ اسی طرح والدین کے ساتھ حسنِ سلوک اسلام کی عظیم تعلیمات میں سے ہے۔ خصوصاً جب والدین بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو ان کی خدمت، ادب اور اطاعت کی اہمیت اور بڑھ جاتی ہے۔ افسوس کہ آج بعض لوگ دنیاوی مصروفیات میں اتنے مشغول ہو جاتے ہیں کہ اپنے والدین کے حقوق تک بھول جاتے ہیں، حالانکہ قرآن و حدیث میں والدین کی خدمت کو جنت کے حصول کا عظیم ذریعہ قرار دیا گیا ہے۔ اسی طرح اولاد کو مفلسی کے خوف سے قتل کرنا یا اس کی زندگی کو ضائع کرنا بھی سنگین جرم ہے۔ زمانۂ جاہلیت میں لوگ اپنی اولاد کو زندہ دفن کر دیتے تھے اور آج جدید طریقوں سے اسی جرم کا ارتکاب کیا جا رہا ہے۔ بعض لوگ صرف اس وجہ سے کہ لڑکی پیدا نہ ہو، حمل ہی کو ساقط کر دیتے ہیں۔ یہ عمل شریعت کی نظر میں نہایت سنگین گناہ ہے۔اسلام نے فحاشی اور بے حیائی کے تمام راستوں کو بھی بند کیا ہے۔ خواہ گناہ ظاہر میں ہو یا پوشیدہ، اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب قابلِ مواخذہ ہیں۔ بعض لوگ لوگوں کے سامنے گناہوں سے بچتے ہیں لیکن تنہائی میں اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کرتے ہیں۔ بدنگاہی، زنا، فحش گفتگو، ناجائز تعلقات اور دیگر اخلاقی برائیاں سب حرام ہیں۔ مومن کی شان یہ ہے کہ وہ لوگوں کی نگاہوں سے زیادہ اللہ تعالیٰ کی نگرانی کو یاد رکھے اور خلوت و جلوت دونوں میں تقویٰ اختیار کرے۔اسی طرح یتیموں کا مال ناحق کھانا بھی ہلاک کرنے والے گناہوں میں سے ہے۔ یتیم کمزور اور بے سہارا ہوتا ہے، اس لیے شریعت نے اس کے حقوق کی خصوصی حفاظت کا حکم دیا ہے۔ جو لوگ یتیموں کے حقوق غصب کرتے ہیں وہ درحقیقت اپنے لیے اللہ تعالیٰ کے عذاب کو دعوت دیتے ہیں۔ اسی طرح ناپ تول میں کمی کرنا، تجارت میں دھوکہ دینا اور لین دین میں نا انصافی کرنا بھی ہمارے معاشرے کی ایک بڑی خرابی بن چکی ہے۔ اسلام عدل و انصاف کا دین ہے، اس لیے ہر مسلمان پر لازم ہے کہ وہ خرید و فروخت، معاملات اور معاشرتی تعلقات میں انصاف کو اختیار کرے۔

آج ایک اور افسوس ناک صورت حال یہ ہے کہ طاقتور لوگوں کا ساتھ دیا جاتا ہے اور کمزوروں کے حقوق کو پامال کر دیا جاتا ہے۔ خاندانی معاملات، جائیداد کی تقسیم اور سماجی تعلقات میں اکثر دیکھا جاتا ہے کہ حق دار کو اس کا حق نہیں دیا جاتا۔ حقوق العباد میں کوتاہی عام ہو چکی ہے، حالانکہ اللہ تعالیٰ اپنے حقوق معاف فرما سکتا ہے لیکن بندوں کے حقوق اس وقت تک معاف نہیں ہوتے جب تک حق دار راضی نہ ہو جائے۔ اس لیے ہر مسلمان کو چاہیے کہ وہ اپنے عقائد، عبادات، معاملات اور اخلاق کا جائزہ لیں، شرک و معصیت سے بچیں، والدین کے حقوق ادا کریں، اور والدین اولاد پر رحم کریں ، فحاشی اور بے حیائی سے دور رہیں، یتیموں کے حقوق کی حفاظت کریں، عدل و انصاف کو اختیار کریں اور ہر اس ظلم سے بچیں ،اللہ تعالیٰ ہمیں ان تمام باتوں پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین

آپ کے تبصرے

3000