ہماری رہ سے انا کا غبار چھٹ جائے
یہ فاصلہ جو نظر آ رہا ہے گھٹ جائے
تم اپنے ساتھ اگر آئنہ بھی لے آؤ
تمھاری راہ ابھی پتھروں سے اٹ جائے
اتارنا ہے مجھے رخ سے نقلی چہروں کو
جو تاب لا نہ سکے سامنے سے ہٹ جائے
سوال کرنے لگا ہوں میں اپنے یاروں سے
قریب ہے کہ زمانے سے دل اچٹ جائے
بھری ہوئی ہے ہوا جہل کے غبارے میں
کبھی جو علم کی سوئی چبھے تو پھٹ جائے
فنا سے بر سرِ پیکار ہے بقا میری
سکوں ملے گا اگر ایک بھی نمٹ جائے
مرے وجود سے کیا بڑھ گیا تھا دنیا میں
گھٹے گا کیا جو یہ میرا وجود گھٹ جائے
مخالفین میں سب غم گسار بٹتے گئے
میں چاہتا تھا مرا غم سبھی میں بٹ جائے
سٹا تو لیتے ہو پیروں سے پیر مسجد میں
خدا کرے کہ کبھی دل سے دل بھی سٹ جائے
مخالفین سے لیتے ہیں شاد سب ٹکر
دلیر وہ ہے جو اپنے خلاف ڈٹ جائے



آپ کے تبصرے