اللہ تعالیٰ نے اس کار گاہ عالم فانی میں خوشی و غم، آرام و تکلیف ، بیماری و تندرستی اور طرح طرح کی راحتوں اور مصیبتوں کو پیدا فرمایا ہے۔ انسان کو وہ کبھی نعمتیں عطا کرکے آزماتا ہے تو کبھی نعمتیں چھین کر اس کا امتحان لیتا ہے ۔ انسان جہاں متنوع انعامات و اکرامات سے بہرہ ور ہوتا ہے وہیں گوناگوں مصائب و آلام میں گھرا بھی رہتا ہے ۔ ابتدائے آفرینش سے ہی انسانی زندگی حوادث و تقلبات کا شکار رہی ہے اور قیامت تک دکھ سکھ کا سلسلہ جاری رہے گا ۔ نعمت کے حصول کے وقت انسان کو اللہ کا شکر ادا کرنا چاہیے اور مصیبت سے نجات حاصل کرنے کے لیے صرف اسی کو پکارنا چاہیے ۔ اللہ تعالیٰ نے پریشانیوں سے نجات حاصل کرنے کے لیے مختلف تدابیر و اسباب مقرر فرما دیے ہیں اور انسان کی ان کی جانب رہنمائی بھی کردی ہے ۔ رنج و غم اور تکلیف و مصیبت وہی دینے والا ہے اور مصیبتوں کو دور فرما کر راحت و آرام اور صحت و تندرستی عطا کرنے والا بھی وہی ہے ۔ وہ ہر چیز پر قادر ہے ۔ اس کے پاس کسی چیز کی کمی نہیں ۔ اسے یہ بات بہت زیادہ پسند ہے کہ اسے بندہ پکارے۔ اسی پکار کو دعا کہتے ہیں ۔
اللہ تعالیٰ ہی بے چین و بے قرار کی فریاد سنتا ہے اور اس کی مصیبتوں کو دور کرتا ہے ۔ اس کے علاوہ کسی بھی چیز میں حاجت روائی اور مشکل کشائی کی قدرت نہیں ہے ۔ اس کے علاوہ جتنی بھی مخلوقات ہیں سب کی سب عاجز، بے بس اور محتاج ہیں ۔ اس لیے ہر حال میں اللہ وحدہ لاشریک لہ ہی کو پکارنا چاہیے۔ اس کے علاوہ کسی اور کو پکارنا اور اسے مشکل کشا ، حاجت روا ، غریب نواز وغیرہ سمجھنا کھلی گمراہی ہے۔ ارشادِ باری ہے:
وَمَنْ أَضَلُّ مِمَّن يَدْعُواْ مِن دُونِ ٱللَّهِ مَن لَّا يَسْتَجِيبُ لَهُۥٓ إِلَىٰ يَوْمِ ٱلْقِيَٰمَةِ وَهُمْ عَن دُعَآئِهِمْ غَٰفِلُونَ(الأحقاف:5)
اور اس سے بڑھ کر کون گمراہ ہے جو اللہ کے سوا اسے پکارتا ہے جو قیامت تک اس کے پکارنے کا جواب نہ دے سکے اور انھیں ان کے پکارنے کی خبر بھی نہ ہو۔
ایک جگہ فرمایا:
إِنَّ ٱلَّذِينَ تَدْعُونَ مِن دُونِ ٱللَّهِ عِبَادٌ أَمْثَالُكُمْ ۖ فَٱدْعُوهُمْ فَلْيَسْتَجِيبُواْ لَكُمْ إِن كُنتُمْ صَٰدِقِينَ(الأعراف:194)
بے شک جنھیں تم اللہ کے سوا پکارتے ہو وہ تمھاری طرح بندے ہیں، پھر انھیں پکار کر دیکھو پس چاہیے کہ وہ تمھاری پکار کو قبول کریں اگر تم سچے ہو۔
ایک اور جگہ فرمایا:
وَٱلَّذِينَ تَدْعُونَ مِن دُونِهِۦ لَا يَسْتَطِيعُونَ نَصْرَكُمْ وَلَآ أَنفُسَهُمْ يَنصُرُونَ(الأعراف:197)
اور جنھیں تم اللہ کے سوا پکارتے ہو وہ تمھاری مدد نہیں کر سکتے اور نہ اپنی جان کی مدد کر سکتے ہیں۔
مذکورہ آیات سے یہ بات واضح ہو چکی کہ اللہ کے علاوہ سب ہیچ اور بے بس ہیں۔ سب کے سب اللہ کے محتاج ہیں ۔ اس کے علاوہ کوئی کسی کی مدد کر سکتا ہے اور نہ ہی تکلیف دور کر سکتا ۔ صرف اور صرف اللہ ہی ہے جو سب کی مدد کرتا ہے۔ وہی بگڑی بنانے والا، اولاد دینے والا ، مصائب و مشکلات کو دور کرنے والا اور حاجت روائی کرنے والا ہے۔ اس لیے انسان کو چاہیے کہ ہر حال میں اسی کو پکارے اور اس پکار میں کسی دوسرے کو ہر گز ہرگز شریک نہ کرے۔اللہ کا فرمان ہے:
وَأَنَّ ٱلْمَسَٰجِدَ لِلَّهِ فَلَا تَدْعُواْ مَعَ ٱللَّهِ أَحَدًا(الجن:18)
اور بے شک مسجدیں اللہ کے لیے ہیں پس تم اللہ کے ساتھ کسی کو نہ پکارو۔
دوسری جگہ فرمایا:
وَلَا تَدْعُ مِن دُونِ ٱللَّهِ مَا لَا يَنفَعُكَ وَلَا يَضُرُّكَ ۖ فَإِن فَعَلْتَ فَإِنَّكَ إِذًا مِّنَ ٱلظَّٰلِمِينَ(يونس:106)
اور اللہ کے سوا ایسی چیز کو نہ پکار جو نہ تجھے فائدہ پہنچائے اور نہ نقصان، پھر اگر تو نے ایسا کیا تو بے شک ظالموں میں سے ہو جائے گا۔
قرآن کریم میں اس قسم کی بے شمار آیتیں ہیں کہ ہر حال میں اللہ تعالیٰ ہی کو پکارنا چاہیے ۔ اسی سے لو لگانا چاہیے ۔ بندہ جب اس سے مانگتا ہے تو وہ خوش ہوتا ہے اور نہ مانگنے پر ناراض ہوتا ہے ۔ایک حدیث میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مَن لم يسألِ اللهَ يغضبْ علَيهِ(صحيح الترمذي:3373)
جو اللہ سے نہیں مانگتا اللہ اس سے ناراض ہو جاتا ہے ۔
یعنی دنیا والے مانگنے سے ناراض ہوتے ہیں ، مگر اللہ تعالیٰ مانگنے سے خوش اور نہ مانگنے سے ناراض ہوتا ہے ۔ کسی نے کیا ہی خوب کہا ہے:
لا تسأل بني آدم حاجة- واسأل الذي أبوابه لا تحجب
الله يغضب إن تركت سؤاله – وابن آدم حين يسأل يغضب
یعنی کسی انسان سے اپنی حاجت مت مانگو۔ اس سے مانگو جس کے کرم و بخشش کے دروازے ہمیشہ کھلے رہتے ہیں ، کبھی بند نہیں ہوتے۔ اگر اللہ تعالیٰ سے مانگنا چھوڑ دوگے تو وہ ناراض ہو جائے گا اور انسان سے جب مانگو گے تو وہ ناراض ہو جائے گا ۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إنَّ ربَّكم حييٌّ كريمٌ يستحيي من عبدِه أن يرفعَ إليه يدَيْه فيرُدَّهما صِفرًا (صحيح ابن ماجة:3131)
تمھارا رب بڑا ہی حیا و کرم والا ہے ۔ جب کوئی بندہ دونوں ہاتھ اٹھا کر دعا کرتا اور مانگتا ہے تو اس کو خالی ہاتھ واپس کرتے ہوئے اسے شرم آتی ہے ۔
اللہ تعالیٰ انتہائی بخشنے والا اور بے حد مہربان ہے ۔ بڑے سے بڑا گناہ گار اور مجرم بھی اگر اپنے گناہ اور جرم پر پشیمان ہوکر توبہ واستغفارکرے تو اللہ تعالیٰ اسے معاف فرما دیتا ہے ۔ ارشادِ باری ہے: وَمَنْ يَعْمَلْ سُوءًا أَوْ يَظْلِمْ نَفْسَهُ ثُمَّ يَسْتَغْفِرِ اللَّهَ يَجِدِ اللَّهَ غَفُورًا رَحِيمًا(النساء:115)
جو شخص کوئی برائی کرے یا (گناہ کا ارتکاب کر کے) اپنی جان پر ظلم کرے، پھر اللہ تعالیٰ سے معافی طلب کرے تو وہ اللہ تعالیٰ کو انتہائی بخشنے والا اور بے حد مہربان پائے گا۔
ایک اور حدیث قدسی میں ہے:
يا ابنَ آدمَ إنَّكَ ما دعوتَني ورجوتَني غفَرتُ لَكَ على ما كانَ فيكَ ولا أبالي، يا ابنَ آدمَ لو بلغت ذنوبُكَ عَنانَ السَّماءِ ثمَّ استغفرتَني غفرتُ لَكَ، ولا أبالي، يا ابنَ آدمَ إنَّكَ لو أتيتَني بقرابِ الأرضِ خطايا ثمَّ لقيتَني لا تشرِكُ بي شيئًا لأتيتُكَ بقرابِها مغفرةً(صحيح الترمذي:3540)
اے آدم کے بیٹے! جب تک تو مجھ سے دعائیں کرتا رہے گا اور مجھ سے اپنی امیدیں اور توقعات وابستہ رکھے گا میں تجھے بخشتا رہوں گا، چاہے تیرے گناہ کسی بھی درجے پر پہنچے ہوئے ہوں، مجھے کسی بات کی پرواہ و ڈر نہیں ہے، اے آدم کے بیٹے! اگر تیرے گناہ آسمان کو چھونے لگیں پھر تو مجھ سے مغفرت طلب کرنے لگے تو میں تجھے بخش دوں گا اور مجھے کسی بات کی پرواہ نہ ہو گی۔ اے آدم کے بیٹے! اگر تو زمین برابر بھی گناہ کر بیٹھے اور پھر مجھ سے ( مغفرت طلب کرنے کے لیے ) ملے لیکن میرے ساتھ کسی طرح کا شرک نہ کیا ہو تو میں تیرے پاس اس کے برابر مغفرت لے کر آؤں گا ۔ ( اور تجھے بخش دوں گا ) ۔
حضرت ابو موسی رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:إنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَبْسُطُ يَدَهُ باللَّيْلِ لِيَتُوبَ مُسِيءُ النَّهَارِ، وَيَبْسُطُ يَدَهُ بالنَّهَارِ لِيَتُوبَ مُسِيءُ اللَّيْلِ، حتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ مِن مَغْرِبِهَا.(مسلم:2759)
بے شک اللہ تعالیٰ اپنا دست رحمت رات کے وقت پھیلاتا ہے تاکہ دن میں گناہ کرنے والا شخص توبہ کرلے۔ اسی طرح دن کے وقت بھی اپنا دست رحمت پھیلاتا ہے تاکہ رات میں گناہ کرنے والا آدمی توبہ کرلے ۔ یہاں تک کہ سورج مغرب سے طلوع ہو جائے۔
دعا اور ماہ رمضان المبارک:
قرآن کریم کی سورۂ بقرہ میں اللہ تعالیٰ نے آیت نمبر 183 سے 187تک رمضان اور روزے کے متعلق بہت سارے احکام ومسائل کو بیان کیا ہے ۔ لیکن ایک قابلِ غور بات یہ ہے کہ درمیان میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
وَإِذَا سَأَلَكَ عِبَادِي عَنِّي فَإِنِّي قَرِيبٌ أُجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ فَلْيَسْتَجِيبُوا لِي وَلْيُؤْمِنُوا بِي لَعَلَّهُمْ يَرْشُدُونَ [سورة البقرة:186]
اور جب آپ سے میرے بندے میرے متعلق سوال کریں تو میں نزدیک ہوں، دعا کرنے والے کی دعا قبول کرتا ہوں جب وہ مجھے پکارتا ہے، پھر چاہیے کہ میرا حکم مانیں اور مجھ پر ایمان لائیں تاکہ وہ ہدایت پائیں۔
اس سے واضح طور پر یہ بات معلوم ہوئی کہ ماہ رمضان کا دعا سے خاص تعلق ہے ۔ اس لیے روزے کے دوران میں زیادہ سے زیادہ دعا، استغفار اور ذکر الہی کرنا چاہیے ۔ کیوں کہ روزے دار کی دعا ان دعاؤں میں سے ہے جو اللہ تعالیٰ کے یہاں قبول ہوتی ہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
«ثلاثُ دَعَواتٍ لا تُرَدُّ: دَعوةُ الوالِدِ، ودَعوةُ الصَّائِمِ، ودَعوةُ المُسافِرِ»(صحيح الجامع الصغير للألباني:3032)
تین دعائیں رد نہیں کی جاتیں۔اپنی اولاد کے لیے والد کی دعا، روزے دار کی دعا اور مسافر کی دعا ۔
ایک روایت میں فرمایا:
«ثلاثُ دعواتٍ مُستجاباتٌ : دعوةُ الصائم ، ودعوةُ المظلومِ ، ودعوة المسافر»(صحيح الجامع الصغير للألباني:3030)
تین دعائیں قبول کی جاتی ہیں : روزے دار کی دعا ، مظلوم کی دعا اور مسافر کی دعا ۔
خاص طور پر افطاری کے وقت ضرور دعا کا اہتمام کرنا چاہیے کیوں کہ یہ وقت قبولیت کے اوقات میں سے ہے ۔ جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشادِ گرامی ہے:
«إنَّ للصَّائمِ عند فطرِه لدعوةً ما تُردُّ»( ابن ماجہ: 1753-قال في الزوائد: إسناده صحيح)
بے شک روزے دار کی ، افطاری کے وقت ایک دعا ایسی ہوتی ہے جسے رد نہیں کیا جاتا ۔
رمضان المبارک میں دعا کی قبولیت کے بے شمار امکانات و مواقع ہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی وجہ سے اپنی امت کو اس ماہ مقدس کی قدر و قیمت کو سمجھنے اور اس کے سنہری لحظات و لمحات سے بھرپور مستفید ہونے کی ترغیب دی ہے ۔ مختلف احادیث میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس ماہ بابرکت کی آمد کی بشارت سنائی ہے اور اس کے فضائل و برکات سے بہرہ ور ہو نے کی تلقین کی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس ماہ کے پالینے کو خوش بختی کی علامت قرار دیا ہے ۔ چنانچہ حضرت طلحہ بن عبید اللہ بیان کرتے ہیں کہ دو آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور دونوں بیک وقت مشرف بہ اسلام ہوئے،اس کے بعد ان میں سے ایک آدمی زیادہ عبادت کرتے ہوئے اللہ کی راہ میں شہید ہوگیا، جبکہ دوسرا آدمی جو پہلےآدمی کی نسبت کم عبادت گزار تھا، اس کی شہادت کے ایک سال بعد فوت ہوا۔ حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے خواب میں دیکھا کہ یہ دوسرا آدمی شہادت پانے والے آدمی سے پہلے جنت میں داخل ہوا ہے، جب صبح ہوئی تو میں نے یہ خواب لوگوں کو سنایا جس پر انھوں نے تعجب کا اظہار کیا، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کیا یہ (دوسرا آدمی ) پہلے آدمی کے بعد ایک سال تک زندہ نہیں رہا ؟ جس میں اس نے رمضان کا مہینہ پایا، اس کے روزے رکھے، اور سال بھر اتنی اتنی نمازیں پڑھیں ؟ تو ان دونوں کے درمیان (جنت میں ) اتنا فاصلہ ہے جتنا آسمان و زمین کے درمیان۔(صحیح ابوداؤد :3925 )
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان المبارک کی آمد کی بشارت سناتے ہوئے فرمایا :
«أتاكُم رَمضانُ شَهرٌ مبارَك ، فرَضَ اللَّهُ عزَّ وجَلَّ عليكُم صيامَه ، تُفَتَّحُ فيهِ أبوابُ السَّماءِ ، وتغَلَّقُ فيهِ أبوابُ الجحيمِ ، وتُغَلُّ فيهِ مَرَدَةُ الشَّياطينِ ، للَّهِ فيهِ ليلةٌ خيرٌ من ألفِ شَهرٍ ، مَن حُرِمَ خيرَها فقد حُرِمَ»(صحیح نسائی:2106)
تم پر ماہ رمضان سایہ فگن ہو چکا ہے جو کہ ایک با برکت مہینہ ہے، اللہ تعالی نے تم پر اس کے روزے فرض کیے ہیں،اس میں جنت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں اور جہنم کے دروازے بند کر دیے جاتے ہیں، متمردو سرکش شیاطین پا بجولاں کر دیے جاتے ہیں، اس میں اللہ کی ایک رات ایسی ہے جو ہزار مہینوں سے افضل ہے ،جو شخص اس کی خیر سے محروم ہوجائے وہی در اصل حرمان نصیب ہوتا ہے ۔
ایک اور جگہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
«إذا كانَ أوَّلُ ليلةٍ من شَهْرِ رمضانَ : صُفِّدَتِ الشَّياطينُ ومرَدةُ الجنِّ ، وغُلِّقَت أبوابُ النَّارِ فلم يُفتَحْ منها بابٌ ، وفُتِّحَت أبوابُ الجنَّةِ فلم يُغلَقْ منها بابٌ ، ويُنادي مُنادٍ يا باغيَ الخيرِ أقبِلْ ، ويا باغيَ الشَّرِّ أقصِرْ وللَّهِ عُتقاءُ منَ النَّارِ ، وذلكَ كلُّ لَيلةٍ»(صحیح ترمذی:683)
جب ماہ رمضان کی پہلی رات آتی ہے تو شیطانوں اور سرکش جنوں کو جکڑ دیا جاتا ہے۔ جہنم کے دروازے بند کر دیے جاتے ہیں اور اس کا کوئی دروازہ کھلا نہیں چھوڑا جاتا۔ اور جنت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں اور اس کا کوئی دروازہ بند نہیں چھوڑا جاتا۔ اور ایک اعلان کرنے والا پکار کر کہتا ہے:اے خیر کے طلبگار! آگے بڑھ، اور اے شر کے طلبگار! اب تو رک جا۔
ویسے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سال کے بارہ مہینوں میں خیر کا کام کرتے اور اپنی امت کو اس کی ترغیب دیتے تھے لیکن رمضان المبارک کے مہینے میں آپ کے سخاوت و خیر سگالی کے جذبے میں مزید اضافہ ہو جاتا۔ حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں:
«كانَ النبيُّ صَلَّى اللهُ عليه وسلَّمَ أجْوَدَ النَّاسِ بالخَيْرِ، وكانَ أجْوَدُ ما يَكونُ في رَمَضَانَ حِينَ يَلْقَاهُ جِبْرِيلُ، وكانَ جِبْرِيلُ عليه السَّلَامُ يَلْقَاهُ كُلَّ لَيْلَةٍ في رَمَضَانَ، حتَّى يَنْسَلِخَ، يَعْرِضُ عليه النبيُّ صَلَّى اللهُ عليه وسلَّمَ القُرْآنَ، فَإِذَا لَقِيَهُ جِبْرِيلُ عليه السَّلَامُ، كانَ أجْوَدَ بالخَيْرِ مِنَ الرِّيحِ المُرْسَلَةِ».(بخاری:1902)
نبی کریم ﷺ سخاوت اور خیر کے معاملہ میں سب سے زیادہ سخی تھے اور آپ ﷺ کی سخاوت اس وقت اور زیادہ بڑھ جاتی تھی جب جبریل علیہ السلام آپ سے رمضان میں ملتے ، جبریل علیہ السلام آنحضرت ﷺ سے رمضان شریف کی ہر رات میں ملتے یہاں تک کہ رمضان گزر جاتا ۔ نبی کریم ﷺ جبریل علیہ السلام سے قرآن کا دور کرتے تھے ، جب حضرت جبریل آپ سے ملنے لگتے تو آپ چلتی ہوا سے بھی زیادہ بھلائی پہنچانے میں سخی ہو جایا کرتے تھے ۔
خاص طور پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم رمضان المبارک کے آخری عشرے میں عبادت کے لیے بالکل کمر بستہ ہو جاتے اور اپنے اہل و عیال کو اس کی ترغیب دیتے ۔ چنانچہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان فرماتی ہیں :
«كانَ النبيُّ صَلَّى اللهُ عليه وسلَّمَ إذَا دَخَلَ العَشْرُ شَدَّ مِئْزَرَهُ، وأَحْيَا لَيْلَهُ، وأَيْقَظَ أهْلَهُ»(بخاری:2024)
جب آخری عشرہ شروع ہوتا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کمر بستہ ہو کر خوب عبادت کرتے، رات بھر جاگتے اور اپنے گھر والوں کو بھی جگاتے۔
ایک اور روایت میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان فرماتی ہیں:
«كانَ رَسولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عليه وسلَّمَ يَجْتَهِدُ في العَشْرِ الأوَاخِرِ، ما لا يَجْتَهِدُ في غيرِهِ.»(مسلم:1175)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عبادات میں جتنی محنت آخری عشرے میں کرتے اتنی کبھی نہیں کرتے تھے۔
آخری عشرے میں عبادت کی سب سے بہتر شکل یہ ہے کہ دنیاوی امور سے بالکل منقطع ہو کر بندہ اللہ کی طرف متوجہ ہو جائے اور اس کے تقرب کے حصول کے لیے بالکل یکسو ہو جائے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا معمول تھا کہ آپ اس عشرے کو اعتکاف میں گزارتے تھے ۔ جیسا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان فرماتی ہیں:
«أنَّ النبيَّ صَلَّى اللهُ عليه وسلَّمَ كانَ يَعْتَكِفُ العَشْرَ الأوَاخِرَ مِن رَمَضَانَ حتَّى تَوَفَّاهُ اللَّهُ، ثُمَّ اعْتَكَفَ أزْوَاجُهُ مِن بَعْدِهِ»(بخاری:2026)
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رمضان المبارک کا آخری عشرہ اعتکاف میں گزارتے تھے ۔ یہاں تک کہ آپ کا انتقال ہو گیا ۔پھر آپ کے بعد آپ کی بیویاں اعتکاف میں بیٹھنے لگیں۔
اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے طرزِ عمل کی اتباع کرتے ہوئے ہم سب کو اس مہینے میں زیادہ سے زیادہ نیک اعمال کرنا چاہیے ۔ دعا و مناجات اور توبہ واستغفار کے ذریعے اللہ تعالیٰ کی خوشنودی حاصل کرنے کی بھرپور کوشش کرنی چاہیے ۔ بلا شبہ رمضان المبارک کا مہینہ نیکیوں کا موسم بہار ہے۔ اس میں قیام اللیل کی بھی بڑی فضیلت وارد ہوئی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
«مَن قَامَ رَمَضَانَ إيمَانًا واحْتِسَابًا، غُفِرَ له ما تَقَدَّمَ مِن ذَنْبِهِ.»(بخاری:37)
جو شخص ایمان کے ساتھ اور طلب ثواب کے لیے رمضان مہینے میں قیام کرے تو اس کے گزشتہ گناہ بخش دیےجاتےہیں۔
اس مہینے میں ایک رات آتی ہے جسے شب قدر کہا جاتا ہے ، اس کی عبادت ہزار مہینوں کی عبادت سے افضل ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
«مَن قَامَ لَيْلَةَ القَدْرِ إيمَانًا واحْتِسَابًا، غُفِرَ له ما تَقَدَّمَ مِن ذَنْبِهِ» (بخاری:1901)
جو ایمان کے ساتھ اور طلب اجر و ثواب کی خاطر لیلةالقدر کا قیام کرے اس کے سابقہ گناہ معاف کردیے جاتے ہیں ۔
دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس ماہ مبارک کی قدر و قیمت کو صحیح سے سمجھنے، شریعت کے بیان کردہ آداب و شرائط کو ملحوظ رکھتے ہوئے زیادہ سے زیادہ توبہ واستغفار کرنے اور اس کے فضائل و برکات سے مستفیض ہونے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین


آپ کے تبصرے