آج سے کم وبیش بارہ پندرہ برس پہلے کی بات ہے، ہم مکتب میں زیرِ تعلیم تھے۔ اُس زمانے میں فجر اور مغرب کے بعد کھیل کود ممنوع تھا۔ کتابیں لے کر بیٹھنا ، پڑھنا اور لکھنا واجب تھا۔
لائٹوں کا اس طرح اہتمام نہیں تھا جس طرح سے آج ہے۔
سورج غروب ہوتے ہی ہر گھر میں لالٹینیں اور چراغ جل اٹھتے تھے۔ مدھم روشنی میں بھائی بہن سب مل کر بیٹھتے اور سبق یاد کیا کرتے تھے اور گرمی سے نجات پانے کے لیے پنکھا جھلتے (بینا ہانکتے) تھے۔ مغرب کے بعد اساتذہ گشت کیا کرتے اور اگر اس دوران کوئی کھیلتے کودتے مل جاتا یا کسی کے گھر سے پڑھنے کی آواز نہ آتی تو اس کی خیر نہیں ہوتی، صبح ترانے کے بعد بانس کی چھپکیوں سے خاطر تواضع ہوا کرتی تھی۔
البتہ عصر اور مغرب کے درمیان کھیلنے کودنے کی اجازت تھی۔ ہم مکتب سے چھوٹتے ہی کنْچے جیبوں میں بھر کر گلی کوچوں کی خاک چھاننے نکل جایا کرتے تھے۔
گلی ڈنڈا، بیٹ بال،فٹ بال، ہاکی، آئس پائس، کبڈی، لٹو اور نیگورچا وغیرہ کھیل کھیل کر پسینے سے شرابور ہونے کا اپنا ایک الگ مزہ تھا۔ یہ سب صرف کھیل نہ تھے بلکہ ہمارے بچپن کی پہچان اور خوشیوں کا سامان تھے۔
انہی کھیلوں کے ساتھ ہم بڑے ہوئے۔ انہی کھیلوں سے ہم نے ہارنے اور جیتنے کا سلیقہ سیکھا اور دوستی کی مٹھاس چکھی۔
لیکن اب یہ سارے کھیل آہستہ آہستہ ناپید ہوتے جا رہے ہیں۔ آج کے بچے موبائل کی چمکتی اسکرینوں میں گم ہیں۔
دل لگا کر پڑھتے ہیں اور نہ ہی کھیلتے ہیں۔ گاؤں کے گلی کوچے بچوں کی چہکاریاں سننے اور کھیل کود دیکھنے کو ترس گئے ہیں۔
اب وہ ننھے کاریگر جو پرانی چپلیں کاٹ کاٹ کر چَکّے بناتے تھے اور فخر سے گلی کوچوں میں دوڑایا کرتے تھے چراغ لے کر ڈھونڈنے پر بھی نہیں ملتے ہیں۔ ہاتھوں میں غلیل لیے گوریّوں کی تلاش میں پھرتے بچے بھی نظر نہیں آتے ہیں۔
اب نہ رنگ برنگی تتلیاں رہیں اور نہ ان کے تعاقب میں دوڑنے والے معصوم بچے۔
ہمیں خوب اچھی طرح یاد ہے۔ رات کو سونے کے لیے بستر پر جاتے تھے تو بڑے بوڑھے کہانیاں سنایا کرتے تھے اور بچے آپس میں پہلیاں بوجھتے بجھاتے تھے۔
صبح اٹھ کر ہوم ورک وغیرہ مکمل کرتے اور چائے میں روٹیاں ڈبو کر کھاتے اور پڑھنے نکل جاتے، جاتے وقت
کھاد کی بوریاں ساتھ لے جاتے اسی پر بیٹھ کر پڑھا کرتے تھے۔
موبائل فون نہیں تھا تو گھر کی خواتین کا محبوب ترین مشغلہ ڈھکیا اور بینا بنانا، کتھری بچھونا سِینا اور آپس میں ایک دوسرے سے دنیا جہان کی باتیں کرنا تھا اور جن کو مطالعہ کا شوق ہوتا وہ گھر کے کاموں سے فارغ ہوکر پاکیزہ آنچل، ھُما اور دیگر کتابوں کی ورق گردانی کیا کرتی تھیں لیکن اب خواتین کھانا وغیرہ تیار کرکے سیریل اور اِدھر اُدھر کال میں مصروف ہو جاتی ہیں۔
اور اس موبائل فون نے بچوں کا بچپن بھی چھین لیا ہے۔ کتابوں اور کھیلوں کو بہت نقصان پہنچایا ہے۔
کتابیں لے کر بیٹھنے، پڑھنے لکھنے اور گلی کوچوں میں کھیلنے کے بجائے آج کے بچے موبائل کی چمکتی اسکرینوں میں کھو گئے ہیں۔ گیم ہیں، مگر جذبہ نہیں۔ آوازیں ہیں، مگر وہ قہقہے نہیں۔
آج بچوں کو موبائل کی اسیری سے رہائی دلانے کی سخت ضرورت ہے، کیوں کہ موبائل کا بے جا اور بے مقصد استعمال بچوں کے لیے شدید نقصان دہ ہے۔ والدین اور سرپرست اس مسئلے کو لے کر پریشان ہیں اور اصلاح چاہتے ہیں۔
اصلاح کے کئی طریقے ہوسکتے ہیں:
(۱)سب سے پہلے والدین اور سرپرست اپنی اصلاح کریں، کیوں کہ بچے وہی کرتے ہیں جو بڑوں کو کرتا ہوا دیکھتے ہیں۔
(۲)بچوں کو ہر وقت موبائل دینے کے بجائے اپنا قیمتی وقت دیں۔
اسلاف کے واقعات پڑھیں تو معلوم ہوتا ہے کہ اُنھوں نے فلاں کتاب اپنے والدِ گرامی سے اور فلاں کتاب دادا جان سے پڑھی تھی۔ اُن لوگوں کے پاس اپنے بچوں کی تعلیم و تربیت کے لیے وقت ہی وقت تھا۔ لہٰذا ہمیں بھی چاہیے کہ بچوں کی تعلیم وتربیت کے لیے وقت نکالیں۔ پڑھائی کے وقت بچوں کو ساتھ بٹھائیں اور پڑھنے لکھنے میں ان کی مدد کریں۔ دل لگا کر پڑھنے کی ترغیب دلائیں اور اسی طرح کھیلنے کے وقت یا تو خود ان کے ساتھ کھیلیں یا کھیلنے کودنے کا مناسب سامان فراہم کریں۔
(۳)جب سونے کا وقت ہو، بچے بستر پر جائیں تو انھیں موبائل تھمانے سے گریز کریں اور خود ان کے پاس بیٹھیں اور نصیحت آموز قصّے کہانیاں سنائیں یا موبائل ہی پر ایسے مفید ویڈیو لگا کر دکھائیں جس میں عقیدہ اور آداب و اخلاق آسان انداز میں سکھائے گئے ہوں۔
(۴)وقت کی اہمیت بتائیں اور وقت کی قدر کرنا سکھائیں۔
سمجھائیں کہ اللہ تعالیٰ نے ہر عبادت کا ایک وقت مقرر فرمایا ہے۔ نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ، قربانی، سحر و افطار حتیٰ کہ سونے جاگنے کا بھی وقت مقرر ہے۔
اسی طرح پڑھنے، کھیلنے اور موبائل استعمال کرنے کا بھی وقت متعین کیا جائے اور ہر کام اس کے وقت پر دلجمعی کے ساتھ کیا جائے۔
(۵)بچوں میں یہ احساس پیدا کیا جائے کہ کل قیامت کے روز وقت کے بارے میں بھی اللہ عزوجل پوچھے گا کہ وقت کیسے اور کہاں گزار کر آئے؟
بچوں کو مفید اور بامقصد چیزوں میں وقت صرف کرنے کی ترغیب دلائیں۔ اسی طرح لایعنی اور فضول چیزوں میں وقت گزارنے کے نقصانات سے متنبہ کریں۔
(۶)بچوں کو کھیل کود اور وزرش کے جسمانی اور ذہنی فوائد سے آگاہ کیا جائے، تاکہ وہ پڑھائی اور اسکول کے کاموں سے فارغ ہو کر موبائل کے بجائے کھیل کو ترجیح دیں۔
(۷)اکثر والدین روتے ہوئے بچوں کو چپ کرانے یا شرارت سے باز رکھنے کے لیے فوراً موبائل ان کے ہاتھ میں تھما دیتے ہیں اور بعض اوقات بچوں کو لالچ دیتے ہیں کہ فلاں کام کرو گے تو موبائل ملے گا۔ یہ طرزِ عمل بچوں کے حق میں نہایت ہی خطرناک ہے، کیونکہ اس سے بچہ آہستہ آہستہ موبائل کا عادی بن جاتا ہے۔
اس لیے ضروری ہے کہ بچوں کو چپ کرانے یا کسی کام پر آمادہ کرنے کے لیے موبائل کے بجائے کھلونے، کہانیاں، یا سیر و تفریح جیسے مثبت اور صحت مند متبادل اختیار کیے جائیں۔
(۸)موبائل کے استعمال سے ہونے والے نقصانات بتائیں تاکہ بچے کے دل میں ڈر گھر کر جائے اور موبائل کے استعمال سے دور رہے۔
(۹)گھر میں لائبریری قائم کریں اور مطالعہ کا ماحول بنائیں۔ بچوں میں مطالعہ کا شوق پیدا کریں۔
بچوں کے لیے لکھی گئی آسان اور اچھی کتابیں فراہم کریں۔
(۱۰)بچوں کی عمر کو مدنظر رکھتے ہوئے ان پر کچھ گھریلو ذمہ داریاں عائد کی جائیں اور ذمہ داری بخوبی ادا کرنے پر ان کی حوصلہ افزائی بھی کی جائے۔
(۱۱)بچوں کو عبادت، ذکر و اذکار، قرآن کی تلاوت اور دینی محفلوں سے جوڑیں، تاکہ ان کا وقت بامقصد گزرے اور موبائل کا فضول استعمال آہستہ آہستہ کم ہو۔
اس کے علاوہ اور بھی طریقے ہوسکتے ہیں جن کے ذریعے بچوں کو موبائل کی اسیری سے آزاد کیا جا سکے۔ جو طریقہ بھی مناسب اور مفید ہو، اسے بروئے کار لایا جائے تاکہ بچوں کو موبائل کے غلط اور نقصان دہ استعمال سے بچایا جا سکے۔



آپ کے تبصرے