عربی نظم ونثرمیں ہندوستانی ادباء کی بے لوث خدمات پر مشتمل تاریخ کے اوراق پر جب ہم نظر ڈالتے ہیں تو یہ حقیقت آشکارا ہوتی ہے کہ وطن عزیز نے زبان وادب کے چیدہ علماء، قلم کے عظیم شہسواران اور اصحاب فکر ونظر کو جنم دیا ہے جنھوں نے لسانیات میں عبور، دسترس اور قدرتِ کلام کی وجہ سے مثالی شہرت پائی، زبردست عربی دانی اور فصاحت ان کی پہچان قرار پائی، ان کی معرکۃ الآراء تالیفات محققین اور اسکالروں کے لیے مراجع ومصادر کی حیثیت اختیار کر گئیں، ان کے ادبی کارنامے صفحہٴ اول کے عرب ادباء جیسے متصور ہوئے، عربی زبان وادب اور اس سے متعلق علوم کے ماہر مگر مثالی علماء میں ایک عظیم شخصیت پروفیسر عبد العزیز میمنی رحمہ اللہ کی ہے۔
علامہ موصوف کی ولادت با سعادت ۱۸۸۸ء میں صوبہ گجرات کے ضلع راجکوٹ کے ایک علمی خانوادے میں ہوئی، آپ کا عہد جلیل القدر علماء، ادباء، محققین اور اسکالر سے جانا جاتا ہے، آپ نے ناظرہ قرآن کی تعلیم گھر ہی میں پائی، فارسی کی تعلیم مدرسہ مہایت دہلی میں حاصل کی پھر امروہہ کا رخت سفر باندھا اور محدثِ امروہہ شیخ احمد حسن کے سامنے زانوۂ تلمذ تہ کیا۔ (۱)
عربی اور اسلامی علوم وفنون کے حصول کے لیے ۱۹۰۱ء میں آپ دہلی تشریف لائے، عربی ادب شیخ نذیر احمد دہلوی سے پڑھی، سنن ابی داؤو، کتاب الحماسة لأبی تمام اور سقط الزند لأبي العلاء المعري وغیرہ کتابیں شیخ محمد بشیر سہسوانی سے، مشکاۃ المصابیح شیخ عبد الوہاب سے، سنن ترمذی شیخ عبد الجبار سے اور بخاری ومسلم شیخ عبد الرحمن پنجابی سے پڑھنے کا شرف حاصل کیا اور ۱۳۲۶ھ میں دہلی ہی کے اندر شیخ حسین انصاری یمانی سے روایت حدیث کی اجازت کا اعزاز بھی حاصل کرلیا۔ (۲) بعدہ رامپور تشریف فرما ہوئے اور ان دنوں سب سے بڑی علمی، ثقافتی اور مرکزی درسگاہ مدرسہ عالیہ میں داخلہ لیا اور وہاں کے اجلہ علماء سے استفادہ کیا جن میں مشہورِ زمانہ ادیب محمد طیب مکی ہیں، جن کی علمی لیاقت واہلیت، وسعتِ مطالعہ اور زبان وادب کے میدان میں مثالی قوت حافظہ کا ذکر ہندوستان کے گوشہ گوشہ میں پھیل چکا تھا نیز عبد الحق خیر آبادی اور مولوی عبد العزیز وغیرہم ان کے علاوہ قابلِ ذکر اساتذہ ہیں۔
علامہ میمنی کی یاد داشت بے مثال تھی، آپ نے کفایة المتحفظ، فقه اللغة للثعالبی، الالفاظ الکتابیة للھمذاني، ونظام الغریب وغیرہ کتابوں کی اہمیت کے پیش نظر انھیں عربی لغت کے طور پر ازبر کرلیا تھا، معلقات عشرہ اور دیگر متعدد عمدہ قصائد بھی حفظ کرلیے تھے جو درجہ میں معلقات جیسے ہی ہیں، نیزبہت سے ادبی مجموعے اور شعری دیوان حفظ کرچکے تھے جیسے دیوان المتنبي، دیوان الحماسة (کامل)، جمھرۃ اشعار العرب، مفضلیات ونوادر أبی زید، الکامل للمبرد، البیان والتبیین اور ادب الکاتب (مع شرح الاقتضاب) وغیرہ۔(۳)
تدریسی خدمات: علامہ میمنی نے سب سے پہلے میگزین‘‘تہذیب الاخلاق’’ کی صیقل گری کی جس کا اجراء سر سید احمد خان نے علی گڑھ میں کیا تھا، تقریبا تئیس ۲۳ دنوں تک اپنی ذمہ داری بخوبی نبھائی پھر آپ کو پروفیسر محمد شفیع صاحب نے ایسٹرن کالج لاہور کے لیے بلالیا اور ۱۹۱۳ء میں پشاور کالج میں عربی وفارسی کا لکچرر بنادیا، اسی اثناء میں آپ نے عربی زبان کی اصلاح کے لیے متعدد تحقیقی اور اہم مقالے مجلہ ‘‘مخزن’’ کے لیے تحریر فرمایا پھر ۱۹۲۱ء میں لاہور کے ایسٹرن کالج میں عربی زبان کے پروفیسر کی حیثیت سے اپنی خدمات شروع کی اور شعبۂ عربی وفارسی کے صدر منتخب ہوگئے، ان دنوں آپ نے مندرجہ ذیل کتابوں کی اردو شروحات لکھی۔
۱۔ شرح مفردات اللغة العربیة للیسانس فی الآداب الجدیدۃ
۲۔ شرح مفردات اللغة العربیة للیسانس فی الآداب القدیمة
۳۔ شرح مفردات اللغة العربیة
۴۔ شرح مفردات اللغة العربیة والفارسیة لجامعة بنجاب۔ (۴)
لاہور میں اپنے فرض منصبی سے مستعفی ہونے کے بعد علی گڑھ مسلم یونیورسٹی، علی گڑھ آئے اور ۱۴ نومبر ۱۹۲۵ء کو اسسٹنٹ پروفیسر کی حیثیت سے اپنی خدمات شروع کی، جب عرب ممالک کی اہم اور مشہور شخصیات ہندوستان اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے دورہ پر تشریف لاتیں اور عربی زبان میں خطبات وتقاریر پیش کرتیں تو اردو قالب میں ڈھالنے کی ذمہ داری علامہ موصوف کے کندھوں پر ہی ڈالی جاتی اور آپ اپنی کامل لیاقت واہلیت سے فصیح وبلیغ اردو میں ترجمہ کرتے، ایسی مجالس وانجمن میں آپ کی ہمہ گیر شخصیت ابھر کر سامنے آتی اور ہر خورد وکلاں آپ کی خوبیوں کا معترف ہوجاتا، علی گڑھ کے دور میں آپ نے عظیم علمی وتحقیقی کتابیں تالیف کیں، آپ کی شہرۂ آفاق تالیف “‘سمط اللآلي في شرح الآمالي للقالي” ۱۹۵۳ء میں قاہرہ سے چھپی جو تحقیق وتخریج میں لاثانی تھی ۔ (۵) آپ نے مثالی علمی وادبی تخلیقات پیش کیں جن کی نشر واشاعت کے بعد عرب وعجم سب نے آپ کی گوناگوں صفات کا اعتراف کرلیا، آپ کا قلمی جوہر دنیا کے گوشے گوشے میں پھیل گیا، چنانچہ جس طرح ان کے تعلقات ومراسم یورپی یونیورسٹیوں کے مغربی مؤلفین ومحققین کےساتھ استوار ہوئے بعینہ عرب علماء وادباء کے ساتھ بھی ان کے روابط مستحکم ہوئے، آپ زبان وادب اور علم وفن کے محققین کے لیے مرجع بن گئے، علی گڑھ کی زندگی میں آپ نے زبان وادب اور شعری فن پر مشتمل تقریبا تیس تحقیقی کتابوں کا نایاب تحفہ پیش کیا، ۱۹۴۳ء میں آپ کو شعبۂ عربی کا صدر منتخب کرلیاگیا، باعث صد افتخار یہ حقیقت خصوصی طور پر قابلِ ذکر ہے کہ آپ پہلے ہندوستانی اہل علم ہیں جنھوں نے اپنی خوبیوں سےاس کرسی کو زینت بخشا، آپ سے قبل علی گڑھ مسلم یونیورسٹی، علی گڑھ میں شعبۂ عربی کی کرسیِ صدارت کسی جرمن یا مستشرق کو ہی عطا کی جاتی، ۱۹۴۹ء میں آپ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے ریٹائرہوگئے، لیکن یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر ذاکر حسین نے آپ کی عمدہ اور تابندہ خدمات کو مد نظر رکھتے ہوئے مدتِ کار کردگی میں ایک سال کا اضافہ کردیا۔ (۶)
۱۹۵۰ء میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی، علی گڑھ سے علیحدگی کے بعد آپ جنوری ۱۹۵۶ء کو کراچی یونیورسٹی میں عربی ڈپارٹمنٹ کے پروفیسر وصدر بنادیے گئے اور تین سال بعد ۱۹۵۹ء میں صدارتی کرسی کو خیرآباد کہہ دیا، اپنے آخری ایام میں آپ نے لاہور میں قائم پنجاب یونیورسٹی کے اندر عربی ڈپارٹمنٹ کے پروفیسر وصدر کی حیثیت سے علم کے لعل وگہر بکھیرنا شروع کردیے اور بروز جمعہ مورخہ ۲۷ اکتوبر ۱۹۷۸ء کو آپ اپنے معبود حقیقی سے جا ملے۔ (۷) انا للہ وانا الیہ راجعون
علمی سفر: علامہ نے ۱۹۳۵ء میں اسلامی ممالک کا سفر شروع کیااور مختلف ممالک کی لائبریریوں کی زیارت کی جس میں عربی مخطوطات اور نادر مطبوعات ہاتھ لگیں اور ایسی ڈھیر ساری اہم کتابیں اور مسودے ہاتھ آئے جو ہندوستان میں دستیاب نہیں تھے، آپ نے مصر، استنبول، حلب، دمشق، بیت المقدس اور بغداد وعراق جیسے متعدد شہروں کی زیارت کی اور اپنے ساتھ ڈھیر سارے مخطوطات اور علمی ذخائر ہندوستان لائے، دوسری بار ۱۹۴۴ء میں ‘‘الاشتراک فی الذکری الالفیۃلأبی العلاء المعری’’ کے لیے شام کا سفر کیا اور ۱۹۵۷ء میں سعودی حکومت کے مہمان خصوصی کی حیثیت سے فریضۂ حج ادا کرنے کے لیے حرمین کی زیارت نصیب ہوئی۔ ۷ جولائی ۱۹۵۷ء کو ہفت روزہ رسالہ ‘‘یمامہ’’ نے کچھ اس انداز میں خوش آمدید کہا:
‘‘دنیا کا کون سا شخص ہے جو علامہ میمنی سے زیادہ ادب واحترام اور قدر ومنزلت کا مستحق ہے، علامہ نے اپنی پوری زندگی عربی زبان وادب اور اسلامی تہذیب وثقافت کی خدمت میں گزار ی ہے اور آج بھی عربی آثار کی بحث وتحقیق کے لیے مختلف ممالک ومقامات کا سفر کرتے ہیں’’َ۔ (۸)
اس کے بعد علامہ میمنی نے بارہا عرب ممالک کا سفر کیا اور ۱۹۶۰ء میں ثقافتی وزارت اور نیشنل شامی اکاڈیمی کی دعوت پر بعض اہم مخطوطوں کی تحقیق اور وزارت کے زیر نگرانی اسے نشر کرنے کے لیے شام کا سفر کیا، بحث وتحقیق ہی کے لیے ۱۹۵۶- ۱۹۵۸ء میں ایران، عراق، شام، لبنان، ترکی، مصر، تونس اور مغرب وغیرہ کا سفر کیا، دورانِ سفر ماہر وکامل ادباء وعلماء سے ملنے کا اور ان سے تبادلۂ خیال کا حسین موقع ملا مثلاشام کے سابق وزیر عبد الرحمن شہبندر، ادیب عظیم محمد کرد علی، وزیر تعلیم، صدر مجمع اللغہ العربیہ دمشق اور مشہور نابغہٴ عصر ادیب احمد امین، استاذ مصطفی عبد الرزاق اور شیخ بہجہ بیطار وغیرہ آپ نے ان کے ساتھ احادیث کے الفاظ پر لغوی مگر فیصلہ کن مباحثہ کیا۔
حافظہ: علامہ میمنی کثرتِ مطالعہ اور مثالی قوتِ حافظہ سے جانے جاتے تھے، آپ قوت حافظہ میں نمونۂ سلف تھے، عربی نظم ونثر کی متعدد کتابیں آپ نے حفظ کرلیا تھا بلکہ بعض شعرا کے شعری مجموعے اور دیوان کو پورا پورا حفظ کرلیا تھا جیسے دیوان المتنبی، دیوان الحماسۃ لابی تمام، معلقات اور مفضلیات وغیرہ، آپ کو بے شمار اشعار یاد تھے جیسا کہ پروفیسر منظور احمد کے بیان سے ثابت ہوتا ہے، چنانچہ انھوں نے علامہ میمنی سے ایک مرتبہ پوچھا: جنابِ عالی! آپ کو عربی کے کتنے اشعار یاد ہیں تو آپ نے جواب دیا: اب تو یادداشت جواب دے گئی اور بہت سارے اشعار ذہن سے نکل بھی گئے اب تو تقریباً ستر ہزار (70000) اشعار ہی یاد رہ گئے ہیں۔ (۹)
علامہ کے دوست ڈاکٹر ضیاء الحق بن شیخ اصغر علی روحی کا کہنا ہے: ‘‘ہم لوگ امام بخاری وامام حاکم جیسے ائمہ حدیث اور حفاظِ حدیث کے بارے میں سنتے تھے اور کتابوں میں پڑھا بھی کرتے تھے کہ انھیں لاکھوں حدیثیں سند ومتن کے ساتھ یاد تھیں تو ہمیں حد درجہ تعجب ہوا کرتا تھا بلکہ بعض احباب کو یقین بھی شاید نہیں ہوپاتا تھا لیکن جب ہم لوگوں نے شیخ عبدالعزیز میمنی کو اتنا بڑا ادیب وحافظ پایا تو ائمہ حدیث کے بارے میں یقین ہوچلا اور علامہ کی یہ خوبی حفاظ حدیث کی لاثانی قوتِ حافظہ کی واضح دلیل بن گئی۔’’ (۱۰)
نابغۂ عصر ادیب ڈاکٹر شوقی آلیا مصری کا قول ہے: ‘‘علامہ میمنی علم وادب کے منارہ تھے، مثالی قوتِ حافظہ کے مالک تھے، وسعتِ مطالعہ آپ کی پہچان تھی، سمط اللآلی کا متحقق نسخہ آپ ہی لائے، جب آپ اپنے دوست پروفیسر احمد تیمور مشہور عربی ناول نگار محمود تیمور کے والد کے پاس درب السعادۃ، قاہرہ تشریف لائے تو لائبریریوں کی عربی مطبوعات و مخطوطات کی وسیع ترین معلومات سے سب کو مبہوت کردیا اور ہمارے سامنے ایسے نادر مراجع پیش کیے جن کا ہمیں خواب و خیال بھی نہیں گزرا تھا ۔’’ (۱۱)
شیخ ابو الحسن ندوی رحمہ اللہ نے بھی علامہ کی عبقریت وہمہ گیریت کا اعتراف کیا ہے جس کی تائید آپ کی علمی تحقیقی اور ادبی خدمات سے ہوتی ہے، آپ نے قدیم مصادر، قدیم اشعار اور ادبی سرمایہ کی تعلیم وتدریس کے لیے اپنی پوری زندگی وقف کردی تھی، آپ کی قوتِ حافظہ کے سلسلے میں ادیب عصر فرماتے ہیں کہ آپ کو ستر ہزار سے ایک لاکھ اشعار یاد تھے (۱۲) بلکہ شیخ سعید افغانی نے یہاں تک کہہ دیا میرا ماننا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو کتابوں کے نام، مؤلفین وموضوعات، مخطوطوں کے مقامات اور مختلف نسخوں کی گوناگوں معلومات کےسلسلے میں عجیب وغریب مثالی حافظہ عطا کیا تھا اور میں نے اب تک کی زندگی میں آپ کا ثانی نہیں دیکھا ہے۔ (۱۳)
علامہ میمنی فرماتے ہیں: میں ایک دن علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں شعبۂ عربی کے صدر کی آفس میں گیا تو دیکھا کہ مشہور مستشرق پروفیسر تریتون مخطوطہ پڑھنے میں مشغول تھے لیکن جلد کے پھٹ جانے کی وجہ سے بعض سطریں نہیں پڑھی جارہی تھیں، پروفیسر صاحب نے مجھ سے فرمایا: آپ مخطوطہ کی تحریر پڑھ سکتے ہیں؟ ان اشعار نے مجھے کئی ہفتوں سے پریشان کردیا ہے کیوں کہ جلد کے پھٹ جانے کی وجہ سے انھیں نہیں پڑھ پارہا ہوں، میں نے ہاں میں جواب دیا اور پہلے شعر کو پڑھنے کے ساتھ ساتھ باقی اشعار بھی سنا ڈالا، پروفیسر صاحب جملہ اشعار سنتے ہی اپنی کرسی سے کھڑے ہوگئے اور مجھے گلے لگا کر کہا: میں تذبذب واضطراب کا شکار تھا کہ قدیم شعراء اتنے قصائد کیسے حفظ کرلیتے تھے لیکن آج مجھے یقین ہوگیا کہ بے شک وہ اس کی استطاعت رکھتے ہوں گے کیونکہ آپ کا حافظہ اس کی دلیل ہے۔ (۱۴)
عربی زبان : علامہ میمنی فصیح وبلیغ عربی میں برجستہ باتیں کیا کرتے تھے، آپ کی نثری تحریر امثال و اشعار کا حسین امتزاج ہوا کرتی، آپ کا اسلوب مبرد اور ثعلب کے اسلوب جیسا ہے اور تحریر میں ثقیل مگر منفرد نوعیت کے ادبی مفردات پائے جاتے ہیں، اس حقیقت کی طرف متعدد عرب اہل قلم اور جلیل القدر فضلا و ادباء نے بارہا اشارہ کیا ہے جیسا کہ ڈاکٹر شوقی امین الیا نے حقیقت کا اعتراف کرتے ہوئے لکھا ہے: آپ ثعلب اور مبرد کے لہجہ میں باتیں کرتے، عوام الناس سے الگ تھے، آپ علم وادب کے منارہ اور عبقری شخصیت کے مالک تھے(۱۵)، ڈاکٹر عباس ندوی کا کہنا ہے: استاذ میمنی مبرد اور دیگر قدیم ادباء کے اسلوب میں بات چیت کرتے، انھی کا منہج اپناتے اور ان کے رنگ میں پورے طور پر رنگ چکے تھے۔ (۱۶)
دہلی یونیورسٹی کے شعبۂ عربی کے صدر ڈاکٹر سلیمان اشرف کا کہنا ہے کہ دہلی میں منعقد ایک پروگرام میں میں بھی شریک تھا جس میں حکومت قطر کے سفیر وشاعر حسین النعمۃ بھی موجود تھے، لکچر کے دوران لیفٹیننٹ کرنل نارائن نے کہہ دیا: شیخ ابو الحسن علی ندویؔ عربوں جیسی عربی لکھتے تھے، شاعر محترم نے تردید کرتے ہوئے کہہ سنایا: علامہ میمنی جیسی عربی عرب بھی نہیں لکھتے، پھر تھوڑی دیر بعد نارائن جی نے حسین النعمۃ کی بات کی تائید کی۔ (۱۷)
القاب: علامہ میمنی عربی زبان وادب کو زندہ کرنے میں اپنی عمدہ خدمات سے علمی دنیا کے کونے کونے میں خصوصاً عرب دنیا میں جانے جاتے ہیں یہاں تک کہ دمشق سے جاری ہونے والے رسالہ “المجمع العلمي”نے آپ کو علامہ کے لقب سے نوازا، جب استاذ محب الدین خطیب نے اپنی متحقق کتاب “خزانة الأدب للبغدادي” شائع کی تو اس میں استاذ احمد تیمور پاشا اور استاذ میمنی کی تصحیحات واستدراکات بھی شامل کردیا چنانچہ صاحبِ کتاب نے علامہ موصوف کو “العلامة الکبیر الأستاذ” لکھا ہے اور بعض مقامات پہ “حضرۃ العلام الکبیر” اور “من مفخرۃ الھند في سعة الاطلاع علی آداب اللغة العربیة” جیسے القاب سے ملقب فرمایا ہے (۱۸) اور استاذ الأدب ابو الحسن علی ندوی رحمہ اللہ کا قول ہے کہ آپ حجة اللغة العربیة اور بر صغیر ہند وپاک کے لیے باعثِ صد افتخار شخص ہیں۔ (۱۹)
علماء وادباء کی نظر میں: ادبی ولسانی غلطیوں کی تصحیح اور خالص ادب کی نشر واشاعت میں عمدہ کارنامے اور علمی تجربات کی وجہ سے آپ علمی دنیا میں بین الاقوامی شہرت کے مالک بن گئے، زبان کی گیرائی، بحث وتحقیق اور تجزیہ و تنقید میں مابہ الامتیاز خصوصیات نے آپ کو عرب دنیا میں امامِ لغت کا اعزاز بخشا، آپ کی علمی وادبی خدمات کے پیش نظر دمشق کے ‘‘المجمع العلمی’’ نے ۱۹۲۸ء میں آپ کو اپنا ممبر بنا لیا اور اس منصب پر تقریبا پچاس سال تک بحال رکھا، آپ اپنے ہم عصروں میں بلند مقام ومرتبے پر فائز رہے، آپ کے علم وفضل کا اتنا شہرہ ہوا کہ عربی اثاثہ کی تحقیق واشاعت میں آپ کی مساعی جمیلہ کی قدر کرتے ہوئے شامی عربی جمہوریت کے صدر حافظ الاسد نے ۱۹۷۷ء میں آپ کو درجہ اولی کے شامی تمغہ کے ایوارڈ سے نوازا (۲۰)۔ شامی حکومت نے آپ کی علمی وادبی خدمات سے خوش ہوکر آپ کو شامی شہریت (Citizenship) کا شرف بخشا(۲۱) اور آپ قاہرہ اکاڈیمی کے ممبر بھی بن گئے، عربی زبان میں آپ کے عبور ودسترس اور ید طولیٰ کو دیکھتے ہوئے محب الدین خطیب نے عربی ڈکشنری ‘‘لسان العرب لابن منظور’’ کی تصحیح وتحقیق کے لیے بنی چار ماہرین پر مشتمل کمیٹی کا ممبر بھی آپ کو بنادیا، کمیٹی کے باقی تین ممبران احمد تیمور پاشا، ڈاکٹر سالم کرنکو اور سید ابو شنب تھے جن کے زیر نگرانی کتاب کی تصحیح، استدراک اور حسنِ اسلوب کا عمل انجام پاتا تھا (۲۲) اسی طرح آپ کے علمی کارنامے اور ادبی خدمات کا لوہا مانتے ہوئے جامعہ ازہر نے آپ کو ڈاکٹریٹ کی اعزازی ڈگری عطا کی (۲۳)۔متعدد چیدہ علماء وادباء نے آپ کی ادبی خدمات، تحقیقی تالیفات اور علمی کارہائے نمایاں پر تعریفی کلمات لکھے ہیں جن میں بعض مندرجہ ذیل ہیں:
۱۔ مشہور مصری ناول نگار محمود تیمور کے والد محترم علامہ ومحقق احمد تیمور پاشا، رکن مجلسِ مشائخ مصری فرماتے ہیں: ‘‘چند سالوں سے عالمِ اسلام علامہ عبد العزیز میمنی راجکوٹی کی اسلامی، ادبی اور تحقیقی نشریات کو قابلِ رشک نظروں سے دیکھ رہا ہے، ایسی خدمات اسی شخص کی ہوسکتی ہیں جس کے دل میں علم کی محبت پیوست ہوچکی ہو اور جسے حصولِ علم اور تحریری وتدریسی خدمات میں در پیش ہونے والی پریشانیوں سے لذت محسوس ہوتی ہو۔ (۲۴)
۲۔ علامۂ ازہر اور قاضی عدالتِ شرعی مصر احمد محمود شاکر نے “ابو العلاء وما الیه” کی خصوصیات اورتقریظ تحریر کرتے ہوئے اپنی کم مائگی کا ان الفاظ میں اظہار کیا ہے “صاحب کتاب نے سیر حاصل بحث کی ہے اور دلائل کی روشنی میں گہری معلومات، قائل کرنے کی مثالی قوت، باریک بینی اور حسنِ ترتیب کے ساتھ موضوع کی بخوبی وضاحت کی ہے، میں دعا گو ہوں کہ اللہ آپ پر مزید فضل واحسان کرے اور آپ کو زبان وادب اور اسلام واہلِ اسلام کے لیے نفع بخش بنائے۔ (۲۵)
۳۔ مدرسہ قضا شرعی کے مایۂ ناز مدرس، کلیۃ الحقوق جامعہ مصریہ کے مثالی استاذ اور مجمع لغوی کے ممبر علامہ شیخ احمد ابراہیم نے “ابو العلاء وما الیه”کے اخیر میں علامہ میمنی کے لیے فاضل اور رب العلم والادب وغیرہ الفاظ کا استعمال کیا ہے اور مجلہ “زهراء” کا شکریہ ادا کیا ہے جس نے اس منفرد محقق کا صحیح تعارف پیش کرکے دنیا کی نظر میں معزز ومحترم بنا دیا ہے۔(۲۶)
۴۔ صاحبِ ‘‘اعلام’’ استاذ خیر الدین زرکلی نے علامہ میمنی کی مذکرات کی تعریف میں زمین وآسمان کا قلابہ ملا یا ہے اور اسے مصادر ومراجع کے باب میں ذکر کیا ہے چنانچہ لکھتے ہیں: ‘‘علامہ میمنی نے مجھے ایسے اسماء سے آگاہ کیا جس کا سراغ قدیم و نادر مخطوطات میں بھی ناپیدتھے۔ علامہ نے ایسے ناموں اور مخطوطات سے صرف آگاہ ہی نہیں کیا بلکہ مخطوطات کی جگہ سے بھی واقفیت کرائی اور ان ناموں اور مخطوطات سے متعلق اپنی رائے بھی ظاہر کی۔ جب علامہ نے ۱۳۷۷ھ میں مغرب اقصی کی زیارت کی تو وہاں بھی رباط میں موجود چند مخطوطات سے متعلق معلومات فراہم کی۔(۲۷)
۵۔ مجمع اللغہ العربیہ دمشق کے صدر استاذ حسنی سبح نے لکھا ہے: علامہ میمنی سے حد درجہ والہانہ محبت وعقیدت کی وجہ یہ ہے کہ آپ قرآن کی زبان میں تدبرانہ خوبی کے مالک تھے، عربی زبان کے درس وتدریس اور ادبی ولغوی بحر بیکراں میں غوطہ زنی کو اپنا منشور بنالیا تھا اور موتیوں کے حصول میں کامیاب بھی رہے، نادر مخطوطوں کی بحث وتحقیق کے لیے ایک مفکر واسکالر کی حیثیت سے عالمِ اسلام کا سفر کیا اور اس میدان میں آپ امتیازی صفات کے مالک بن گئے، مثلا ابولعلاء المعری کی شخصیت ادبی حلقوں میں ایک طویل مدت سے غموض و تعقید اور شکوک و شبہات کی شکار رہی، آپ نے اپنے علمی و ادبی اجتہاد سے روز روشن کی طرح ان کی شخصیت کو واضح اور آشکارا کردیا۔ مجمع اللغہ العربیہ دمشق کے ساتھ آپ کے روابط نہایت ہی مستحکم تھے اور ‘‘المجمع العلمی’’ کے مجلہ میں تقریبا 30 سال تک آپ کے مقالات شائع ہوتے رہے جو زبان وادب اور علوم پر مشتمل تھے، اور مجمع اللغہ العربیہ دمشق کے بانی اور صدر استاذ کرد علی اور آپ کے درمیان عربی لغت و ادب سے متعلق خطوط و مراسلات کے تبادلے ہوتے رہتے تھے۔(۲۸)
۶۔ مجمع اللغہ العربیہ دمشق کے سابق صدر ڈاکٹر فحام شاکرتحریر فرماتے ہیں: ‘‘علامہ میمنی اپنے فن کے امام ہیں، اہلِ علم نے آپ کی قدر ومنزلت کو بخوبی پہچانا ہے، اہلِ ہند عربی زبان کی خدمات میں آپ کی اہلیت کی صحیح تصویر نہیں پیش کرپائے، دمشق میں آپ کا قیام بہت غنیمت رہا کیوں کہ علماء وادباء آپ کے رابطے میں آگئے، آپ کی نشستوں میں شرکت کی اور آپ کے بے پناہ علم سے استفادہ کیا، استنبول سے عربی ممالک لوٹتے ہوئے حلب، دمشق اور عراق سے آپ کا گزر ہوا،ا س دوران زبان وادب کے چیدہ چیدہ علماء نے آپ سے ملاقات کی، علمی تشنگی بجھائی اور تعلقات استوار کیے، آستانہ سے حلب واپسی میں ۱۳۵۵ھ میں شیخ راغب طباخ نے “بغیة الطلب في تاریخ حلب لابن العدیم” کتاب کے مخطوطوں کی معلومات حاصل کرنے کے لیے آپ سے ملاقات کی تو آپ کو اس فن کا امام پایا، دمشق سے گزرتے ہوئے استاذ عز الدین تنوخی بھی شاعر احمد صافی نجفی کی زیارت کے لیے آپ کے ساتھ ہولیے اور مقصد محمدبن داؤد جراح کی کتاب الورقہ کے ناپید نسخہ کی معلومات حاصل کرنا تھا۔(۲۹)
مجمع اللغہ العربیہ قاہرہ، دمشق،اردن اور عراق کے رکن نے شیخ حمد جاسر صحیفہ الیمامہ کے ایک مضمون میں لکھا ہے: ‘‘عربی زبان وادب میں علامہ کی اتنی خوبیاں بیان کی گئی ہیں جتنی اس دور کے ان بڑے علماء کی نہیں بیان کی گئی ہیں جنھیں یہ زبان وراثت میں ملی ہے’’(۳۰)
علمی وادبی کارنامے: علامہ میمنی نے درس وتدریس اور بحث وتحقیق کے ذریعے عربی زبان وادب کی خدمت میں اپنی پوری زندگی صرف کی ہے، آپ نے اس فن کے بے شمار تحقیقی مقالے تیار کیے، گراں قدر اثاثے کو زندہ فرمایا اور تیس سے زائد کتابیں تصنیف کیں جو کل یا بیشتر عالمِ عرب میں چھپ چکی ہیں، بعض اہم کتابیں مندرجہ ذیل ہیں:
1- ديوان حميد بن ثور الهلالي: مطبعة دار الكتب المصرية القاهرة 1951م
2- نسب عدنان وقحطان لأبي العباس المبرد: مطبعة لجنة التأليف والترجمة والنشر، القاهرة 1936م
3- أبواب مختارة من كتاب أبي يوسف يعقوب بن إسحاق الأصبهاني، نسخها وعلق عليها عبد العزيز الميمني: المطبعة السلفية بالقاهرة 1350هـ
4- انتقى من شعر ابن رشيق وزميله ابن شرف القيروانيين: المطبعة السفلية بالقاهرة 1343هـ
5- ابن رشيق القيرواني: المطبعة السلفية بالقاهرة 1343هـ
6- سمط اللآلي شرح أمالي للقالي: لجنة التأليف والترجمة والنشر 1936م
7- فهارس سمط اللآلي: لجنة التأليف والترجمة والنشر بالقاهرة 1937م
8- إقليد الخزانة أو فهرس الكتب النادرة في خزانة الأدب: جامعة بنجاب 1927م
9- من نسب إلى أمه من الشعراء: مجلة مجمع اللغة العربية بدمشق 1978م
10- ما اتفق لفظه واختلف معناه من القرآن المجيد: المطبعة السلفية بالقاهرة 1350هـ
11- رسائل الملائكة لأحمدبن عبد الله بن سليمان القضاعي التنوخي أبو العلاء المعري: المطبعة السلفية بالقاهرة 1354هـ
12- أبو العلاء وما إليه: المطبعة السلفية بالقاهرة 1344هـ
13- فائت شعر أبي العلاء: المطبعة السلفية بالقاهرة 1345هـ
14- ديوان سحيم بن عبد بني الحسحاس: مطبعة دار الكتب المصرية 1950م
15- الطرائف الأدبية: لجنة التأليف والترجمة والنشر بالقاهرة 1927م
بلا شبہ علامہ کے ادبی وعلمی کارنامے گوناگوں، متنوع اور بہت زیادہ ہیں، آپ کی اہم کتابوں میں سے ایک کتاب ابوالعلاء و ما الیہ ہےجسے علامہ میمنی نے ابوالعلاء المعری کی حیات ، افکار و نظریات سے متعلق لکھا جو کہ اکثر عربی کتابوں میں غموض و التباس کا شکار رہے۔ مؤرخین، محققین، تنقید نگاروں اور انشاء پردازوں نے معری کی عظیم مگر مثالی شخصیت کے بارے میں مختلف نظریات قائم کیا ہے، پوری تاریخ میں معری ہمیشہ موضوع بحث بنے رہے ہیں، ان کی شخصیت اور فلسفیانہ نظریات پر مختلف قسم کے مقالے لکھے گئے ہیں، جب علمی دنیا میں ڈاکٹر طہ حسین کی آمد ہوئی اور پی ایچ ڈی کا مقالہ ‘‘ذکری ابی العلاء’’ کتابی شکل میں ۱۹۱۴ء میں منظر عام پر آیا جس کی تالیف وترتیب میں عربی اسکالر نے آٹھ سال کا قیمتی وقت صرف کیا تھا تو اس کتاب نے عالمِ عرب میں پھر ایک بار ہلچل مچادیا، بعض لوگوں نے اسے خوب سراہا تو وہیں بعض حضرات نے اسے ہدفِ تنقید بنا ڈالا، دنیا کے کونے کونے میں اس کا خوب شہرہ ہوا، یہ صدائے باز گشت برصغیر ہند میں بھی سنائی دی، جب علامہ میمنی کو حقیقت حال کی خبر لگی تو آں موصوف نے ‘‘ابو العلاء وما الیہ’’ نام سے ایک معرکۃ الآراء کتاب تصنیف کی جس میں ڈاکٹر طہ حسین اور ان کے ہم نواؤوں کے دلائل کا مسکت ومنطقی جواب دیا، معری کے زمانے کی صحیح تاریخ پیش کی، ان کے نظریات کو صحیح ثابت کیا اور متقدمین ومتأخرین کے افکار کا تجزیہ کیا اور ان حقائق سے پردہ اٹھایا جو دوسروں پر مخفی رہ گئے تھے یا التباس ہوگیاتھا، ان کی حیات مبارکہ اور انسانوں وحیوانوں کے متعلق ان کے عقائد ونظریات اور فلسفے کے بارے میں تمام تر شبہات کا ازالہ فرمایا۔
علامہ میمنی کی یہ کتاب علمی وادبی دنیا میں شہرت کے بامِ عروج پر پہنچ گئی، ماہر ادباء نے خوب تعریف کی اور استاذ ابوالحسن ندوی رحمہ اللہ نے واضح الفاظ میں صراحت کردی کہ علامہ میمنی کی کتاب ڈاکٹر طہ حسین کی کتاب پر بدرجہا فوقیت رکھتی ہے۔(۳۰)
مراجع ومصادر:
1. العلامة عبد العزیز المیمني حیاته وآثارہ واسلوب بحثه وتحقیقه لمحمد اسماعیل الاویری (رسالة الدکتوراہ) جامعہ کرانچی ۲۰۰۶م غیر مطبوع، ص۲۱
2. نفس مصدر
3. علامہ عبد العزیز میمنی حیات وخدمات، دکتور مختار الدین احمد آرزو، مجموعہ مضامین سمینار منعقدہ ۲۰۰۳ شعبہ عربی، علی مسلم یونیورسٹی ، ص۳۷
4. العلامة عبد العزیز المیمني حیاته وآثارہ واسلوب بحثه وتحقیقه لمحمد اسماعیل الاویری، ص۲۷
5. آزاد ہندوستان میں عربی زبا وادب – ڈاکٹر محمد ارشاد ندوی نوگانوی، ناشر فرقان بکڈپو لکھنؤ ۲۰۰۹، ص۲۵۶
6. بر صغیر میں اہل حدیث کی اولیات، محمد اسحاق بھٹی، دار ابی الطیب للنشر والتوزیع ۲۰۱۲، ص۱۶۰
7. جوانب مجھولة من حیاۃ عبد العزیز المیمني الراجکوتی للاستاذ ظھور احمد اظهر: مجلة آفاق الثقافة والتراث، دولة الامارات العربیة المتحدۃ، العدد ۲۹- ۳۰، جولائی ۲۰۰۰، ص۱۵۳
8. العلامة عبد العزیز المیمني حیاته وآثارہ واسلوب بحثه وتحقیقه لمحمد اسماعیل الاویری ، ص۳۵
9. جوانب مجھولة من حیاۃ عبد العزیز المیمني الراجکوتی للاستاذ ظھور احمد اظهر ، ص۱۶۲
10. نفس مصدر
11. نفس مصدر
12. ابو الحسن علی ندوی، عدد خاص علامہ عبد العزیز میمنی: مجلۃ مجمع العلمی الھندی، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی، جون ۱۹۸۵ء، ص ز
13. عبد العزیز میمني لأحمد خاں: مجلة مجمع العلمی الھندي، ص۱۹
14. جوانب مجھولة من حیاۃ عبد العزیز المیمني الراجکوتی للاستاذ ظھور احمد اظهر ، ص۱۶۳
15. نفس مصدر ۱۶۳
16. نفس مصدر ۱۶۳
17. عبد العزیز المیمني الراجکوتی الأثري واسلوبه فی کتابة العربیة للدکتور سلیمان اشرف، علامہ عبد العزیز میمنی حیات وخدمات، مجموعہ سمینار منعقدہ ۲۰۰۳ شعبہ عربی، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی، ص۵
18. العلامة عبد العزیز المیمني حیاته وآثارہ واسلوب بحثه وتحقیقه لمحمد اسماعیل الاویری، ص۳۹
19. العلامة عبد العزیز المیمني في ذکری مرور مائة عام علی مولودي لمحمد مطیع الحافظ، مجلة مجمع اللغة العربیة لدمشق، المجلد ۶۳، الجزء الأول، جمادی الأول ۱۴۰۸ھ ، ص۱۰۳
20. عبد العزیز المیمني للدکتور فحام شاکر: مجلة مجمع اللغة العربیة بدمشق، المجلد ۵۴، الجزء الأول، جنوری ۱۹۷۹، ص۲۵۷
21. العلامة عبد العزیز المیمني: مؤلفا ومحققا للدکتور راشد ندوي: مجلۃ البعث الاسلامی، ندوۃ العلماء لکھنؤ، عدد ثانی، مجلد ۲۹، اگست ۱۹۸۴، ص۴۷
22. الشیخ عبد العزیز المیمني حیاۃ علمیة زاخرۃ، پروفیسر مسعود الرحمن خان ندوی، مجموعہ مضامین سمینار منعقدہ ۲۰۰۳، شعبہ عربی علی گڑھ مسلم یونیورسٹی، ص۲۱
23. العلامة عبد العزیز المیمني حیاته وآثارہ واسلوب بحثه وتحقیقه لمحمد اسماعیل الاویری، ص۳۷
24. ابو العلاء وما الیه، عبد العزیز میمنی راجکوٹی اثری: المطبعة السلفیة القاھرۃ ۱۳۴۴ھ، ص ب
25. نفس مصدر
26. نفس مصدر
27. الأعلام لخیر الدین الزرکلي: دار القلم للملایین، بیروت لبنان، مجلد ۸، ۳۳۶
28. العلامة عبد العزیز المیمني في ذکری مرور مائة عام علی مولودی لمحمد مطیع الحافظ، ص۱۰۲
29. عبد العزیز المیمني للدکتور فحام شاکر: مجلة مجمع اللغة العربیة بدمشق، ص۲۶۳
30. حیاۃ العلامة عبد العزیز المیمني وانتاجة العلمي والأدبي للدکتور فوزان احمد، رسالة الدکتوراہ بقسم اللغة العربیة وآدابھا بالجامعة الملیة الاسلامیة، ۲۰۰۶، ص۵۲۹
آپ کے تبصرے