تمھارے عشق نے رسوا کیا ہے
وگرنہ جرم ہم نے کیا کیا ہے
مرا خط لے تو لیتا ہے کم از کم
صنم سے اچھا اس کا ڈاکیا ہے
تھے جس کی زلف کے سایے کے طالب
اسی بد روح نے سایہ کیا ہے
نکالا دل کی پَسلی سے تو اب میں
بنا آدم اسے حوا کیا ہے
مجھے دے کر وہ اپنی ساری تلخی
بنی شیریں مجھے تیکھا کیا ہے
پھر اشکوں سے وضو کر کر کے میں نے
بچھڑ کر شکر کا سجدہ کیا ہے
وہ دل کا تنگ تھا سو اس نے کاشف
میں پورا تھا مجھے آدھا کیا ہے
Mashallah bahut zabardast gazal hai