خاک میں مل گیا ہے باغ مرا
کس نے روشن کیا چراغ مرا
ضبط کی نذر ہو گیا دل بھی
مصرفِ غم ہوا دماغ مرا
کیا بہار اور کیا خزاں مجھ کو
وقت دھوتا نہیں ہے داغ مرا
میرے ساقی تجھے خیال بھی ہے
میں کہاں ہوں کہاں ایاغ مرا
بحث کرتے ہو مجھ دوانے سے
دیکھ لو گے سفید زاغ مرا
مٹ گیا شاد مَیں محبت میں
کیا ملے گا کہیں سراغ مرا



آپ کے تبصرے