دلوں پر اس قدر جو بار ہوگا
تو آگے چلنا پھر دشوار ہوگا
تمھارے واسطے جو خوار ہوگا
یقینا وہ حقیقی یار ہوگا
تمھاری نفرتوں کے بعد بھی دل
محبت کے لیے تیار ہوگا
پریشاں کس لیے تم ہو رہے ہو
جو ہونا ہے وہ آخر کار ہوگا
مقدر ہی کو سب الزام دیں گے
کوئی بھی کام جب بے کار ہوگا
رکے رہتے ہیں یہ کہہ کر مدد سے
کسی کا کون ذمے دار ہوگا
منافق کو نہ ہرگز منہ لگاؤ
وہ اک دن درپئے آزار ہوگا
ہے جس کے پاس دولت ساتھ اس کے
ہمیشہ ، ہر گھڑی ، سنسار ہوگا
سحراتنی ہی پائے گا وہ عزت
کہ جس کا جس قدر بیوہار ہوگا
آپ کے تبصرے