تمھارے واسطے دل میرا کیوں مرا جائے
تمھیں میں یاد نہ آؤں تو کیا کیا جائے
تمھاری یاد ستائے گی عمر بھر ہم کو
تو آج کیوں نہ ذرا دیر رو لیا جائے
ہمارے بعد ہمیں یاد رکھ سکے دنیا
کچھ ایسا کام بھی جیتے جی کر لیا جائے
انھوں نے عہد وفا ہم سے کب نبھایا تھا
جو ان کے عہد وفا کا صلہ دیا جائے
غزل ہو ایسی کہ اس میں ہو زندگی کشفی!
قصیدہ زلف سیہ کا نہ اب کہا جائے