تمام عمر مبادا نہ یوں ہی کٹ جائے
کبھی تو ناؤ ہماری ندی کے تٹ جائے
مری نگاہ تجھے دیکھتی رہے یوں ہی
جہاں کا حسن ترے حسن میں سمٹ جائے
کبھی ہنسے کبھی روئے کبھی وہ رقص کرے
کسی سے عشق کا آسیب جب چمٹ جائے
میں دستِ ضبط سے شب بھر سنبھالتا ہوں مگر
کتابِ دل ہے کہ ہر دن الٹ پلٹ جائے
وہ مجھ سے دور ہوئے جا رہے ہیں یا اللہ!
کوئی کرشمہ دکھا راستہ الٹ جائے
بھلا ہو ضبط کا ورنہ ہمارے گریے سے
زمیں دہلنے لگے آسمان پھٹ جائے
وہ کیا کرے جو ہماری طرح غزل نہ کہے
کسی سے ہجر کا آزار جب لپٹ جائے
سنوار لوں میں اسی لحظہ زندگی اپنی
نہ جانے کب وہ اچٹتی نظر پلٹ جائے
تم اہل ہوش کہاں ہم جنوں مزاج کہاں
محال ہے کہ ہماری تمھاری پٹ جائے
وگرنہ جان کی ہوتی رہے گی ارزانی
دعا کرو کہ عدالت کا دام گھٹ جائے
کوئی غزل بھی ہماری نہیں مکمل شاد
لہو لہو نہ قلم ہو جگر نہ کٹ جائے



آپ کے تبصرے