اتنی چھوٹی ہے یہ دنیا مجھے معلوم نہ تھا

عبدالکریم شاد شعروسخن

تجھ سا کوئی نہ ملے گا مجھے معلوم نہ تھا

اتنی چھوٹی ہے یہ دنیا مجھے معلوم نہ تھا


تجھ کو دیکھا تو میں سمجھا کہ محبت کیا ہے

اس سے پہلے یہ معما مجھے معلوم نہ تھا


اپنے دیوانے کا قصہ تھا سنایا اس نے

عشق کرنے کا سلیقہ مجھے معلوم نہ تھا


تیرنا آ تو گیا بحرِ محبت میں مجھے

پھر ملے گا نہ کنارا مجھے معلوم نہ تھا


جب اسے جاتے ہوئے دیکھا تو معلوم ہوا

جسم سے روح کا رشتہ مجھے معلوم نہ تھا


اتنا معلوم تھا مہلک ہے محبت کا مرَض

درد بڑھ جائے گا اتنا مجھے معلوم نہ تھا


رات بھر ہنستے رہے چاند ستارے مجھ پر

معنیِ وعدۂ فردا مجھے معلوم نہ تھا


مجھ کو لگتا تھا ترا ہجر گزر جائے گا

تنگ ہو جائے گا رستا مجھے معلوم نہ تھا


چادرِ ضبط میں اوڑھے ہوئے بیٹھا تھا شاد!

مارِ عجلت بھی چھپا تھا مجھے معلوم نہ تھا

آپ کے تبصرے

3000