آج کچھ بھی نہ ہمیں یاد رہا پہلی دفعہ

حمود حسن فضل حق مبارکپوری شعروسخن

آج کچھ بھی نہ ہمیں یاد رہا پہلی دفعہ

نہ کوئی عشق نہ ہی رسم وفا پہلی دفعہ


یعنی تحصیل محبت کا بھرم قائم ہے

بے سبب آج ہوا ہے وہ خفا پہلی دفعہ


وہیں منسوب ہوا اہل فنا کا قصہ

لے رہا تھا میں جہاں درس بقا پہلی دفعہ


ایسے تعبیر کو تکتی ہیں ہماری آنکھیں

جیسے کافر کو ملے کوئی خدا پہلی دفعہ


پا بہ جولاں بھی اگر ہوتے تو دوڑے آتے

ایسے انداز سے آئی ہے صدا پہلی دفعہ


اشک تھا آنکھوں میں اور حرف دعا یاد نہ تھا

کر رہا تھا وہ مرے حق میں دعا پہلی دفعہ


موت آئی کہ محبت کا اٹھا شور نشور

مٹ گئے سارے ستم، جور و جفا پہلی دفعہ


ان کے پہلو میں تجھے دیکھ کے افسردہ حسن

مل گئی سارے رقیبوں کو شفا پہلی دفعہ

آپ کے تبصرے

3000