جذبات کے ساتھ

ہدایت اللہ خان شمسی شعروسخن

تھے جو مربوط کبھی دوست مری ذات کے ساتھ

ہوگئے وہ بھی جدا گردشِ حالات کے ساتھ


یہ تو ہے ذکر ستم، یار خفا مت ہونا

نام آجائے تمھارا جو کسی بات کے ساتھ


قربِ جاناں سے معطر تو ہوا جسم مگر

روح بے چین ہوئی تشنہ ملاقات کے ساتھ


اپنے معصوم چراغوں کی حفاظت کرنا

جنگ لڑنی ہے ابھی نور کو ظلمات کے ساتھ


لاکھ محفل میں گلے ملتے رہے لوگوں سے

آج بھی دل نہیں ملتے کہیں جذبات کے ساتھ


ہم کو نفرت کی فضاؤں کو دکھا کر آنکھیں

زندہ رہنا ہے محبت کی روایات کے ساتھ


جن کو سمجھا تھا خدا، نکلے صنم پتھر کے

راز افشا یہ ہوا پہلی ملاقات کے ساتھ


نالے ندیوں سے تڑپ کر جو گلے ملنے لگے

یاد وہ آئے بہت موسم برسات کے ساتھ


خون خلقت سے زمیں سرخ ہوئی ہے شمسیؔ

زخم پھر تازہ ملا سال کی سوغات کے ساتھ

آپ کے تبصرے

3000