بڑھے کیوں نہ دنیا میں پھر شانِ اردو

سحر محمود شعروسخن

بڑھے کیوں نہ دنیا میں پھر شانِ اردو

بہت ہی کشادہ ہے دامانِ اردو


محبت، محبت، محبت، محبت

سدا سے رہا ہے یہ فرمانِ اردو


اہمیت اس سے بھی ہے صاف ظاہر

ملیں گے جہاں میں فدایانِ اردو


کسی خطہ و قریہ کے ہوں وہ لیکن

ہمارے ہیں مہمان، مہمانِ اردو


زبانوں پہ رقصاں ہے اہلِ وطن کی

کرے گا کوئی کیسے نقصانِ اردو


رکاوٹ وہی ہیں ترقی میں اس کی

بنے پھرتے ہیں جو نگہبانِ اردو


جہاں پر ہو عہدے کی خاطر لڑائی

وہاں کام ہوگا نہ شایانِ اردو


دل و جاں اگر ہم لٹاتے رہیں گے

کبھی کم نہ ہوگی سؔحر آنِ اردو

آپ کے تبصرے

3000