کسے کہی ہم اَپَن بِپتیا
سنے نہ کیہو بھی دل کَے بَتِیا
دنا تو گزرت ہے جیسے تیسے
مگر کٹت ناہی ہم سے رتیا
بتائی کا تونھسے کتنا غم ہے
جو ہوتَے دوسر تو پِٹتَے چھتیا
اُہَے دکھاوت ہے ہمّے انکھیا
کبھو رہا جون ہمر سنگَتِیا
دنیوا میں جی کے کا کرب ہم
سحر نہ لاگت ہے اب ہمَتیا
Post Views:
988
مقطع تو غالب کے اس شعر کا ترجمان ہے:
مضمحل ہوگئے قوی غالب
اب عناصر میں اعتدال کہاں
ماشاء اللہ
بہت شکریہ
بہت خوب
انوکھی غزل