جمعہ کے خطبے اور خطیبوں کی ادلابدلی

شہاب الدین کمال عبادات

خطبۂ جمعہ ایک عظیم عبادت ہے اور خطبہ سننے کے لیے اہتمام کے ساتھ تیار ہونا اجر و ثواب کا باعث ہے۔ جو شخص جمعہ کے دن غسل کرے، جلدی مسجد پہنچے، امام کے قریب بیٹھے، ہمہ تن گوش ہوکر خطبہ سنے اور ہر قسم کی لغو حرکت سے اجتناب کرے تو اس کے ہر ہر قدم پر ایک سال کے روزوں اور ایک سال کے قیام (تہجد) کا ثواب لکھا جاتا ہے۔(سنن ابوداؤد:٣٤٥)
خطبۂ جمعہ کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے بھی ہوتا ہے کہ اگر کوئی شخص دورانِ خطبہ گفتگو کرے، یا گفتگو کرنے والے شخص کو خاموش رہنے کی تلقین کرے، تو اس کا اجر ضائع ہوجاتا ہے۔
اس کے برعکس جو شخص خاموشی اور توجہ کے ساتھ خطبہ سنے، اس کے دس دنوں کے گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں۔ (صحیح مسلم:۸۵۷)
چنانچہ جمعہ کے دن غسل کرنا، عمدہ لباس زیب تن کرنا، خوشبو لگانا، اذان سے قبل مسجد پہنچنا، امام کے قریب بیٹھنا اور لغو حرکت سے باز رہنا شریعت کی یہ تعلیمات تازگی، نشاط اور سنجیدگی پیدا کرتی ہیں، تاکہ ایک مسلمان پوری توجہ اور انہماک کے ساتھ خطبۂ جمعہ سن سکے۔
خطبۂ جمعہ دعوت وتبلیغ اور اصلاحِ معاشرہ کا نہایت ہی موثر ذریعہ ہے۔ لہٰذا خطیب پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنے سامعین کے حالات سے اچھی طرح واقف ہو کہ وہ کن مسائل سے نبرد آزما ہیں، ان میں کیا خوبیاں اور خامیاں ہیں، اخلاق و عادات کیسے ہیں؟کون سی برائیاں سماج و معاشرے میں اپنے پیر پسار رہی ہیں؟
ان تمام پہلوؤں کو سامنے رکھ کر موسم اور حالات کے مطابق موضوع کا انتخاب کرے اور مکمل تیاری کے بعد خطبہ دے تو بہترین نتائج برآمد ہوں گے اور ایک صالح و پاکیزہ معاشرہ تشکیل پائے گا۔
اس کے بر خلاف اگر ان امور کا اہتمام کیے بغیر خطبہ دیا جائے تو خاطر خواہ فائدہ حاصل نہیں ہوتا ہے۔
اس لیے ضروری ہے کہ ایسے شخص کے کندھوں پر خطبے کی ذمہ داری ڈالی جائے جو سامعین اور معاشرے کے حالات سے خوب اچھی طرح واقف ہو۔ اور یہ فریضہ مسجد کا مستقل امام و خطیب ہی بہتر انداز میں انجام دے سکتا ہے، کیوں کہ مہمان خطیب کے لیے مقامی حالات سے مکمل آگاہی حاصل کرنا نہایت مشکل کام ہے اور سامعین کے مسائل، ان کے فہم و شعور کی سطح اور معاشرتی حالات کو جانے بغیر خطبہ دینا مؤثر ثابت نہیں ہوتا ہے۔ لیکن المیہ یہ ہے کہ اب اکثر مساجد میں مہینے کے چاروں خطبے چار مختلف خطیب دیتے ہیں۔
حالانکہ نبی کریم ﷺ، صحابۂ کرام، تابعین اور تبع تابعین کے دور میں اس طرزِ عمل کی مثال نہیں ملتی۔ چند سال پہلے تک یہ رواج عام نہیں تھا، مگر اب یہ ایک معمول بنتا جا رہا ہے۔
البتہ کسی معقول عذر کی بنا پر باہر سے خطیب بلانے یا کبھی کبھار کسی دینی مصلحت کی وجہ سے جید عالم کو بطورِ خطیب مدعو کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ بلکہ یہ تنوع بسا اوقات سامعین کے لیے مزید افادہ اور تازگی کا باعث بن جاتا ہے۔ لیکن مستقل طور پر خطیب تبدیل کرتے رہنا درست عمل نہیں ہے۔ اس کے فوائد کم اور نقصانات زیادہ ہیں۔
فائدہ بس اتنا معلوم ہوتا ہے کہ خطیب تبدیل کرتے رہنے سے سامعین کا انٹرٹینمنٹ بنا رہتا ہے اور نئے نئے اندازِ خطاب سے محظوظ ہونے کا موقع ملتا ہے نیز باہر سے آنے والے خطیب کو کچھ پیسے مل جاتے ہیں۔
جبکہ نقصانات درج ذیل ہیں:

١- سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ مہمان خطیب عوام کے حالات سے اچھی طرح واقف نہ ہونے کی وجہ سے اپنی صوابدید کے مطابق موضوع کا انتخاب کرتا ہے اور خطبہ دے کر رخصت ہو جاتا ہے، اس سے سامعین کو محض وقتی لطف تو حاصل ہوجاتا ہے لیکن صحیح ڈھنگ سے اصلاح نہیں ہو پاتی ہے۔
اس کے برعکس، جب مسجد کا مستقل امام خطبہ دیتا ہے تو وہ سامعین کے مسائل، ان کے فہم و شعور کی سطح اور معاشرتی حالات کو سامنے رکھ کر گفتگو کرتا ہے۔ ان کی خامیوں اور کوتاہیوں پر متنبہ کرتا ہے۔ معاشرے کی موجودہ خرابیوں سے عوام کو آگاہ کرتا ہے۔ اس کے خطرناک نتائج بیان کرکے اصلاح کی بھر پور کوشش کرتا ہے- بنابریں اس کی گفتگو براہِ راست دلوں پر اثر انداز ہوتی ہے اور اللہ سے روٹھا ہوا معاشرہ پھر سے اس کی بارگاہِ جلال میں اپنی عبودیت و نیاز مندی کا نذرانہ پیش کرنے لگتا ہے۔
۲۔ دوسرا نقصان یہ ہے کہ بعض خطباء سستی اور کاہلی کے عادی ہو جاتے ہیں۔ ایک خطبہ تیار کرکے مختلف مقامات پر وہی دہراتے رہتے ہیں۔ اس تکرار سے ان کی تخلیقی اور فکری صلاحیتیں ماند پڑنے لگتی ہیں۔
اور بسا اوقات وہی تیار شدہ موضوع اس مسجد میں بھی بیان کر آتے ہیں جہاں اس پر گفتگو کی سرے سے کوئی ضرورت ہی نہیں ہوتی-
خطیب کے اس رویے سے خطبہ جمعہ کا اصل مقصد فوت ہو جاتا ہے۔
٣- اکثر ایسا بھی ہوتا ہے کہ ایک ہی مسجد میں ایک ہی موضوع پر کئی بار گفتگو ہوتی ہے۔ کیوں کہ باہر سے آنے والے خطیب کو علم نہیں ہوتا ہے کہ گزشتہ ہفتے کس موضوع پر بات ہوئی تھی اور کون کون سے نصوص بیان کیے گئے تھے۔
٤- کچھ موضوعات ایسے ہوتے ہیں کہ ان پر آدھے پونے گھنٹے میں سیر حاصل گفتگو نہیں ہو سکتی ہے اس کے لیے تسلسل درکار ہوتا ہے۔ مہمان خطیب ہر ہفتے نہیں آسکتا ہے اس لیے موضوع ادھورا ہی رہ جاتا ہے۔ اور اس کے کئی اہم گوشے اجاگر نہیں ہو پاتے۔
اس کے برعکس جب مسجد کا مستقل امام خطبہ دیتا ہے تو سلسلہ وار گفتگو کرکے موضوع کو مکمل کرتا ہے۔ اس سے خطیب کو بھی اپنی بات مدلل انداز میں پیش کرنے کا موقع ملتا ہے اور سامعین کو بھی بھرپور علمی و عملی فائدہ حاصل ہوتا ہے۔
میں نے مفسرِ قرآن مولانا حنیف ندوی رحمہ اللہ کے بارے میں پڑھا کہ آپ نے مسجد مبارک ریلوے روڈ لاہور میں انیس (۱۹) برس تک مستقل خطبۂ جمعہ دیا اور تقریباً تین مرتبہ پورا قرآن کریم خطباتِ جمعہ میں مکمل فرمایا۔
آپ کے خطبے سننے کے لیے لوگ دور دراز سے آتے تھے، حتیٰ کہ غیر اہلِ حدیث حضرات بھی شوق سے شرکت کرتے تھے۔
مہمان خطیب سامعین کو اس طرح فیض نہیں پہنچا سکتا ہے۔
۵- ہزار پانچ سو روپے میں خطیب دستیاب ہوجانے کا ایک بڑا نقصان یہ ہوتا ہے کہ بعض مساجد کے ذمہ داران اپنی مسجد میں مستقل امام و خطیب نہیں رکھتے ہیں یا ایک کم پڑھے لکھے طالب علم کو معمولی معاوضے پر رکھ لیتے ہیں جس کا کام صرف نماز پڑھانا ہوتا ہے۔
جمعہ کے روز جماعت و جمعیت یا کسی ادارے سے رابطہ کرکے خطیب کا انتظام کرلیتے ہیں۔ خطیب خطبہ دیتا ہے اور لفافہ لے کر رخصت ہو جاتا ہے۔
اب اگر کسی سامع یا مصلی کو کوئی دینی مسئلہ درپیش ہو تو وہ اپنا مسئلہ کس سے حل کرائے؟ کس سے فتویٰ پوچھے؟
٦- بسااوقات حالات کی نزاکت کو نہ سمجھنے کی وجہ سے مہمان خطیب ایسا موضوع چھیڑ دیتا ہے جو بعد میں اختلاف و انتشار کا سبب بنتے ہیں۔
٧- مستقل خطیب کی موجودگی میں مہمان خطیب کو مدعو کرنا اپنے خطیب کی خاموش توہین اور اسے نااہل قرار دینے کے مترادف ہے، یہ ایسا درد ہے جو صرف مسجد کا خطیب محسوس کرتا ہے مہمان خطیب اور ٹرسٹی نہیں محسوس کرسکتے۔
مناسب طرزِ عمل یہ ہے کہ مسجد کے خطیب سے مشورہ اور اجازت لے کر کسی کو مدعو کیا جائے لیکن تنخواہ کی مجبوری سارے دینی و منصبی اختیارات سلب کرلیتی ہے اور ایک مسجد کے امام اور کارخانے کے مزدور میں کوئی فرق نہیں رہ جاتا ہے۔
یہ رویہ بتاتا ہے کہ اب خطبہ اور خطیب بھی عوامی ذائقے کی چیز ہیں جن کا بدلتے رہنا ہی مقدر ہوتا ہے۔
یہ طرزِ عمل محلِ نظر ہے اور دینی سنجیدگی کے بھی منافی ہے کہ محض لطف اندوز ہونے کے لیے خطیبوں کو ادھر ادھر سے بلایا جائے۔ مسجد کوئی تفریح گاہ نہیں کہ ہر ہفتے نیا مقرر آئے اور سامعین کو لطف اندوز کرے، بلکہ یہ ہدایت و تربیت کا مرکز اور اصلاحِ معاشرہ کی درسگاہ ہے۔
لوگوں کی تربیت اور سماج و معاشرے کی اصلاح اسی وقت ممکن ہے جب مسجد کا امام موسم و حالات کے مطابق موضوع چنے اور مکمل تیاری کے ساتھ مستقل خطبہ دے۔
بلا کسی معقول عذر کے خطیبوں کی تبدیلی حکمت کے خلاف ہے اور اس سے خطبۂ جمعہ کا مقصد بھی پورا نہیں ہوتا ہے۔ اس لیے اس سے اجتناب ہی بہتر ہے۔

آپ کے تبصرے

3000