دشمنوں سے نباہ کرتے ہیں
خوب صورت گناہ کرتے ہیں
جس طرف وہ نگاہ کرتے ہیں
سب کو محبوسِ چاہ کرتے ہیں
زندگی کا وہ راز کیا جانیں
وہ تو بس خواہ مخواہ کرتے ہیں
واپسی ہے جہاں سے نا ممکن
اختیار ایسی راہ کرتے ہیں
حکم راں اپنی ہی کمی کے سبب
ختم سب عز و جاہ کرتے ہیں
دشمنوں کو بھی پیار سے کچھ لوگ
اپنے حق میں گواہ کرتے ہیں
بخت کے ہو دھنی سحر محمود!
حاسدین آہ آہ کرتے ہیں
آپ کے تبصرے