غزل میری سب گنگنانے لگے ہیں

کشفی بریلوی شعروسخن

غزل میری سب گنگنانے لگے ہیں

سخن ور بھی پلکیں بچھانے لگے ہیں


تجھے کیا بتائیں تری یاد میں ہم

شب و روز آنسو بہانے لگے ہیں


تمہی سے محبت نہ ہو جائے ہم کو

تمھیں دیکھ کر مسکرانے لگے ہیں


ذرا وقت بدلا تو یہ دنیا والے

ہمیں آج آنکھیں دکھانے لگے ہیں


ہوا عشق کا حُسن سے جب تصادم

تو اُس کے بھی ہوش اب ٹھکانے لگے ہیں


ٹھہر جا ذرا گردشِ روز و شب تُو

اُنھیں آتے آتے زمانے لگے ہیں


مہکنے لگی محفل شعر و نغمہ

کہ اب اس میں کشفی بھی آنے لگے ہیں

آپ کے تبصرے

3000