تو وفا کا ذکر کرنا چھوڑ دے
عشق، الفت، پیار کرنا چھوڑ دے
رسمِ الفت جب نبھانی ہی نہیں
دل کی گلیوں سے گزرنا چھوڑ دے
دسترس میں جب نہیں آتا مرے
میرے آنگن میں اترنا چھوڑ دے
گردشِ ایام کا حصہ ہے سب
مشکلوں میں تو بکھرنا چھوڑ دے
زندگی سے اس قدر جب پیار ہے
ہو اگر ممکن تو مرنا چھوڑ دے
مان لیں گے ہم تری باتیں سبھی
بس تو وعدوں سے مکرنا چھوڑ دے
موت تو آئے گی اپنے وقت پر
موت کے آنے سے ڈرنا چھوڑ دے
چار دن میں روپ سب ڈھل جائے گا
اس قدر سجنا سنورنا چھوڑ دے
دور تک تو بھی نہیں اُڑ پائے گا
دوسروں کے پر کترنا چھوڑ دے
شیخ ماشاءاللہ بہت اچھی غزل ہوئی ہے
آپ کی غزل کے مطلع سے پتا چلتا ہے کہ آپ نے “ذکر” اور “پیار” کو قافیہ بنایا ہے اور “کرنا چھوڑ دے” ردیف ہے
مگر پوری غزل میں آپ نے “کترنا” “سنورنا” وغیرہ کو قافیہ بنایا ہے اور ردیف “چھوڑ دے”
اس لئے مطلع پر نظر ثانی فرمائیں
والسلام