بخشش کا مہینہ ہے، یہ ہے موسمِ احسان
ہوتا ہے ہر اک لمحہ یہاں خیر کا فیضان
آؤ ذرا ہو جائیں گناہوں پہ پشیمان
اللہ سے جُڑنے کا مہینہ ہے یہ رمضان
یہ قدر کی راتیں یہ عبادت کے ہیں ایام
اسلام کی لذت ہے، مہکتا ہوا ایمان
گردوں سے اترتے ہوئے جبریل و ملائک
اس قدر کی شب پر سبھی راتیں ہوئیں قربان
رمضان کی عظمت کو یہی بات ہے کافی
اس ماہ مبارک میں نبی کو ملا قرآن
دروازے جہنم کے سبھی بند ہیں اس میں
چوطرفہ کھلا رہتا ہے جنت کا دبستان
سب چھوڑ کے کھانا ہو یا پانی ہو یا شہوت
رہتا ہے فرشتوں سا زمینوں کا یہ انسان
روزوں کا صلہ رب کو ہی معلوم ہے کاشف
جو روزہ رکھیں، خلد کے ہوں گے وہی مہمان



آپ کے تبصرے