وگرنہ جرم ہم نے کیا کیا ہے

کاشف شکیل شعروسخن

تمھارے عشق نے رسوا کیا ہے

وگرنہ جرم ہم نے کیا کیا ہے


مرا خط لے تو لیتا ہے کم از کم

صنم سے اچھا اس کا ڈاکیا ہے


تھے جس کی زلف کے سایے کے طالب

اسی بد روح نے سایہ کیا ہے


نکالا دل کی پَسلی سے تو اب میں

بنا آدم اسے حوا کیا ہے


مجھے دے کر وہ اپنی ساری تلخی

بنی شیریں مجھے تیکھا کیا ہے


پھر اشکوں سے وضو کر کر کے میں نے

بچھڑ کر شکر کا سجدہ کیا ہے


وہ دل کا تنگ تھا سو اس نے کاشف

میں پورا تھا مجھے آدھا کیا ہے

1
آپ کے تبصرے

3000
1 Comment threads
0 Thread replies
0 Followers
 
Most reacted comment
Hottest comment thread
1 Comment authors
newest oldest most voted
Ziya khan

Mashallah bahut zabardast gazal hai