وہ نار انتظار کا مجھے عذاب دے گیا

کاشف شکیل شعروسخن

مری وفاؤں کا‌ مجھے وہ یوں‌ حساب دے گیا

مرے سمندروں کو چھین‌ کر سراب دے گیا


تجھے خبر ہے تیرا باپ کتنا بے وقوف تھا

کہ جھرّیاں خرید کر تجھے شباب دے گیا


انا پرست میں بھی تھا مگر یہ عشق ہی تو تھا

کہ تجھ کو خار کے بجائے میں گلاب دے گیا


وصال اور کمال کا یہ سلسلہ رکا ہوا

وہ نار انتظار کا مجھے عذاب دے گیا


کتاب زیست کے سنہرے باب کو مٹا دیا

مجھے طویل ہجرتوں کا اک نصاب دے گیا


میں عشق کی زبان میں کہوں تو کیا کہوں اسے

مرا سکون چھین‌‌ کر جو اضطراب دے گیا


’’ترا علاج کاشف! اب سوائے صبر کچھ نہیں‘‘

مرے پتے پہ عندلیب یہ جواب دے گیا

آپ کے تبصرے

3000