بجھ گیا جذبۂ دل شعلہ فشانی نہ رہی
ہاتھ میں اپنے وہ توفیق جوانی نہ رہی
کرکے تحویل جنوں قیس مجھے کہتا ہے
عہد میں تیرے مری سوختہ جانی نہ رہی
موج در موج ہے اندیشۂ سیلاب جنوں
قلزم عشق میں سمجھے تھے روانی نہ رہی
موت کے ساتھ اٹھی میری صدائے پر خوں
صحن ماتم زدہ میں آہ فغانی نہ رہی
محو تصحیف سخن ہوں سر ہنگام جنوں
دشت فرصت میں مری اور نشانی نہ رہی
موج انفاس سے منظر تھا سیہ پوش مرا
ہو چلی راکھ، وہ تصویر دخانی نہ رہی
مر گیے یوں کہ دعا پاتے ہیں سب زیر زمیں
قبر پر اپنی مگر فاتحہ خوانی نہ رہی
سارا عالم ہے یہاں گوش بر آواز حسن
نطق میں تیرے ہی تاثیر نہانی نہ رہی



آپ کے تبصرے