لڑتا ہوا، پاتا ہوا، کھوتا ہوا لڑکا

حمود حسن فضل حق مبارکپوری شعروسخن

ہر رات کسی خواب میں روتا ہوا لڑکا

دکھ اوڑھ کے احساس کا، سوتا ہوا لڑکا


امید کی لو لے کے دریچے پے پڑا ہے

اشکوں سے تری یاد کو دھوتا ہوا لڑکا


منزل پے پہنچنے کا سفر بانٹ رہا ہے

قدموں میں چبھے خار سنجوتا ہوا لڑکا


دل عقل کو مغلوب ہی کردیتا ہے اکثر

یہ سوچ کے دونوں کو سموتا ہوا لڑکا


نخچیر محبت ہے کہ صیاد حسن ہے

لڑتا ہوا، پاتا ہوا، کھوتا ہوا لڑکا

آپ کے تبصرے

3000