وہی ہے دوست اپنا وقت پہ جو کام آجائے

سلمان ملک فائز بلرامپوری شعروسخن

سحر کی تیرگی ہو یا شبِ تاریک کے سائے

محبت! ہم تری آغوش میں آکر سکوں پائے


چلو اے ہم نواؤ! اب جفا کاروں کی بستی میں

دلِ مضطر پہ شائد واں کوئی احسان فرمائے


یہ بزمِ اہلِ الفت ہے، بہ رنگِ بے نیازانہ

جسے آنا ہو آئے جس کو جانا ہو چلا جائے


ترے دستِ ستم میں ایک لطفِ جاودانی ہے

تو کیوں تجھ سے بھلا کوئی بھی خواہشمند گھبرائے


ہمارا کیا، ہمیں تو بخت نے ویرانیاں بخشی

ترے دشتِ تمنا میں الہی ابر برسائے


بہت تنہائیاں ہیں محشرستانِ تصور میں

کوئی آواز ِ محرم اس بیاباں میں بھی آجائے


ابھی اے دوستو! یہ ساغر و جام و سبو رکھ دو

کہ جب تک کچھ ادب آدابِ میخانہ نہ آجائے


یہی تو مشغلہ ہے اہلِ دل کا ایک مدت سے

محبت کی، پھر اس کے بعد روئے اور پچھتائے


ازل ہی سے ملا ہے جذبہ آوارگی ہم کو

سو جس محفل میں پہنچے نغمہ فریادِ دل گائے


کسے اپنا کہیں اس بستئ ناآشنائی میں

وہی ہے دوست اپنا وقت پہ جو کام آجائے


حقیقت میں اسے کہتے ہیں واعظ دل کی دنیا میں

جو خود تڑپے، تڑپ کر اہلِ محفل کو بھی تڑپائے


وہ کہتے جاریے تھے داستانِ درد و غم فائز

بڑی مشکل سے ہم اپنی ادا پہ ضبط کر پائے

1
آپ کے تبصرے

3000
1 Comment threads
0 Thread replies
0 Followers
 
Most reacted comment
Hottest comment thread
1 Comment authors
newest oldest most voted
Ibn e yunus hindi

واہ کیا بات ہے! زبردست

مقطع میں “جارہے“ کی جگہ جاریے ہوگیا ہے درست کرلیں