سلگنے لگتا ہے جب شعلۂ خیال مزید

حمود حسن فضل حق مبارکپوری شعروسخن

نہ پوچھ اس کی محبت کا حال چال مزید

دھڑکنے لگتا ہے پھر دل دم خیال مزید


اک التجا ہے نہیں کوئی قیل و قال مزید

گھٹا کے ہجر بڑھا دیجیے وصال مزید


ملا ہے جب سے سر دشت نقش پا اپنا

دکھا نہ پھر کبھی رم خوردہ وہ غزال مزید


دہک رہا ہے دل و جان میں غم جاناں

اور اس پہ ہے غم دوراں کا اشتعال مزید


مچلنے لگتی ہے سوزش سے ہستئ آفاق

سلگنے لگتا ہے جب شعلۂ خیال مزید


زباں سے نکلے سبھی حرف ہیں شہید سخن

سر سخن نہ محبت میں ہو قتال مزید


جہاں میں یوں نہیں جیتے کہ دیکھ کر ہر شے

خیال ہو پہ تمنا کی ہو مجال مزید


شب سیاہ میں کھوئی رہیں اداس آنکھیں

امید صبح اٹھاتی رہی سوال مزید


کفو نہیں تھا مرا عشق سو وداع کیا

وگرنہ ساتھ بگڑ جاتا خد و خال مزید


فلک پہ چاند کو تکتے ہیں اور زمیں پہ تجھے

سبھی کو چاہیے اک صورت جمال مزید


وہ ایک کاش کا لمحہ نکل ہی آئے گا

زمیں پہ کھینچوں اگر خط ماہ و سال مزید


نہ پوری ہوگی کبھی حاجت شب ہجراں

عطا بھی ہو جو مجھے عرصۂ ملال مزید


فسانہ قیس کا کافی نہ ذکر صحرا کا

جنوں کو حسب جنوں چاہیے مثال مزید

آپ کے تبصرے

3000