میں جانتا تھا مری شاعری فضول نہیں

عبدالکریم شاد شعروسخن

رہ حیات میں توشہ کوئی فضول نہیں

کوئی بھی خار کوئی بھی کلی فضول نہیں


دل و نگاہ خرد سے ہیں بر سرِ پیکار

ہم اہل ذوق کی دیوانگی فضول نہیں


سمجھ سکو گے اگر دشت سے کرو معلوم

یہ میرا شوق یہ تشنہ لبی فضول نہیں


کوئی تو ہے جو مجھے پڑھ رہا ہے چُھپ چُھپ کر

میں جانتا تھا مری شاعری فضول نہیں


مرے نقوش بھی کام آ گئے دِوانوں کے

میں نامرادِ تمنا سہی فضول نہیں


کتابِ زیست کا ہر باب نذرِ عشق کیا

مجھے پتا ہے مری زندگی فضول نہیں


میں جگنوؤں کا بھی کرتا ہوں شوق سے پیچھا

مرے لیے تو کوئی روشنی فضول نہیں


ہمارا ہاتھ ہے جب تک تمھارے ہاتھوں میں

وہ دشت ہو کہ چمن رہ روی فضول نہیں


یہ انتظار کی لذت، تصورات کی بزم

فراقِ یار کی کوئی گھڑی فضول نہیں


یوں ہی نہیں وہ پریشان بر سرِ محفل

وہ جانتا ہے مری خامشی فضول نہیں


بہ راہِ عشق ملے ہیں چراغ کی صورت

بہ قلبِ شاد کوئی داغ بھی فضول نہیں

آپ کے تبصرے

3000