وہ شوق کہ دیدار کو ترسائے مدینہ
دل وہ ہے جسے ہر گھڑی یاد آئے مدینہ
ہر نقشِ کفِ پا ہے اسی شہر کے صدقے
اے کاش کسی موڑ پہ آ جائے مدینہ
سلطانِ مدینہ کے قدم جب سے پڑے ہیں
پھولوں سے بھرا رہتا ہے صحرائے مدینہ
ہر وقت وہاں ابرِ کرم سایہ فگن ہے
موسم ہو کوئی دہر میں راس آئے مدینہ
دامن سے الجھتے ہی نہیں خار یہاں کے
شاداب سدا رہتے ہیں گل ہائے مدینہ
ہر ذرہ یہاں صل علی پڑھنے میں مشغول
پر نور نظر آتے ہیں اجزائے مدینہ
ہر رات مرے خواب میں آ جائیں وہ کوچے
دل روز تصور میں چلا جائے مدینہ
اس شخص کو کوثر کا مزہ کیسے ملے گا
جس شخص نے پی ہی نہیں صہبائے مدینہ
اس زائرِ خوش بخت کی آنکھوں کو نہاروں
جو دیکھ کے آیا ہے سراپائے مدینہ
اتنی سی گزارش ہے قیامت کے فرشتو!
لکھنا مری تعریف میں شیدائے مدینہ
آنکھوں کو لبھاتے نہیں دنیا کے مناظر
ہر وقت مرے سر میں ہے سودائے مدینہ
اک اور برس شاد کو دے دے مرے مولا
ممکن ہے وہ اس سال چلا جائے مدینہ



ماشاء اللہ بہترین نعت ہے.
کچھ مصرعوں میں شبہات کے ازالہ کے لیے تبدیلی کرنے کا مشورہ ہے:
1- دل وہ جو کبھی بھول ہی نہ پائے مدینہ
2- ہر نقش کفِ پا ہے اسی شہر کا خواہاں
3- ہر سو ہے یہاں صل علٰی ورد کا جلوہ
4- اتنی سی گزارش ہے مری میرے فرشتو
بہت خوب زبردست
ما شاء الله تبارك الرحمن
زادكم الله شرفا وعزا و سعادة و زادكم من فضله و توفيقه.