سوشل میڈیا کا جادو اور کتابوں کا حال زار

تسلیم حفاظ عالی تعلیم و تربیت

انسانی تہذیب کا سب سے روشن باب ہمیشہ سے مطالعۂ کتاب سے وابستہ رہا ہے۔ کتاب محض کاغذ اور سیاہی کا مجموعہ نہیں بلکہ فکر کی روشنی، دل کا سکون اور روح کا توشہ ہے۔ دنیا کے ہر بڑے انقلاب اور ہر بیداری کے پیچھے کتاب ہی کا چراغ روشن رہا ہے۔ قرآنِ حکیم نے بھی سب سے پہلے جو لفظ اتارا وہ یہی تھا “اقرأ” یعنی پڑھو۔ یہ محض ایک حکم نہیں بلکہ پوری امت مسلمہ کے لیے ایک منشور تھا کہ تمھاری ترقی اور بقا علم سے وابستہ ہے اور علم کتاب کے بغیر ممکن نہیں۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: طلب العلم فریضة علی کل مسلم (صحيح الجامع:3914 ) یعنی علم حاصل کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے۔

آج کے دور میں جب وسائل کی کثرت ہے، سہولتیں بے شمار ہیں اور علم تک رسائی پہلے سے زیادہ آسان ہو گئی ہے، عین اسی وقت کتابوں سے بے رُخی بڑھتی جا رہی ہے۔ ہمارے نوجوان، طلبہ، اہلِ علم حتی کہ مدارس و جامعات میں تدریسی فرائض انجام دینے والے اساتذۂ کرام بھی کتابوں کے بجائے سوشل میڈیا کی دنیا میں کھو گئے ہیں۔ فیس بک، واٹس ایپ، انسٹاگرام اور یوٹیوب کے نت نئے جادو نے دلوں کو مسحور کر دیا ہے۔ چند لمحے کی تفریح یا وقتی معلومات کے بہانے ہم گھنٹوں ان پلیٹ فارموں پر ضائع کر دیتے ہیں اور خبر تک نہیں ہوتی کہ زندگی کا قیمتی سرمایہ ہماری آنکھوں کے سامنے ضائع ہو رہا ہے۔

یہ صورتِ حال محض ایک اخلاقی یا وقتی مسئلہ نہیں بلکہ ایک فکری اور تہذیبی المیہ ہے۔ کتاب صرف تفریح کا ذریعہ نہیں بلکہ امت کی شناخت ہے۔ ہمارے اسلاف نے اپنی عمریں کاغذ اور قلم کے ساتھ گزاری ہیں۔ ذرا سوچیے، امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ نے کس قدر مصائب جھیل کر اپنے علم کو امت تک پہنچایا۔ امام بخاری رحمہ اللہ نے لاکھوں میل سفر کر کے صحیح بخاری مرتب کی۔ امام مسلم رحمہ اللہ نے اپنی “صحیح مسلم” میں کتنی جاں فشانیوں کے بعد احادیث کو محفوظ کیا۔ امام غزالی رحمہ اللہ نے “احیاء علوم الدین” میں فکر و عمل کو جوڑا۔ شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمہ اللہ نے “حجۃ اللہ البالغہ” میں دین کی حکمتیں آشکار کیں۔

ابن تیمیہ رحمہ اللہ کی زندگی کو دیکھیں، انھوں نے علم کی راہ میں ہر طرح کی مشقتوں ، صعوبتوں اور قید و بند کی پریشانیوں کو خندہ پیشانی سے برداشت کیا ، دنیا کی کوئی بھی آزمائش ان کے بے مثال جذبۂ اشاعتِ علم کے سامنے رکاوٹ نہیں بن سکی۔ ہزاروں صفحات کے مطالعے کے بعد انھوں نے ایسی بے شمار شہرہ آفاق اور بیش بہا کتابیں لکھی ہیں جن سے کوئی بھی ایسا شخص مستغنی نہیں ہو سکتا جو میدان علم میں قدم رنجہ ہونا چاہتا ہے۔ “مجموع الفتاویٰ” جیسے انسائیکلوپیڈیا میں عقائد، عبادات، اخلاق، سیاست اور معاشرت کے ہر پہلو پر روشنی موجود ہے۔ “درء تعارض العقل والنقل” میں انھوں نے عقل و نقل کے تضادات کا ایسا مدلل جواب دیا کہ آج بھی اہل علم کے لیے مینارۂ نور ہے۔ “منهاج السنۃ النبوية”، “السیاسۃ الشرعیۃ”، “الصارم المسلول”، “اقتضاء الصراط المستقیم”، “الفرقان بین أولیاء الرحمن وأولیاء الشیطان”، “الحسبۃ فی الإسلام”، “العقیدۃ الواسطیة”، “الفتاوی الحموية”، “الجواب الصحیح” اور “التفسیر الکبیر” جیسی عظیم الشان کتابیں ابن تیمیہ کی علمی میراث ہیں۔

ان کے شاگرد اور حقیقی علمی وارث علامہ ابن قیم الجوزیہ رحمہ اللہ نے بھی زندگی کو علم اور قلم کے لیے وقف کر دیا اور کثیر تعداد میں نہایت ہی علمی اور مفید کتابیں لکھیں۔ آپ نے اپنے قلمِ سبک رفتارکو کتاب و سنت کی شرح وتوضیح اور قلوب و اذہان کی اصلاح کا ذریعہ بنایا۔آپ کی تصانیف میں علم وعرفان کے ساتھ روحانیت اور اثر آفرینی بھی جھلکتی ہے۔”زاد المعاد” میں سیرتِ نبوی کو فقہی اور عملی زاویوں سے بیان کیا۔ “مدارج السالکین” میں روحانیت کے مدارج پر روشنی ڈالی۔ “إعلام الموقعین”، “الجواب الکافی”، “مفتاح دار السعادۃ”، “روضة المحبین”، “إغاثۃ اللهفان”، “شفاء العلیل”، “الفوائد”، “تحفة المولود” اور “طرق الهجرتین” جیسی تصانیف آج بھی طلبہ اور محققین کے لیے روشنی کا مینار ہیں۔

شیخ عبدالعزیز بن باز رحمہ اللہ نے نابینائی کے باوجوددامنِ علم کو تھاما اورفقہ،فتاوی،عقیدہ اور دیگر علوم وفنون پر مشتمل نہایت ہی مفید اور رہنما کتابیں لکھیں۔ “مجموع فتاویٰ ابن باز”، “التحقیق والإیضاح”، ” فضل الاسلام”، “الإفھام في شرح عمدة الأحكام”، “الدروس المھمة لعامة الأمة”، “الغزو الفكري ووسائله”، “شرح العقیدہ الطحاویہ”، “الرسائل العقائدیۃ”، “فتاویٰ نور على الدرب” جیسی کتابوں کے ذریعے امت کو علمی رہنمائی فراہم کی۔

شیخ محمد بن صالح العثیمین رحمہ اللہ کا وجود خود ایک درس گاہ کی مانند تھا۔آپ نے اپنی زندگی کو علم کی وادی میں اس طرح گزارا کہ گویا یہ دنیا ان کے لیے صرف ایک مدرسہ اور ایک منبر تھی ۔فقہ، عقیدہ ، تفسیر ،نحو و صرف ، بلاغت اور دیگر فنون پرمشتمل بیش قیمت کتابیں آپ کے قلم سیال سے معرض تصنیف وتالیف میں آئیں۔ “الشرح الممتع علی زاد المستقنع”، “القواعد المثلیٰ”، “شرح العقیدۃ الواسطیہ”، “أصول التفسیر”، “شرح الأصول الثلاثة”، “فتاویٰ نور علی الدرب”، “شرح بلوغ المرام”، “تفسیر القرآن الکریم”اور “شرح کشاف القناع”جیسی کتابیں آج بھی طلبہ کے لیے مشعل راہ ہیں۔

علامہ ناصر الدین البانی رحمہ اللہ کا نام سنتے ہی ذہن میں ایک ایسے محدث کا تصور ابھرتا ہے جس نے اپنی پوری زندگی احادیث کی تحقیق و تخریج کے لیے وقف کر دی۔ آپ نے کتاب و سنت کی خدمت میں وہ کارنامے انجام دیے جن کی نظیر عصرِ حاضر میں کم ہی ملتی ہے۔ نادر کتب کی ورق گردانی، اسناد کی باریک بینی سے جانچ اور ہر روایت کو تحقیق کی کسوٹی پر پرکھنا آپ کا شعار تھا۔ صحیح کو ضعیف سے الگ کرنا اور سنت کو اصل صورت میں پیش کرنا ہی آپ کا مقصدِ حیات تھا۔ یہی وجہ ہے کہ طالبانِ علومِ حدیث نے آپ کے علمی ذخیرے سے بے پناہ فیض اٹھایا اور آج بھی آپ کی محنتیں امت کے لیے مشعلِ راہ ہیں۔ آپ کی حیاتِ مستعار گویا ایک مسلسل جہدِ علمی تھی، جس نے کتاب و سنت کی راہوں کو منور کر دیا۔بلا شبہ آپ عالم اسلام کے ایک نام ور محدث تھے اور چودھویں صدی میں علم حدیث اور جرح وتعدیل کے امام تھے۔آپ نے حدیث کی تحقیق کو نئی جہت دی۔ “سلسلۃ الأحادیث الصحیحۃ”، “سلسلۃ الأحادیث الضعیفۃ”، “إرواء الغلیل”، “صحیح الجامع “، “ضعیف الجامع”، “صفة صلاة النبی”، “تحذیر الساجد”، “تمام المنۃ”، “أحکام الجنائز”اور “آداب الزفاف” جیسی تصانیف امت کے لیے قیمتی خزانے ہیں۔

یہ سب کتابیں بتاتی ہیں کہ کس طرح ہمارے اکابر نے اپنی زندگی کو علم کے لیے قربان کیا۔ مگر افسوس! آج ہم ان کتابوں کو کھولنے کا وقت بھی نہیں نکال پاتے۔ ہماری الماریوں میں یہ کتابیں زینت کے لیے رکھی ہیں اور ہماری آنکھیں موبائل کی اسکرین پر گھومتی ہیں۔ ہم گھنٹوں سوشل میڈیا پر وقت ضائع کرتے ہیں مگر ایک صفحہ بھی علامہ ابن تیمیہ، علامہ ابن قیم، علامہ ابن باز، علامہ ابن عثیمین یا علامہ البانی رحمہم اللہ اجمعین کی تصانیف میں سے پڑھنے کی ہمت نہیں رکھتے۔

یہ لمحۂ فکریہ ہمیں یہ باور کراتا ہے کہ علم کی میراث اور موجودہ وقت کا تضاد صرف المیہ نہیں بلکہ ایک انتباہ ہے۔ کتاب ہماری تہذیب کا ستون ہے اور اگر ہم نے ستون چھوڑ دیا تو عمارت کا وجود بھی خطرے میں ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی زندگی میں کتاب کو دوبارہ اولیت دیں، سوشل میڈیا کے استعمال میں اعتدال پیدا کریں اور آنے والی نسلوں کو بھی یہ سبق دیں کہ علم اور کتاب ہی اصل روشنی ہے۔

دعا ہے کہ رب العالمین ہمیں اہل علم کی محنتوں اور قربانیوں کا حق ادا کرنے کی توفیق دے، ہمیں اپنے وقت میں کتاب اور مطالعہ کو ترجیح دینے کی ہمت عطا کرے،سوشل میڈیا کے فتنے سے ہماری حفاظت فرمائے اور ہماری نسلوں کو علم کی روشنی سے منور رکھے۔ آمین

آپ کے تبصرے

3000