گزشتہ سات برسوں سے شام جل رہا ہے ، اس جنگ میں پورا ملک تباہ ہو چکا ہے ۔عوامی زندگی کی رمق ختم ہو چکی ہے ۔عمارتیں ملبوں میں تبدیل ہو چکی ہیں،اسکول ،اسپتال ،مساجد ،تعلیمی ادارے عوامی ادارے تمام شہر خموشاں میں بدل گئے ہیں،پورا ملک کھنڈر بن چکا ہے ،ان سات برسوں کی خانہ جنگی میں ایک اندازے کے مطابق ایک کروڑ سے زیادہ شہری بنیادی سہولیات سے محروم ہو چکے ہیں،پانچ لاکھ سے زیادہ افراد لقمہ اجل ہو چکے ہیں اور تقریباً ایک کروڑ تیس لاکھ افراد مختلف پناہ گزین کیمپوں میں کسمپرسی کی حالت میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں،نہ جانے کتنے شامی شہری گھر بار چھوڑ کر مختلف ممالک میں پناہ لیے ہوئے ہیں اس کے علاوہ ہزاروں افراد زندگی کی تلاش میں موت کے شکار ہو گئے ۔یہ جنگ ہنوز جاری ہے ،اب شام میں صبح کی امیدیں معدوم ہو چکی ہیں۔کیونکہ اب شام صرف خانہ جنگی کا شکار نہیں ہے بلکہ وہ براہ راست مشرق وسطیٰ میں روس اور امریکہ جیسی سپر پاور طاقتوں کے مابین برتری کی جنگ کا میدان بن چکا ہے ،اس کے علاوہ عالم اسلام کی بڑی طاقتوںسعودی عرب اور ایران کے لیے بھی شام ان کی انا کی جنگ کا تختہ مشق بنا ہوا ہے ۔اسد ی فوج نے روس اور دیگر حامیوں کے ساتھ مل کر باغیوں کے آخری گڑھ دوما میں گزشتہ دنوں تمام اصول و ضوابط کو بالائے طاق رکھتے ہوئے کیمیکل اسلحوں کا استعمال کیا ،جس میں چالیس سے زائد ہلاک ہوئے اور بچوں سمیت سیکڑوں شہری زخمی ہوئے جس کے بعد سات برسوں سے ساحل پر بیٹھ کر تماشا دیکھنے والے نام نہاد امن کے علمبردار امریکہ کو موقع ملا اور وہ برطانیہ اور فرانس کے ساتھ مل کر شام پر چڑھ دوڑا ،سیکڑوں میزائل داغے گئے۔کون کس کو مار رہا ہے اور کس کی مدد کر رہا ہے ؟ان سب سے الگ اس میں تباہ ہونے والے صرف اور صرف شامی ہیں۔چاہے امریکہ مارے یا روس مارے۔اس میں تباہ ہو رہے ہیں تو صرف عام شہری اور بس۔
شام میں ہونے والی خانہ جنگی کا تعلق براہ راست مشرق وسطیٰ سے ہے،ماضی کی تاریخ بتاتی ہے کہ یہ خطہ مشرق وسطیٰ کے لیے بڑی اہمیت کا حامل ہے ۔یہاں پر جس کا تسلط ہوگا وہی مشرق وسطیٰ کے تمام علاقوں کا ’بادشاہ ‘ ہوگا اور اسی کے ہاتھ میں رموٹ کنٹرول ہوگا۔یہی سبب ہے کہ شام کی آگ کو بجھنے نہیں دیا جا رہا ہے ۔خانہ جنگی کا آغاز سات سال قبل اس وقت ہوا جب2011 میں تیونس سے تعلق رکھنے والے کمپیوٹر سائنس میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کرنے والے محمد بوعزیزی نے حکومتی ناانصافیوں سے تنگ آکر میونسپل آفس کے سامنے خود پر تیل چھڑک کر آگ لگالی۔ عزیزی کے جسم سے اٹھنے والے شعلوں نے پورے ملک کواپنی زد میں لے لیا۔ ہرعمر اور جنس کے لاکھوں سینوں میں دفن برسوں کی آگ بھڑک اٹھی اور لوگ سڑکوں پر نکل پڑے نتیجتاً تیونس کے حکمرانوں کو اپنا عشروں پر محیط اقتدار چھوڑ کر فرار ہونا پڑا۔
یہ آگ صرف تیونس تک ہی محدود نہیں رہی بلکہ اس نے پورے مشرق وسطیٰ کو اپنی زد میں لے لیا۔ مصر، یمن، اردن، الجزائر ہر جگہ حکمرانوں کے خلاف عوام اٹھ کھڑے ہوئے اور سالہاسال سے اقتدار پر قابض حکمرانوں کو فرار ہونے پر مجبور کردیا۔ محمد بوعزیزی سے شروع ہونے والی اس تحریک نے بڑھتے ہوئے برسوں سے رائج متعدد ممالک میں آمریتوں کا خاتمہ کیا۔ مصر ،لیبیا اور یمن میں اقتدار کی تبدیلی اسی تحریک کانتیجہ ہے ۔شام میں بھی بہارِ عرب (عرب اسپرنگ) نے برسوں سے دبی ہوئی مروجہ نظام کے خلاف بغاوت کی چنگاری کوشعلے میں تبدیل ہونے میں مدد دی اور یوں15مارچ 2011 میں ایک نوجوان نے اسکول کی دیوار پر ’’بشار الاسد! اب تمھاری باری ہے‘‘ تحریر کر کے اسدی تانا شاہی کے خلاف علم بغاوت بلند کر دیا۔حالانکہ اس جرم کی پاداش میں اس نوجوان کو حکومتی اہلکاروں نے گرفتار کرکے تشدد کا نشانہ بنایا جس کے خلاف مارچ 2011 میں شام کے دارالحکومت دمشق ،حلب اوردیگر بڑے شہرو ں میں جمہوریت کے حامیوں نے احتجاج کیااور اس دن کو انھوں نے ’ڈے آف ریج‘(غصے کا دن)قرار دیا تھا۔ اس پر حکومت نے سختی سے نمٹتے ہوئے احتجاج کو پرتشدد طریقے سے منتشر کردیا۔ مگر حکومت کا جبر اسے روکنے میں نا کام ہوگیا اور لوگوں کا یہ غصہ انقلاب میں بدل گیا۔
ابتدائی ایام میں ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ برسوں سے جاری بشار الاسد کے ظلم و جور کا خاتمہ ہو جائے گا اور عوام کی محنت رنگ لائے گی لیکن اچانک رخ تبدیل ہو گیا،سارا منظر نامہ ہی بدل گیا۔امریکہ اور روس جیسی عالمی طاقتوں نے اس جنگ میں اپنے اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے دخل اندازی شروع کر دی ۔اسی دوران ملک میں جہادی ملیشیاؤں نے بھی فروغ پایا،جس کی وجہ سے حکومت اور عوام کے درمیان جاری یہ جنگ انتہائی پیچیدہ اور خطرناک ہو گئی جس کا نتیجہ ہمارے سامنے ہے۔بشارالاسدروس ،ایران اور لبنان جیسی ہمنوا طاقتوں کے ساتھ شامی شہریوں کی لاشوں پر کھڑا ہے۔ ان دنوں یہ جنگ شاید آخری مرحلے میں ہے ،اسدی فوج نے فیصلہ کن جنگ کے ارادے سے میزائلوں کے دہانے شہریوں کی طرف کھول دیے ہیں۔دارالحکومت دمشق کے مشرق میں واقع مضافاتی علاقے غوطہ اور دومامیں شدید جنگ جاری ہے ۔گزشتہ ایک ماہ میں سرکاری ریکارڈ کے مطابق 12سو سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں جن میں بڑی تعداد میں بچوں کی اکثریت شامل ہے۔ شام سے آنے والی تصاویر دلخراش ہیں ۔بھاگتے دوڑتے بچے ،نوجوان ،ملبوں میں زندگی کی تلاش کرتے بزرگ اور خواتین ،بلند و بالا عمارتوں سے اٹھتے دھوئیں دل دہلا دینے والے ہیں۔سوال یہ پیدا ہو تا ہے کہ شام میں روس اور ایران کی ہمنوا طاقتیں اور نام نہاد امن پسندممالک کس کو ختم کر رہے ہیں اور یہ جنگ کس کے خلاف لڑی جا رہی ہے؟ دہشت گردوں کے خلاف،باغیوں کے خلاف یاشامی شہریوں کے خلاف۔شام کی تباہیوں سے نکل کرآنے والی تصاویر کیا کہتی ہیں؟ اقوام متحدہ صرف شام کی تباہیوں پر ماتم کناں ہے ۔یوروپین ممالک میں چند لوگوں کی ہلاکت پر دنیا سر پر اٹھانے لینے والے مہذب اور امن کے علمبردارممالک بھی اس تباہی پر فی الحال خاموش ہیں ۔شام کی چیخ و پکار میں کچھ آوازیں ضرور آ رہی ہیں لیکن اس کا کوئی اثر شام کی بشار الاسد حکومت پر نہیں ہو رہا ہے۔ عالم عرب اور عالم اسلام دعاؤں میں مشغول ہے ، مسلمانان عالم اپنے فیس بک اسٹیٹس کواپ ڈیٹ کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔اسٹیٹس تبدیل کر کے خوش ہیں کہ ہم نے شام کے مظلوموں کا بدلہ لے لیا۔شام کی تباہی پر سعودی سمیت با اثرمسلم حکمرانوں کا بھی رد عمل کچھ خاص نہیں رہا۔ایران ،لبنان اور اسد کے دیگر حامی ممالک کھلے طور پر شام کی تباہی میں شامل ہیں اور ہر فرد جانتا ہے کہ تباہی کون پھیلا رہا ہے ،اس کا ذمہ دار کون ہے ؟
اس وقت شام میں اسدی اور روسی افواج کی فیصلہ کن کارروائی غوطہ اور دوما میں جاری ہے ۔غوطہ کا علاقہ 2013 سے محاصرے میں ہے اور یہاں تقریباً چار لاکھ افراد مقیم ہیں۔یہ علاقہ دارالحکومت دمشق کے نزدیک اسد مخالفین کا آخری سب سے بڑا گڑھ مانا جا رہا ہے۔حالیہ تباہی کے بعد اس خوبصورت شہر کا وجود خطرے میں ہے ۔بلند و بالا عمارتیں ملبے میں تبدیل ہو چکی ہیں۔حلب اور ادلب جیسے تاریخی شہروں کی طرح کھنڈر ہو چکے شہروں میں اب یہ علاقہ بھی شامل ہو چکا ہے ۔ اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق حالیہ تیز ترین کارروائی میں ہزاروں شہری ہلاک ہو چکے ہیں ان میں بچوں کی بھی بڑی تعداد شامل ہے ۔گزشتہ ماہ جب تقریباً دو ہفتے کے بعد جنگ زدہ علاقے میں اقوام متحدہ کا امدادی قافلہ پہنچا توشامی فورسیز نے بمباری شروع کر دی جس میں ایک دن میں 77سے زائد افراد لقمہ اجل ہو گئے۔ المیہ تو یہ ہے کہ تمام ضوابط کو بالائے طاق رکھتے ہوئے ظالم حکومت نے اس حملے میں کلورین گیس اور زہریلی گیس کا استعمال بھی کیا جس کی وجہ سے بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی ہے۔ان ظالموں نے تمام انسانی حدود کوتوڑتے ہوئے ان 46امدادی ٹرکوں کو بھی لوٹ لیا اور انھیں متاثرین تک پہنچنے نہیں دیاجو تقریبا ً دو ہفتے کی تباہی کے بعد پہلی مرتبہ جنگ زدہ علاقے میں پہنچا تھا۔برطانیہ میں قائم سیرین آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس نے بتایا کہ حالیہ فضائی حملے شام کی حکومت اور روس کی تازہ فضائی مہم کا حصہ ہیں اور یہ حملے اتنے شدید ہیں کہ کسی کو یہ موقع تک نہ مل سکا کہ وہ ہلاک اور زخمی ہونے والوں کی گنتی کر سکے۔اقوام متحدہ کے حقوق اطفال کے ادارے یونیسیف کے ترجمان کرسٹو فی بولائرک نے بتایا کہ سال رواں کے ابتدائی دو ماہ کے دوران اب تک ایک ہزار سے زائد بچے ہلاک ہوچکے ہیں۔
یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ مشرقی وسطیٰ کے مختلف ممالک ایک طویل عرصے سے امریکہ اور روس کے بلاک رہے ہیں۔ یعنی ایک ملک امریکہ کے ساتھ تعاون کرتا ہے تو کوئی روس کے بلاک میں دلچسپی رکھتا ہے۔ شام کی حالیہ جنگ میں روس کے کردار سے یہ واضح ہوجاتا ہے۔ روس کو اگر مشرقی وسطیٰ کا امن اتنا ہی عزیز تھا یا وہ مسلمانوں کا خیرخواہ تھا تو ایران و عراق کی جنگ میں روس نے مداخلت کیوں نہیں کی؟ حالانکہ روس کی مداخلت سے یہ معاملہ احسن طور پر نمٹ سکتا تھا لیکن روس نے اپنا کردار ادا نہیں کیا۔ لیبیا تباہ ہوگیا لیکن روس نے مداخلت نہیں کی۔ عراق تباہ ہوگیا، لاکھوں لوگ قتل کیے گئے، اربوں ڈالرز کا انفرا اسٹرکچر تباہ و برباد ہوگیا لیکن روس نے کوئی مداخلت نہیں کی۔جبکہ حالیہ شام کی خانہ جنگی میں روس، امریکہ کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کھڑا ہے۔ شام کے معاملے میں روسی امداد بشارالاسد کی روس کے ساتھ دوستی نہیں بلکہ شام کی وہ جغرافیائی اہمیت ہے جس پر اپنی حاکمیت حاصل کرنے کے بعد روس پورے مشرقی وسطیٰ کو اپنے کنٹرول میں کرسکتا ہے۔اس بات کا ادراک اسرائیل، امریکہ، قطر، سعودی عرب، برطانیہ، فرانس اور دیگر ممالک کو بخوبی ہے۔ جس کسی کو بھی خطے میں برتری حاصل ہوگی، وہ پورے مشرقی وسطیٰ پر حکمران ہونے کے ساتھ ساتھ سونے کی کان یعنی نہر سوئز پر بھی حاکمیت رکھے گا۔بہر حال اب شام میں کسی بھی صبح کی امید کرنا شاید بے کار ہے۔کیوں کہ شام اب چاروں طرف سے گھر چکا ہے اور عالمی طاقتوں کے لیے تختہ مشق بنا ہوا ہے ۔شامی شہریوں کے لیے قیامت برپا ہے ایک طرف اسدی فوج کی بمباری جاری ہے اور اور دوسری جانب امریکہ ان بمباریوں کے خلاف بھی بمباری کررہا ہے جس میں دونوں صورتوں میں شامی شہریوں کو ہلاکتوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔وہ کس کو اپناقاتل اور کس کو اپنا مسیحا سمجھیں ،ان کے لیے فی الحال یہ معمہ بنا ہوا ہے ۔ابھی بھی جنگ جاری ہے اور یہ جنگ کب ختم ہوگی ،یہ کہنا مشکل ہے ۔


آپ کے تبصرے