دینِ اسلام میں جمعہ کے دن کی بڑی فضیلت آئی ہے۔ یہ ایک مبارک دن ہے،یہ دن ہفتے کی عید ہوتا ہے، اس دن غسل کرنا،صاف ستھرا لباس زیب تن کرنا،خوشبو لگانا،سورہ کہف کی تلاوت کرنا اور جلد مسجد پہنچنا بڑے ثواب کا کام ہے۔ ہر مسلمان شخص اس کا خصوصی اہتمام کرتا ہے،اپنی تمام تر مصروفیات اور کام کاج چھوڑ کر مسجد کا رخ کرتا ہے،دو رکعت تحیۃ المسجد پڑھتا ہے اور بیٹھ کر بغور امام کا خطبہ سنتا ہے۔
خطبہ جمعہ نہایت اہمیت کا حامل ہے،اس کا بڑا مقام و مرتبہ ہے،دعوت و تبلیغ اور لوگوں کی اصلاح و تربیت کا عظیم الشان ذریعہ ہے، بڑی سے بڑی کانفرنسیں،اجتماعات اور دروس و تقاریر کی اہمیت و افادیت سے انکار نہیں مگر وہ خطباتِ جمعہ کا بدل ہرگز نہیں ہوسکتے۔ اس کی متعدد خصوصیات ہیں:
(۱)اذان سنتے ہی دوڑ کر مسجد جانا۔
(۲)دو رکعت نفل ادا کرنا۔
(۳)گردنیں نہ پھلانگنا۔ (ساتھیوں کو تکلیف نہ دینا)
(۴)خاموشی کے ساتھ مکمل خطبہ سماعت کرنا۔
(۵)کسی کی غیر ضروری حرکت پر بھی نہ ٹوکنا۔ وغیرہ
جمعہ کا خطبہ بندہ شرحِ صدر اور مکمل توجہ کے ساتھ اجر وثواب کی نیت سے سنتا ہے اور اپنے قلوب و اذہان کو منور کرتا ہے۔ یہ ایک ایسی عظیم نعمت ہے جو صرف امت مسلمہ کو عطا کی گئی ہے۔ دوسرے کسی بھی مذہب میں اِس شکل میں اس کا تصور ہی نہیں۔ خطبہ جمعہ کی بات ہی کچھ اور ہے، اس میں معنوی اور روحانی تاثیر ہوتی ہے، جو دل پر گہرے نقوش چھوڑ جاتی ہے اور ہر ہفتہ اس کی تجدید ہوتی رہتی ہے۔
جمعہ کے خطبات جو مساجد میں قائم ہوتے ہیں،ان سے تزکیہ نفس ہوتا ہے،لوگوں کے دلوں میں اللہ کا خوف پیدا ہوتا ہے،سخت سے سخت پتھر دل موم ہوجاتے ہیں،برسوں کے بگڑے ہوئے سُدھر جاتے ہیں اور اپنی اصلاح کر لیتے ہیں۔ لوگوں میں اطاعت و فرمانبرداری کا جذبہ بیدار ہوتا ہے،بُری عادات واطوار سے تائب ہوتے ہیں اور سعادت و کامرانی کی راہ کی طرف آتے ہیں۔
خطبہ جمعہ اگر مؤثر ہو تو ہر چہار جانب سے اٹھنے والے نت نئے فتنوں کی سرکوبی کرتا ہے،حق کا پیغام عام کرتا ہے، باطل کا قلع قمع کرتا ہے،کفرو شرک،معصیت و نافرمانی،سرکشی، نفرت وعداوت اور بغض و حسد کی آگ کو بجھاتا ہے۔ جھوٹ،دھوکہ دہی،فسق و فجور، ظلم و تعدی سے منع کرتا ہے،رزق حلال کی ترغیب دیتا ہے اور اکل حرام پر قدغن عائد کرتا ہے۔
خطبہ مسنونہ کے آغاز ہی میں توحید و رسالت کی دعوت عام کی جاتی ہے،مضبوط ایمان و عقیدہ کا درس دیا جاتا ہے کہ اسی پر دنیا و آخرت کی کامیابی کا دارومدار ہے۔ ہرقسم کے گناہوں سے متنبہ کیا جاتا ہے،اعلی اخلاق و کردار کی تعلیم دی جاتی ہے،قرآن و حدیث کی روشنی میں ہر وہ کام بتایا جاتا ہے جس میں ہر کسی کے لیے خیر ہو،عبرت آموز واقعات سنائے جاتے ہیں۔ نیز احکام و آداب پر بھی گفتگو کی جاتی ہے۔ گویا خطبہ جمعہ وہ تربیتی ادارہ ہے جو ہفتے میں ایک بار ضرور کھلتا ہے اور سال بھر میں 52 مرتبہ بندوں کی ٹریننگ کرتا ہے،موسم جیسا بھی ہو۔ ٹھنڈی ہو یا گرمی وہ اپنا فرض نبھاتا ہے۔
لہذا خطیب جو جمعہ کا خطبہ دیتا ہے،اس پر ضروری ہے کہ خطبہ کے آداب و احکام کا لحاظ کرے،خطبہ جمعہ دینا بڑی ذمہ داری کا کام ہے،بہتر طریقے سے تیاری کرے، مستند اور معتبر باتیں پیش کرے،اس کی زبان سے نکلنے والا ایک ایک لفظ امانت ہے،جو کچھ بھی بولے کہے خیر خواہی کے جذبے سے کہے،اسلوب صاف ستھرا ہو،اس کی گفتگو لوگ بہ آسانی سمجھ جائیں،بہترین انداز میں پیش کرے،خطیب کا حالاتِ حاضرہ سے واقف رہنا بہت ضروری ہے،انہی موضوعات کا انتخاب کرے جس کی لوگ ضرورت محسوس کریں،انھیں لگے کہ واقعی یہ موضوع بہت اہم ہے،اس کی اشد ضرورت تھی۔
در حقیقت خطیب وہی ہے جو خطبے کا حق ادا کرے۔ خطیب سماج و معاشرے کا بہترین داعی اور مصلح ہوتا ہے،تیاری میں سستی کاہلی سے ہرگز کام نہ لے،مسجد ومحراب،منبر و مقتدی سب امانت ہیں،وہ خیانت کا مرتکب نہ ہو۔ افسوس ہوتا ہے بعض ائمہ و خطباء پر جو خطبہ کو بس رسمی طور پر نبھاتے ہیں اوراپنے عظیم منصب کا لحاظ نہیں کرتے،ٹائم پاس کرتے ہیں، برمحل موضوع تیار نہیں کرتے،محنت سے جی چُراتے ہیں، قصے کہانیاں اور وہی من گھڑت گھسی پٹی باتیں جو برسوں سے چلی آ رہی ہیں چیخ چلا کر بیان کرنا،ڈینگیں مارنا، بڑے بڑے دعوے کرنا۔ مزید تعجب تب ہوتا ہے جب آخر میں یہ کہہ کر اتر جاتے ہیں کہ ٹائم پورا ہوگیا اصل موضوع کی وضاحت ہی نہ کر سکا، وہ سامعین سے صرف داد و تحسین کے خواہاں ہوتے ہیں۔ بیچارے معصوم عوام جو خطبے کے اصل مقصد سے نابلد ہیں۔ خطیب کی گرجدار آواز، اوور ایکٹنگ اور قصے کہانیوں ہی میں بدمست۔ واہ امام صاحب! آج تو مزا آگیا۔
اصل خطیب وہی ہے جس کے اندر خلوص ہو،سیکھنے سکھانے کا جذبہ ہو اور عوام الناس کا ہمدرد ہو۔ خطیب وہی ہے جو متواضع ہو، اس میں دینی تڑپ ہو، جو کچھ کہہ بول رہا ہو اس پر عمل بھی کرتا ہو۔ لوگ ایسے ائمہ و خطباء کو ہرگز نہیں پسند کرتے جن کا قول ان کے عمل کے مخالف ہو اور نہ ہی ایسوں کی باتوں میں کچھ وزن رہ جاتا ہے۔
قابل مبارک باد ہیں وہ خطباء کرام جو خطباتِ جمعہ کی اہمیت کو سمجھتے ہیں اور کما حقہ اپنا فرض ادا کرتے ہیں۔دعا ہے کہ اللہ علم نافع عطا کرے اور جو کچھ سیکھ پڑھ سکیں اس پر عمل کی توفیق دے۔



آپ کے تبصرے