توڑ کر کہتا ہے وہ دل میرا جوں بنتا ہے
دیکھ یوں یوں نہیں بنتا ہے وہ یوں بنتا ہے
سانس لیتے ہوئے جو تار جنوں بنتا ہے
محشر داغ دروں سوئے بروں بنتا ہے
بحر ہو جائے بیاباں جو کبھی پھینکیں اگر
سنگ وحشت پہ وہ سرمایۂ خوں بنتا ہے
اب کے آمادۂ غرقاب ہوں اس یم میں جہاں
غنچۂ آب تہ موج دروں بنتا ہے
صحرا سہما سا نظر آتا ہے آمد پہ مری
ہر قدم پر مرے اک دشت جنوں بنتا ہے
تشنگی میں ہے وہ تحلیل ہراسانی کہ یوں
سایۂ ابر رواں زار و زبوں بنتا ہے
گرمئ دید سے ہے کار چراغانی اسے
چشم سا جائے نگہ طاق فسوں بنتا ہے
مانئ زخم کہن وہ ہے شرابور لہو
پرتو خوں ہی سر پردۂ گوں بنتا ہے
ہوتا مقدور تو سینے میں بناتا روزن
غور کرتا سر دل کیسے سکوں بنتا ہے



آپ کے تبصرے