دين اسلام خير خواہى اور ہمدردى كا مذہب ہے، يہ ہمدردى دين كے مختلف احكامات ميں نظر آئے گى، روزه كے ذريعہ اسلام نے جہاں انسان ميں تقوى اور اخلاقى اصلاح كى راہيں ہموار كى وہيں انسانى بهائى چاره، بهوكوں كو كهلانے، ان كے دكھ درد كو محسوس كرنے اور انھيں كهلاكر ان كى دعائيں لينے كى تعليم دى، اسى سلسلہ كى ايك كڑى روزه دار كو افطار كرانا بهى ہے۔
(۱)روزه افطار كرانے كى فضيلت:
عن زيد بن خالد الجهني رضي الله عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم “من فطر صائما كان له مثل أجره، غير أنه لا ينقص من أجر الصائم شيئا (أخرجه الترمذي وصححه الألباني في صحيح الترمذي: 807)
حضرت زيد بن خالد الجہنى رضي الله عنہ فرماتے ہيں،الله كے رسول صلى الله عليہ وسلم نے فرمايا:جو شخص كسى روزه دار كو افطار كرائے تو اسےبهى اتنا ہى ثواب ملے گا جتنا روزه دار كو ملتا ہے اور روزه دار كے ثواب ميں كوئى كمى واقع نہیں ہوگى۔ (جامع الترمذى)
حديث كا ظاہرى مفہوم یہی ہے كہ اگر كوئى كسى كو کھجور سےبهى روزه افطار كرادے تو اس كے روزه كے برابر ثواب حاصل كرسكتا ہے، عموماً تصور ہے كہ افطار كرانے ميں محتاجوں كو افطار كرانے پر ثواب ملتا ہے جب كہ حديث ميں مالدار يا غريب كى كوئى قيد نہیں ہے۔
(۲)جديد دور ميں اجتماعى افطار كے انتظامات:
روزه دار كو افطار كرانے كے عظيم ثواب كے پيش نظر يہ جذبہ مسلمانوں ميں قابل تعريف ہےكہ وه اجتماعى افطار كا انتظام كرتے ہيں اور روزه داروں كى خدمت كو اپنے لیے سعادت تصور كرتے ہيں۔
مسجد حرام مكہ مكرمہ ميں قريب باره كلو ميٹر كے لگ بھگ افطار كے دسترخوان سجائے جاتے ہيں جس ميں روزه داروں كے لیے کھجور، پانى ، دہى، مشروبات جيسى ہلكى پھلکی چیزیں ركهى جاتى ہيں، تلى ہوى يا مرغن غذائيں منع ہيں تاكہ مسجد ميں مہك مصليوں كے لیے خلل كا باعث نہ بنے۔ اسى طرح مسجد نبوى ميں اور اس كے وسيع وعريض صحن ميں افطار كےدسترخوان سجانا كئى قبيلوں كا باپ داداؤں سے چلا آرہا شرف اور اعزاز ہے جسے وه كسى قیمت پر چهوڑنا نہیں چاہتے اور برابر اسے اپنى ايك دینی ذمہ دارى كے طور پر نبهائے جارہے ہيں۔
حرمين كے علاوه عام طور پر خليجى ممالك ميں روزه داروں كے لیے “إفطار صائم” كے خيمے لگائے جاتے ہيں جہاں ہزاروں لوگ بيك وقت افطار كرتے ہيں۔
(۳)قطر ميں افطار صائم كے خیمے:
قطر ميں ان خیموں كا خاص اہتمام ہوتا ہے، رہائشى اور صنعتى علاقوں ميں يہ خیمے بكثرت ديكهے جاسكتے ہيں جو اكثر مقامى رفاہى ادارے جيسے جمعیۃ قطر الخيریۃ، جمعیۃ الهلال الأحمر القطری اور صندوق الزكاة كى جانب سے لگائے جاتے ہيں، اس بات كا بهى لحاظ ركها جاتا ہے كہ يہ خیمے بڑى مسجد سےقريب ہوں تاكہ نماز مغرب كے لیے دور جانے كى ضرورت نہ پڑے۔
ان خیموں سے مستفيد ہونے والوں ميں اردو داں طبقہ كى ايك بڑى تعداد ہوتى ہے، ان كے لیے ايك اردو واعظ كا بهى انتظام كيا جاتا ہے جو روزانہ افطار سےقريب آدها گهنٹہ قبل خیمہ كے انتظاميہ كى جانب سے دیے گئے كسى ايك موضوع پر روشنى ڈالتے ہيں اور عام فہم انداز ميں ان سے مخاطب ہوتے ہيں، جيسے عقيدۂ توحيدكى اہميت، اسلام كے اركان، نماز، روزه كى فضيلت، جنت وجہنم كا تذكره، اعتكاف اور عيد كے احكام وغيره۔
نظم ونسق كے لیے خیمہ كے مشرف ہوا كرتے ہيں جو سارے كاموں كى نگرانى كرتے ہيں، ان خیموں ميں معيارى كهانے كے ساتھ مشروبات اور ديگر اشياء پر مشتمل ايك مكمل باكس ديا جاتا ہے جس سے روزه دار شكم سير ہوجاتا ہے۔
(۴)ہندوستان ميں اجتماعى افطار كى شكليں:
ہندوستان ايك عظيم ملك ہے ، يہاں روزه داروں كے افطار كے لیے ہر رياست اور علاقہ ميں ايك الگ طریقہ اور ايك قديم روايت رائج ہے، بالعموم پورے ملكِ ہندوستان ميں اكثر مساجد ميں افطار كا انتظام ہوتا ہے، جنوبى ہند ميں صوبۂ تامل ناڈو ميں مسجد سے گنجى تقسيم كى جاتى ہے اور ہر گهر سے بچے مسجد پہنچ كر اسے حاصل كرتے ہيں جبكہ صوبۂ كرناٹك ميں مسجد ميں كسى اہل خير كى جانب سے نماز مغرب كے فورى بعد مسجد كے صحن ميں يا مسجد سے قریبى مكان ميں روزه داروں كے لیے عشائیہ كا انتظام ہوتا ہے، قريوں ميں اذانِ مغرب سے پہلے بچے اپنےگهروں سے كچھ افطارى لے كر مسجدپہنچتے ہيں اور اجتماعى افطار كا حصہ بنتے ہيں۔
آج كل سياسى حلقوں ميں بهى افطار پارٹى كا خاص چلن ہے جو عموما مسلم سياستدانوں كى جانب سے اپنى پارٹى كے ليڈروں كے ليے ہوا كرتى ہيں۔
(۵)مسافروں كے ليے افطار:
مسافر سفر ميں ہونے كى وجہ سے خاطر خواه اپنا انتظام نہیں كرپاتا ہےليكن كچھ الله كے بندے ہوتے ہيں جو ان كے لیے بهى انتظام كرنے كى تڑپ اپنے اندر ركهتے ہيں، رمضان 1415ہجرى (1995ء) كى بات ہے كہ ميں اور ميرے ساتهى عبد الرؤوف ہنچالى 28 رمضان كو ممبئى ميں تراويح سناكر بذريعہ بس بيجاپور واپس ہورہے تهے، ہمارى بس ايك ڈهابے پر ركى، ايك بزرگ بس ميں تشريف لائے اور ہم سےپوچها: “آپ دونوں روزه سے ہيں؟” ہم نے اثبات ميں جواب ديا تو فرمايا :”افطار ميں كچھ منٹ باقى ہيں، آپ ہمارے ساتھ افطار كريں”، ہم نے گاڑى چهوٹنے كے ڈر سےمعذرت كى تو بزرگ چچا نے كہا “آپ كےڈرائيور اور كنڈكٹر كہاں ہيں؟” ہم نے ان كى طرف اشاره كيا، وه ہم دونوں كو اپنے ہمراه لیے ان كے پاس پہنچے وه غير مسلم تهے، چائےپى رہے تهے، كہا “يہ دونوں روزه دار ہيں، آپ چائے سے فارغ ہوكر تهوڑى دير ان كا انتظار كرليں، يہ ہمارے ساتھ افطار كركے پہنچیں گے”، چچا ہميں اپنےساتھ لے گئے جہاں انھوں نے پہلےسے كئى لوگوں كو افطار اور باجماعت نماز كے لیےاكٹها كيا تها، ہمیں اپنے ساتھ افطار كروايا اور بس كے قريب پہنچاكر لوٹ گئے، بس ميں سارےمسافر سوار تهے صرف ہمارا انتظار تها جيسے ہى ہم پہنچے بس شروع ہوگئى، الله ايسے خيرخواہوں كو نہال ركهے، آمين۔


آپ کے تبصرے